خدارا! لسبیلہ یونیورسٹی کو تباہی سے روکا جائے
تحریر: رمیس بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
لسبیلہ یونیورسٹی ہماری مادرِ علمی ہے۔ یہاں سے کل ایسے طلبہ فارغ التحصیل ہوں گے جو مستقبل میں ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دیں گے اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنیں گے۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ سے لے کر کام کرنے والے ملازمین تک، سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنے ادارے کو تباہی سے بچانے کی بھرپور کوشش کریں۔ لیکن جب سے نئے آنے والے وائس چانسلر، مالک ترین، نے یہاں قدم رکھا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ نئی پریشانیاں جنم لے رہی ہیں۔ اس کی واضح مثال ہمیں بازار سے چار طلبہ کی جبری گمشدگیوں سے لے کر اب تک پیش آنے والے نہ جانے کتنے مسائل میں دیکھنے کو ملتی ہے۔
اگر کوئی ایمانداری سے ایک دن ایڈمنسٹریشن کے سامنے کھڑا ہو جائے تو سب کچھ روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائے گا۔ کبھی آپ کو کچھ طلبہ اپنے فیسوں میں ناجائز اضافے پر احتجاج کرتے نظر آئیں گے، تو کبھی غریب طلبہ کی اسکالرشپ کی بندش پر بھاگ دوڑ ہوتی دکھائی دے گی۔
باقی مسائل اپنی جگہ، لیکن کہانی میں ایک نیا موڑ دیکھنے کو مل رہا ہے، جو آج کل ہمیں فورسز کے مختلف یونٹس کی شکل میں نظر آ رہا ہے۔ یہ ہمارے ادارے کے مستقبل کے تاریک دنوں کی نوید ہے۔ آئے روز آپ کو پولیس، ایف سی، کسٹم اور نارکوٹکس کے اہلکار مختلف اوقات میں یونیورسٹی میں گشت کرتے دکھائی دیں گے، جو اب مالک ترین اور ان کے گماشتوں کی سربراہی میں پروگرامات بھی منعقد کروا رہے ہیں۔ یہاں نیوی کے علاوہ باقی تمام آرمڈ فورسز گشت کرتی نظر آتی ہیں— میرے خیال میں اگر یہاں سمندر ہوتا تو نیوی بھی ماشاءاللہ اپنی موجودگی کو یقینی بنا لیتی!
یہاں سوچنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے کہ آیا تعلیمی اداروں میں پروگرام کروانا کب سے ملٹری فورسز کا کام بن چکا ہے؟ دراصل، اس طرح کے اقدامات سے صرف ایک چیز واضح ہوتی ہے کہ کسی نہ کسی طریقے سے فوجی ماڈل ذہنیت کو طلبہ میں راسخ کیا جا رہا ہے۔ اس کے سب سے بڑے ضامن خود مالک ترین دکھائی دے رہے ہیں، جو ہر گزرتے دن طلبہ پر اپنے نئے ہتھکنڈوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہے ہیں۔
کچھ طلبہ کے انکشافات کے مطابق، آج کل سیکیورٹی آفیسر یعقوب عرف “اسٹینڈ بائے” اور انور عرف “لالو کھیت” ہر وقت یونیورسٹی کے مین گیٹ پر کھڑے رہتے ہیں اور بازار تک طلبہ کا پیچھا کرتے ہیں، جس پر کئی طلبہ نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ لیکن دوسری جانب، وائس چانسلر نے کئی مرتبہ طلبہ کے خلاف نرم گوشہ رکھنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کو ملازمت سے معطل کر دیا ہے۔
لسبیلہ یونیورسٹی اوتھل میں “تبدیلی” کے نام پر مالک ترین نہ جانے کن “خطرات” کو مدنظر رکھتے ہوئے طلبہ کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں، جو ان کی پست ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔
لہٰذا، میرا آپ سب اساتذہ اور طلبہ سے گزارش ہے کہ اگر آپ واقعی اپنے ادارے سے مخلص ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ ادارہ ہماری اجتماعی کامیابی کا ضامن بنے، تو اسے تباہی سے بچانے کے لیے آواز بلند کریں، ورنہ ہم سب اپنی ناکامی اور زبوں حالی کا تماشا دیکھنے کے لیے تیار ہو جائیں۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