بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی قیادت ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین، بیبو بلوچ، بیبرگ بلوچ اور دیگر کی گرفتاریوں اور خواتین پر تشدد اور فائرنگ کے خلاف آج چھٹے روز بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں ریلیاں نکالی گئی جس میں خواتین کی بڑی تعداد شریک تھی۔ احتجاج میں شریک لوگ ریاستی جبر کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کررہے ہیں۔
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے مرکزی قائدین ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، سمی دین ، بیبو بلوچ ، لالا وہاب بلوچ ، بیبرگ بلوچ و دیگر کارکنان کی گرفتاریوں کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاجی ریلی کا آغاز سیرت النبی صلی اللہ چوک سے ہوا جو سید ظہورشاہ ھاشمی ایونیو سے ہوتا ہوا شہدائے جیونی چوک مکی مسجد پر اختتام پزیر ہوا ۔ ا
حتجاجی ریلی میں مرد و خواتین اور بچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی ۔ احتجاجی ریلی کے شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جس پر مختلف نعرے و مطالبات درج تھے ۔ احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے حق دو تحریک کے مرکزی چیئرمین حسین واڈیلہ، مرکزی آرگنائزر حفیظ کھیازئی اور رخسانہ دوست محمد نے خطاب کرتے ہوۓ کہاکہ سرکار نے ہارڈ اسٹیٹ کے نام پر بلوچستان میں آپریشن شروع کردی ہے۔ بلوچوں نے کوئی غیر آئینی عمل نہیں کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچوں کی آواز ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین نے جدوجہد نے بلوچوں کو اکٹھا کیا ہے ۔ وزیر اعلی بلوچستان بلوچ یکجہتی کمیٹی کو ختم کرنے کے درپے ہے لیکن وزیراعلیٰ بلوچستان خود ختم ہوگا۔ بی وائی سی کو وہ ختم نہیں کرسکے گا۔ انکی جدوجہد نے سرکار کو شکست دی ہے ۔ بلوچ 75 سالوں سے اپنے سرزمین اپنی وطن اور اپنے لوگوں کے لیۓ جدوجہد کررہا ہے ۔
انھوں نے کہاکہ حکومت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ ، بیبو بلوچ ، سمی دین ،لالا وہاب اور بیبرگ کو گرفتار نہیں کیا ہے بلکہ پوری بلوچستان کو گرفتار کیا ہے تو بلوچ کیوں خاموش رہیں ۔
اسی طرح تربت، خضدار ، خاران اور حب چوکی میں ہزارواں کی تعداد میں لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ۔
انہوں نے کہاکہ سرفراز بگٹی کو فوج نے اس خوش فہمی میں وزیر اعلیٰ بنایا ہے کہ وہ بلوچ جدوجہد کو ختم کرینگے لیکن وہ اس خواب سے نکل کر دیکھ لیں کہ آج ایک ماہ رنگ جیل میں ہے جبکہ ہزاروں ماہ رنگ سڑکوں پر مزاحمت کررہے ہیں ۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ یکجہتی کمیٹی جھالاوان ریجن کے ممبروں نے کہا کہ ریاست کی جانب سے جاری دہشتگردی کوئی نئی بات نہیں بلکہ بلوچ قوم گزشتہ 70 سالوں سے اس جبر کا سامنا کر رہی ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی ہمیشہ اپنے عوام کے حقوق کے لیے کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی کھڑی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ پچھلے چند دنوں سے ریاست نے کوئٹہ کے علاقے کوشال میں جبر و بربریت کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے، جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ 12 سالہ معصوم بچے بھی ریاستی ظلم و ستم سے محفوظ نہیں ہیں۔ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں بھی بلوچوں کے خلاف ریاستی جبر کم نہیں ہوا۔ جب تک بلوچ متحد نہیں ہوتے، یہ ظلم و ستم جاری رہے گا۔ ہماری کامیابی اسی میں ہے کہ ہم سب ایک ساتھ کھڑے ہوں۔
مِہرَک بلوچ نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج بلوچ قوم کی توانا آوازیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمی دین بلوچ، بیبرگ بلوچ اور بیبو بلوچ – ریاستی ٹارچر سیلوں میں قید ہیں۔ ہم خاموش بیٹھے رہے تو یہ خاموشی ہماری قوم کے لیے مزید نقصان دہ ثابت ہوگی۔ میں اپنی بلوچ قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ ریاستی جبر کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کریں۔
شفیق ساسولی نے خطاب میں کہا کہ یہاں وہی خاندان موجود ہیں جو پچھلے 15 سے 20 سالوں سے اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کا دکھ سہہ رہے ہیں۔ ان ماؤں، بہنوں، بھائیوں اور بزرگ والدین کو ہم خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہاں موجود ہر فرد کا کوئی نہ کوئی بھائی، بیٹا یا بھائی لاپتہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہمیں کیوں لاپتہ کیا جا رہا ہے، کیوں مارا جا رہا ہے اور کیوں ہماری زبان بند کرائی جا رہی ہے۔ یہ سب اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ ہم 27 مارچ 1948 کو اپنی تاریخ کا وہ سیاہ دن مانتے ہیں جب ریاست نے ہماری نسل کشی کا آغاز کیا۔ کچھ لوگ جو خود کو بلوچ کہتے ہیں، وہ اسمبلیوں میں کھڑے ہو کر کبھی خود کو بلوچ اور کبھی کسی اور شناخت سے منسوب کرتے ہیں۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں بیٹھ کر وہ بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ سڑکوں پر احتجاج کرتی ہوئی مائیں اور بہنیں بلوچ روایات کے خلاف ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر غلامی کر رہے ہیں۔
کبیر بلوچ کی والدہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرا بیٹا پچھلے 16 سالوں سے جبری طور پر لاپتہ ہے، اور میں ان 16 سالوں سے سڑکوں پر دربدر کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، جو تمام لاپتہ افراد کے لیے آواز بلند کر رہی تھیں، انہیں بھی جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا ہے۔ ہماری مائیں اور بہنیں انصاف کی طلب گار ہیں، مگر ریاست کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں بھی بلوچ عوام کے لیے کوئی ریاعت نہیں کی گئی۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی جھالاوان ریجن نے واضح کیا کہ بلوچ عوام پر جاری جبر اور ظلم کو فوری طور پر روکا جائے، تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے، اور بلوچ عوام کو ان کے بنیادی انسانی و قومی حقوق دیے جائیں۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی اپنے عوام کے ساتھ کھڑی ہے اور ہمیشہ کھڑی رہے گی۔ ہم اپنے شہداء، لاپتہ افراد اور مظلوم خاندانوں کے لیے انصاف کا مطالبہ جاری رکھیں گے۔