بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کے ترجمان بلوچ خان نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ براس کے سرمچاروں نے بلوچستان بھر میں ایک منظم اور مربوط عسکری مہم کے دوران کل 72 کارروائیاں انجام دیں۔ یہ کارروائیاں قابض پاکستانی فوج، نیم فوجی دستوں، خفیہ اداروں، ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ، سرکاری تنصیبات، معدنیات و توانائی لیجانے والی گاڑیوں، اور دیگر ریاستی مفادات کو نشانہ بنانے پر مرکوز تھیں۔ ان حملوں میں قابض فورسز کے کم از کم 32 اہلکار ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، جب کہ 14 گاڑیاں مکمل طور پر تباہ کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران بلوچستان کے مختلف اضلاع میں 30 سے زائد مقامات پر مرکزی شاہراہوں پر کئی گھنٹوں تک ناکہ بندیاں قائم کی گئیں۔ ان ناکہ بندیوں میں سرمچاروں نے نہ صرف ٹریفک کو محدود کیا بلکہ منظم اسنیپ چیکنگ کے ذریعے دشمن فورسز اور ریاستی اہلکاروں کو شناخت کے بعد ہدف بنایا۔ یہ عسکری حکمت عملی براس کی متحرک اور گوریلا صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
ترجمان نے کہا کہ یہ حملے 27 مارچ 1948 کی مناسبت سے انجام دیے گئے۔ جب قابض ریاست پاکستان نے فوج کشی کے ذریعے بلوچ سرزمین پر قبضہ کرلیا۔ یہ قبضہ بلوچستان کے تاریخی، جغرافیائی اور قانونی تشخص کے برخلاف تھا، جس کے خلاف بلوچ عوام نے روز اول سے ہی مزاحمت کی ہے۔ براس کی جانب سے کی گئی یہ عسکری سرگرمیاں نہ صرف اس قبضے کے خلاف علامتی اور عملی مزاحمت ہیں بلکہ یہ اس بیانیے کو تقویت دیتی ہیں کہ بلوچستان کی حیثیت آج بھی ایک مقبوضہ سرزمین کی ہے۔
ان کاروائیوں کے دوران گوادر میں براس کے سرمچاروں نے کوسٹل ہائی وے پر پسنی اور اورماڑہ کے درمیان دو گھنٹوں تک ناکہ بندی قائم کی۔ اس دوران مسافر بسوں میں سفر کرنے والے قابض فوج کے چھ اہلکاروں کو شناخت کے بعد ہلاک کیا گیا، جبکہ ایل پی جی لے جانے والا ایک گیس ٹینکر نذر آتش کر کے تباہ کر دیا گیا۔
اسی شب گوادر شہر کے علاقے پدی زر میں گوادر پورٹ اتھارٹی کے قریب سرمچاروں نے قابض فوج کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں پانچ اہلکار ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے، جبکہ گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔
انہوں نے کہا کہ ایئرپورٹ روڈ پر گریڈ کے نزدیک قائم فوجی چوکی پر سرمچاروں نے خودکار اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا، جس میں دشمن کو واضح جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اسی طرح تجابان کرکی کے مقام پر سرمچاروں نے گوادر سے کھاد لے جانے والے چار ٹرالرز کو نذر آتش کیا، جب کہ ڈرائیوروں کو تنبیہ دے کر چھوڑ دیا گیا۔
پسنی شہر میں نیشنل بینک کے قریب کسٹمز کیمپ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغے گئے اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس کے باعث اہلکاروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔
جیونی کے علاقے ھوکار کے قریب کوسٹ گارڈ کیمپ پر بھی بھاری اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جس سے دشمن کو شدید جانی نقصان پہنچا۔
تربت میں براس کے سرمچاروں نے مختلف مقامات پر ناکہ بندیاں قائم کیں۔ تربت کے علاقے اصغر گیٹ کے ہیلی پیڈ کو راکٹ لانچر سے پانچ گولے داغ کر نشانہ بنایا گیا، جس کے باعث وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ اسی طرح فوج کے ملٹری انٹیلی جنس (ایم آئی) کے دفتر کو گرنیڈ لانچر سے دس گولے داغ کر نشانہ بنایا گیا، جس سے دفتر کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
