ڈپٹی کمشنر واشک نے ضلع واشک میں مسلح افراد کے ہاتھوں سرکاری اسلحہ چھن جانے کے باعث 13 لیویز اہلکاروں کو نوکری سے برطرف کردیا۔
ڈپٹی کمشنر واشک کے مطابق اہلکاروں کو فرائض سے غفلت اور نااہلی دکھانے پر برطرف کیا گیا، برطرف کیے گئے اہلکاروں میں ایک حوالدار اور 12 سپاہی شامل ہیں۔
ڈپٹی کمشنر واشک کے مطابق چند روز قبل مسلح افراد نے لیویز اہلکاروں سے اسلحہ چھین لیا تھا اور 5 ایس ایم جیز، لیویز گاڑی اور موٹرسائیکل لے گئے تھے۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ڈائریکٹر جنرل بلوچستان لیویز فورس نے اہلکاروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ چوکیوں پر حملہ کرنے اور اسلحہ ضبط کرنے والی مسلح تنظیموں کا مقابلہ کریں، بصورت دیگر جن اہلکاروں نے مسلح افراد کو اپنا اسلحہ حوالے کیا انہیں نوکری سے برخاست کردیا جائے گا۔
اب تک بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کئی لیویز اہلکار اس قسم کے واقعات کے باعث اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں۔
بلوچستان کے مختلف علاقوں میں لیویز چوکیوں پر چھاپے اور سرکاری سامان کی ضبطگی کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں اس سے قبل چاغی اور زہری سمیت دیگر علاقوں میں لیویز تھانوں پر قبضوں کے بعد حکام نے متعدد اہلکاروں کو برطرف کیا تھا۔
ان واقعات کی ذمہ داری اکثر بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں تاہم ان تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ اہلکاروں کو بلوچ ہونے کی بناء پر جانی نقصان نہیں پہنچاتے ہیں۔