سمجھوتہ نہیں رہائی سب کی ہوگی – ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے حکومتی شرائط مسترد کردی

436

بلوچستان میں ریاستی تشدد کے خلاف جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران گرفتار ہونے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی رہائی کے لیے حکومتی مذاکرات ناکام ہو گئے۔

ماہ رنگ بلوچ کی ہمشیرہ کے مطابق آج کوئٹہ کے ہدہ جیل میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کی سربراہی میں ایک حکومتی وفد نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سے ملاقات کی اور ان کی رہائی کے لیے مشروط پیشکش کی۔

حکومتی وفد نے یقین دہانی دلائی کہ ان کے خلاف عائد 3MPO کے تحت الزامات واپس لے لیے جائیں گے بشرطیکہ وہ درج ذیل شرائط قبول کریں:

1- ماہ رنگ بلوچ تحریری طور پر اس بات کی یقین دہانی کرائیں کہ وہ اور ان کی تحریک بلوچ یکجہتی کمیٹی احتجاجی مظاہروں کے دوران سڑکیں بلاک نہیں کریں گے اور شاہراہوں کو بند نہیں کریں گے۔

2- بلوچ یکجہتی کمیٹی سیاسی دھرنوں اور بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہروں سے گریز کرے گی۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ ان شرائط کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک تمام گرفتار کارکنان اور رہنماؤں کو ایک ساتھ رہا نہیں کیا جاتا وہ اپنی رہائی کو قبول نہیں کریں گی۔

اس پر حکومتی وفد نے مذاکرات کو مزید آگے نہ بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ گذشتہ کئی روز سے اطلاعات موصول ہوئے ہیں کہ حکومت ماہ رنگ بلوچ کو ذہنی اور نفسیاتی طور ہراساں کرکے ان سے معاہدہ کرنے کی کوشش کررہی ہے تاہم ماہ رنگ نے دوران گرفتاری کسی بھی معاہدہ سے انکار کردیا ہے۔

دوسری جانب بلوچ یکجہتی کمیٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی کی قیادت میں ماہ رنگ بلوچ سمیت دیگر گرفتار مظاہرین کی رہائی کے لیے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

کوئٹہ کے قریب لکپاس کے مقام پر سردار اختر مینگل کی قیادت میں دھرنا دیا جا رہا ہے جبکہ 6 اپریل کو کوئٹہ لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا ہے۔

بلوچستان بھر میں ماہ رنگ بلوچ، بیبرگ زہری، بیبو بلوچ سمیت درجنوں کارکنان اور رہنما اب بھی قید میں ہیں۔

عید کے روز بھی بلوچستان کے مختلف اضلاع سمیت کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہزاروں افراد نے مظاہرے کیے اور گرفتار افراد کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں متعدد علاقوں میں انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے تاکہ مظاہرین کے درمیان رابطہ محدود کیا جا سکے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری مختلف مقامات پر تعینات کر دی گئی ہے۔

بلوچ سیاسی جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام گرفتار رہنماؤں اور کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے اور بلوچستان میں جاری ریاستی جبر کو بند کیا جائے