سرمچاروں کی گشت سنگانی سر، چاہ سر اور ملک آباد کے مقامات تک جاری رہی، جہاں کئی گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کے ذریعے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھی گئی۔ گورکوپ سوردی میں فوجی کیمپ پر راکٹ اور بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا، جب کہ آبسر میں واقع فوجی کیمپ کو پانچ گرنیڈ داغ کر تباہی سے دوچار کیا گیا۔
کیچ کے علاقے کولواہ میں مادگ کلات میں واقع قابض فوج کے کیمپ کو دو اطراف سے گھیر کر نشانہ بنایا گیا، جہاں سرمچاروں نے راکٹ لانچر اور گرنیڈ لانچر سے 50 گولے داغے۔ نتیجتاً چار اہلکار ہلاک ہوئے، جب کہ دیگر کو شدید نقصان پہنچا۔
اسی دوران دیگر سرمچاروں نے ڈل ءِ بازار کے مقام پر گھات لگا کر مدد کو آنے والے قافلے پر حملہ کیا۔ اس حملے میں تین اہلکار ہلاک اور کم از کم چھ زخمی ہوئے، جب کہ پسپا ہوتی دشمن فوج نے عام گھروں میں گھس کر عوام کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔
خاران – کوئٹہ مرکزی شاہراہ پر براس سرمچاروں نے دو گھنٹوں سے زائد ناکہ بندی قائم رکھی اور منظم اسنیپ چیکنگ کی۔ خاران شہر میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا گیا۔ اس افسر کو ریاستی منصوبے کے تحت تعینات کیا گیا تھا، جو بلوچ ملازمین کو دھمکیوں اور زبردستی کے ذریعے ریاستی تقریبات میں شرکت پر مجبور کرتا رہا ہے۔
اسی شہر کے علاقے گزّی روڈ پر قائم فوجی پوسٹ پر بھی خودکار ہتھیاروں سے نصف گھنٹے تک حملہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں قابض فوج کو شدید نقصان ہوا۔ جوابی کارروائی میں حواس باختہ فوج نے عام آبادی پر مارٹر گولے داغے۔
انہوں نے کہا کہ نوشکی میں شیخ واصل کے مقام پر کوئٹہ – تفتان شاہراہ پر سرمچاروں نے ناکہ بندی کی اور ایک سرکاری آفیسر کو حراست میں لیا۔ اس کے گارڈز کا اسلحہ ضبط کیا گیا، تاہم بلوچی روایت کے تحت اسے رہا کردیا گیا۔ ناکہ بندی کے دوران لیویز فورس کے اہلکاروں کو حراست میں لیا جن کا سلحہ ضبط کیا گیا بعدازاں اہلکاروں کو رہا کردیا گیا۔ سرمچاروں اسی علاقے میں دو پاسی کے مقام پر لیویز چوکی کو قبضے میں لیکر اسلحہ ضبط کیا بعدازاں زیرحراست اہلکاروں کو رہا کردیا گیا۔
کیشنگی (پاچنان) میں فوجی پوسٹ کو SPG9 سے نشانہ بنایا گیا، جس میں پانچ اہلکار زخمی ہوئے۔
مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں سرمچاروں نے کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر تین گھنٹوں تک ناکہ بندی کی۔ اس دوران سی ٹی ڈی آفیسر کو بھاگنے کی کوشش میں ہلاک کیا گیا، جب کہ دیگر اہلکاروں کو زخمی کر کے دشمن کی پیش قدمی ناکام بنائی گئی۔
قلات میں براس کے سرمچاروں نے جمعرات کی شب ٹول پلازہ کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کی، جبکہ اسی روز اسی مقام پر قابض پاکستانی فوج کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس سے دشمن کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
منگچر اور مہلبی میں بھی سرمچاروں نے مختلف مقامات پر مرکزی شاہراہوں پر گھنٹوں تک ناکہ بندی جاری رکھی اور اس دوران منظم اسنیپ چیکنگ کے ذریعے علاقے پر اپنا کنٹرول قائم رکھا۔
بولان کے علاقے کولپور میں مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے دو گھنٹوں سے زائد ناکہ بندی کی۔ اس دوران نہ صرف مرکزی شاہراہ کو مکمل کنٹرول میں لیا گیا بلکہ ٹریفک کی آمد و رفت کو بند کر کے علاقے میں عسکری تنبیہ جاری رکھی گئی۔
