ولادیمیر زیلنسکی صدر ٹرمپ کی ’مضبوط قیادت‘ کے تحت کام کرنے پر تیار

110

اوول آفس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ہونے والی تکرار کے چند روز بعد یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی ’مضبوط قیادت‘ کے تحت کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

انھوں نے امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی تکرار کو افسوسناک قرار دیا ہے۔ یوکرینی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ نے یوکرین کو دی جانے والی عسکری امداد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

زیلنسکی نے کہا کہ ’وقت آگیا ہے کہ چیزوں کو بہتر بنایا جائے‘۔

اوول آفس میں ہونے والی ملاقات کے دوران ٹرمپ نے یوکرینی صدر پر مذاکرات کے لیے رضامند نہ ہونے کا الزام لگایا تھا۔

تاہم اب سوشل میڈیا پر جاری ایک طویل پیغام میں زیلنسکی نے جنگ کے خاتمے کے پہلے مرحلہ کا بھی خاکہ پیش کیا ہے۔

زیلنسکی کا کہنا ہے، ’ہم جنگ کے خاتمے کے لیے تیزی سے کام کرنے کے لیے تیار ہیں، اور پہلے مرحلے میں قیدیوں کی رہائی اور آسمان میں جنگ بندی ہو سکتی ہے – جس میں میزائلوں، طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز، توانائی کی تنصیبات اور دیگر شہری انفراسٹرکچر پر حملے پر پابندی – اور فوری طور پر سمندر میں بھی جنگ بندی ممکن ہے اگر روس بھی ایسا کرنے کو تیار ہے۔‘

’اس کے بعد ہم جنگ بندی کے اگلے مراحل تیزی سے طے کرنا چاہتے ہیں اور ایک مضبوط حتمی معاہدے پر پہنچنے کے لیے امریکہ کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔‘

جمعے کے روز امریکی صدر اور ان کے نائب جے ڈی وینس کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ ملاقات ’ویسی نہیں ہوئی جیسی ہونی چاہیے تھی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے چیزیں بہتری کی طرف لے جائی جائیں۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ مستقبل میں ہونے والا تعاون اور ملاقاتیں تعمیری ہوں۔‘

انھوں نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ یوکرین امریکہ کے ساتھ معدنیات کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے تیار ہے۔ زیلنکسی کے گذشتہ ہفتے امریکہ کے دوران اس معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے تھے۔

زیلنسکی نے امریکہ کی طرف سے اب تک یوکرین کو دی جانے والی مدد کے لیے تشکر کا اظہار کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہم واقعی اس بات کی قدر کرتے ہیں کہ امریکہ نے یوکرین کی خودمختاری اور آزادی کو برقرار رکھنے میں کتنی مدد کی ہے۔‘

’اور ہمیں وہ وقت بھی یاد ہے جب صدر ٹرمپ نے یوکرین کو جیولنز فراہم کیے اور اس سے حالات کیسے بدل گئے تھے۔ ہم اس کے لیے شکر گزار ہیں۔‘ وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت کے دوران یوکرین کو فروخت کیے گئے امریکی اینٹی ٹینک میزائل سسٹم کا حوالہ دے رہے تھے۔

اوول آفس میں جمعے کے روز ہونے والی میٹنگ کے دوران نائب صدر جے ڈی وینس نے زیلنسکی پر الزام لگایا تھا کہ وہ امریکہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی فوجی مدد کے لیے شکرگزار نہیں ہیں۔