مستونگ کوہ چلتن کے دامن میں دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ آئیں وعدہ کریں کہ جب تک ہم اپنی قید خواتین کو گھروں تک نہ پہنچائیں ہم پر گھروں کو جانا حرام ہوگا ۔ کل سرکار نے اپنے تتلی نما ڈرون کے ذریعے آکر ہمارے دھرنے کی تصویر لے کر دکھا دی کہ دیکھیں دھرنا کی تعداد کس قدر کم ہے آج میں ان سے کہتا ہوں کہ آج اپنی بڑی تتلی (ہیلی کاپٹر ) لاکر دیکھیں کہ شرکا کی تعداد کتنی ہے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ آج چلتن کے پہاڑ کو دیکھ لیں کہ یہ اپنی دھرتی کی خواتین کی گرفتاری پر کس قدر رو رہا ہے دوسری طرف یہ چلتن اپنے باسیوں کی بے بسی پر بھی رو رہا ہے۔
سردار اختر مینگل نے کہا کہ وڈھ میں ایک خط کا درخت ہے جسے ” خان ئنا خط “کہتے ہیں جہاں نوری نصیر خان نے ایک بار جرگہ منعقد کیا تھا جس پر کماش (سردار عطااللہ مینگل) نے وصیت کی کہ مجھے یہاں دفن کردیں ، یاد رکھیں جہاں آج ہم دھرنا دیئے بیٹھے ہیں اور آج ہم نے یہاں نماز پڑھی یہ عمل تاریخ میں لکھا جائے گا اور جنہوں نے بھی یہاں شرکت کی اور نماز پڑھی ان کا نام بھی تاریخ میں لکھا جائے گا ۔
سردار اختر مینگل نے آخر میں دھرنا شرکاء سے ہاتھ کھڑے کروا کر حلف لیا کہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہماری خواتین رہا ہوکر گھر نہیں پہنچتیں۔ اس دوران نعرے بھی لگائے گئے۔
انہوں نے حکومت کو دو دن کی الیٹی میٹم دیتے ے ہوئے کہاکہ خواتین کی عدم رہائی کی صورت میں کوئٹہ کی طرف لانگ مارچ ہوگا ۔