بارکھان اور رکھنی کے درمیان بھی مرکزی شاہراہ پر سرمچاروں نے دو گھنٹوں کی ناکہ بندی کی اور مکمل اسنیپ چیکنگ کے ذریعے سیکیورٹی اداروں اور ریاستی مفادات کے افراد کو تلاش کیا۔
سوراب میں رات 9 بجے کے قریب نام نہاد کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کے دفتر پر دستی بم حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں دو اہلکار زخمی ہوئے اور دفتر کو جزوی نقصان پہنچا۔
ترجمان نے کہا کہ خضدار میں کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر اورناچ کے قریب ناکہ بندی کی گئی، جبکہ وڈھ کراڑو کے مقام پر دو گھنٹوں سے زائد وقت تک شاہراہ پر کنٹرول رکھا گیا۔ اس دوران سرمچاروں نے سابق ایم پی اے حمل کلمتی کو روک کر شناخت کی، تاہم بعد ازاں بلوچی روایات کے مطابق باعزت طور پر جانے دیا گیا۔
اسی ناکہ بندی کے دوران سرمچاروں نے ریاستی خفیہ اداروں کے تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے ایک اہم رکن اختر ولد خیر جان کو حراست میں لیا۔ تحقیقات اور شناخت کے بعد اسے سزائے موت دی گئی۔ اختر ماضی میں ایک سرمچار رہ چکا تھا، لیکن 2015 میں دشمن کے سامنے ہتھیار ڈال کر بلوچ قومی تحریک کے خلاف سرگرم ہو گیا تھا۔ وہ ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے سرغنہ مہراللہ محمد حسنی کا قریبی ساتھی اور بلوچ نسل کشی میں ملوث تھا۔ براس کی جانب سے اسے کئی مواقع دیے گئے، مگر اس نے اپنی سرگرمیاں ترک نہ کیں، جس کے بعد اسے سزا دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی براس کے سرمچار متحرک رہے۔ قائد آباد پولیس تھانے کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین اہلکار زخمی ہوئے۔ اسی شب نادرن بائی پاس کے قریب سی ٹی ڈی کی گاڑی کو بھی دستی بم سے نشانہ بنایا گیا، جس میں تین اہلکار زخمی ہوئے۔
حب شہر میں پولیس تھانے پر دستی بم حملہ کیا گیا، جس سے اہلکار زخمی اور تنصیب کو نقصان پہنچا۔ اسی شہر میں خفیہ اداروں کے ایک آلہ کار کامران کو بھی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ شخص بظاہر دکاندار تھا، مگر پس پردہ ریاستی ایجنسیوں کے لیے مخبر کا کردار ادا کر رہا تھا۔
پنجگور میں بھی براس کے سرمچاروں نے کئی کارروائیاں کیں۔ سیدان کراس پر دو گھنٹوں تک ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ جاری رکھی گئی۔ سرادوک کے مقام پر، جو سی پیک روٹ پر واقع ہے، سرمچاروں نے تین گھنٹوں تک ناکہ بندی کرکے دشمن کی ترسیلات کو بند رکھا۔ پنجگور ہی کے علاقے بالگتر نلی میں بھی سی پیک شاہراہ پر ناکہ بندی کی گئی۔
ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں براس کے سرمچاروں نے اہم عسکری کارروائیاں کیں۔ کٹن پل پر فوجی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ صحبت پور کے علاقے گورناڑی تگیا میں پولیس چوکی پر حملہ کر کے سیکیورٹی اداروں کو نقصانات سے دوچار کیا گیا۔ سنی میں قائم فوجی چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا گیا، جس سے دشمن کو جانی و مالی نقصان پہنچا۔ سوئی سے پنجاب جانے والی گیس پائپ لائن کو روجھان کے مقام پر دھماکہ خیز مواد نصب کر کے تباہ کر دیا گیا، جس سے توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی۔
سبی میں براس سرمچاروں نے مرزانی پولیس چیک پوسٹ پر قبضہ کیا، تمام اہلکاروں کو حراست میں لیا گیا اور ہتھیار تحویل میں لے لیے گئے۔ بعد ازاں تمام اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔
بختیار آباد میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کی گئی، جس کے دوران قابض فوج سے جھڑپ میں دو اہلکار ہلاک ہوئے اور مزید نقصان ہوا۔ کرمو وّڈ میں بھی فوج کو حملے میں نشانہ بنایا گیا۔
ڈھاڈر میں گیس پلانٹ کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی علاقے میں شاہراہ پر ناکہ بندی بھی کی گئی، جس کے دوران مکمل اسنیپ چیکنگ کی گئی۔
پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے علاقے خانپور میں سردار گڑھ علی چوک پر پولیس گاڑی کو دستی بم حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس میں تین اہلکار زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچ راجی آجوئی سنگر (براس) کی اس وسیع عسکری مہم کے دوران نوشکی میں ایک شدید جھڑپ کے دوران سرمچار شہید جہانزیب مینگل عرف بالاچ جام شہادت نوش کر گئے۔
یہ جھڑپ 27 مارچ کی شب نوشکی کے علاقے قادر آباد میں اس وقت پیش آئی، جب قابض پاکستانی فوج نے سرمچار کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا۔ تین گھنٹوں پر محیط شدید جھڑپ کے دوران شہید سرمچار جہانزیب نے تنہا دشمن کا مقابلہ کیا، اور قابض فوج کے آٹھ اہلکاروں کو ہلاک جبکہ متعدد کو زخمی کر کے دشمن کی پیش قدمی کو ناکام بنایا۔
جھڑپ کے دوران دشمن نے راکٹ لانچر سمیت بھاری ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا، مگر سرمچار جہانزیب نے انتہائی منظم، باحوصلہ اور جنگی مہارت سے بھرپور انداز میں مزاحمت کی۔ وہ آخری لمحے تک فرنٹ لائن پر موجود رہے، حتیٰ کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود لڑتے رہے اور شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے۔
شہید جہانزیب مینگل عرف بالاچ ولد شاہ خالد مینگل کا تعلق نوشکی کے علاقے قادر آباد سے تھا۔ آپ دو برس سے بلوچ لبریشن آرمی سے وابستہ تھے اور اپنی جنگی مہارت، فکری پختگی اور تنظیمی نظم و ضبط کی بنیاد پر بی ایل اے کے خصوصی عسکری یونٹ “اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (STOS)” کے رکن بنے۔
اس یونٹ کو انتہائی حساس، پیچیدہ اور مہارت طلب کارروائیوں کے لیے تشکیل دیا گیا ہے، اور شہید بالاچ ان کارروائیوں میں ہمیشہ صفِ اول میں رہے۔ آپ نے کئی اہم آپریشنز کو کامیابی سے مکمل کیا، جن میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچایا گیا۔
شہید بالاچ نہ صرف ایک جنگی ماہر بلکہ ایک سیاسی و قومی شعور رکھنے والے مزاحمتی کارکن بھی تھے، جو تنظیمی تربیت، نظم و ضبط اور قومی مفاد کو ہر ذاتی جذبے سے مقدم رکھتے تھے۔ آپ نے اپنے مختصر مگر بھرپور مزاحمتی سفر میں آزادی کی تحریک کو عملی قوت، فکری سمت اور عسکری اعتماد فراہم کیا۔
بلوچ راجی آجوئی سنگر شہید سرمچار جہانزیب مینگل کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کرتی ہے کہ شہداء کا راستہ ہی براس کی حکمتِ عملی، وژن اور عزم کی بنیاد ہے۔براس اس بات پر پختہ یقین رکھتی ہے کہ شہیدوں کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانا ہماری قومی و تنظیمی ذمہ داری ہے، اور ان کے آزاد بلوچستان کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنا ہماری جدوجہد کا بنیادی محرک ہے۔
ترجمان نے کہا کہ براس اپنی اس حالیہ عسکری مہم کو دشمن کے خلاف ایک تسلسل یافتہ و ہم آہنگ مزاحمتی پیش رفت قرار دیتی ہے، جو بلوچ قومی جنگ آزادی کے اس مرحلے میں دشمن کی عسکری قوت، ریاستی بیانیے اور مقامی آلہ کاروں کے خلاف ایک واضح پیغام ہے۔ ان حملوں کا مقصد محض نقصانات دینا نہیں بلکہ دشمن کی ساخت، رفتار، اور اعتماد کو مسلسل چیلنج کرنا ہے۔ یہ حملے بلوچ وطن کی آزادی تک مزید شدت کے ساتھ جاری رہینگی۔