بلوچ خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹا، یہ غیر جمہوری اقدام ریاست کے فاشسٹ چہرے کو بے نقاب کرتا ہے۔ مہلب دین بلوچ

1008

منگل کے روز کراچی پریس کلب میں مہلب بلوچ نے اپنی والدہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کراچی پولیس اور ریاستی اداروں کی جانب سے بلوچ خواتین پر ہونے والے وحشیانہ جبر کی شدید مذمت کرتی ہے۔ کل، کراچی میں پُرامن بلوچ مظاہرین پر پولیس نے بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دھاوا بولا، خواتین کو سڑکوں پر گھسیٹا، ان کی چادریں کھینچی گئیں اور انہیں غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گیا۔ یہ غیر جمہوری اقدام ریاست کے فاشسٹ چہرے کو بے نقاب کرتا ہے، جہاں بلوچ عوام کو مسلسل جبر اور ظلم کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہاکہ سمی دین، جو کل دیگر بلوچ خواتین اور مظاہرین کے ساتھ گرفتار کی گئی تھیں، کو آج عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا۔ عدالت کے حکم کے مطابق، سمی دین اور دیگر خواتین کو رہا کیا گیا، لیکن جب وہ عدالت سے باہر آئیں اور اپنے گھروں کی جانب روانہ ہونے لگیں، تو کراچی پولیس نے عدالت کے باہر ہی سمی دین کو دوبارہ گرفتار کرنے کی کوشش کی، جس پر وکلاء برادری نے سخت مزاحمت کی۔ وکلاء نے کئی گھنٹوں تک پولیس کے غیر قانونی اقدام کو روکنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن ریاستی جبر کے سامنے انصاف کو شکست دی گئی۔

انہوں نے کہاکہ کراچی پولیس نے نہ صرف عدالت کے احکامات کی توہین کی بلکہ کھلم کھلاانکو رہوندھتے ہوئے مزید نفری طلب کی اور طاقت کے بل بوتے پر سمی دین کو دوبارہ گرفتار کر لیا۔ یہ ریاستی اداروں کی کھلی غنڈہ گردی ہے، جہاں قانون اور عدالت کو روند کر، بلوچ خواتین کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اور غیر آئینی اور غیر انسانی حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

مزید کہاکہ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اگر سمی دین کو فوری طور پر رہا نہ کیا گیا اور بلوچ خواتین پر ظلم و جبر کا سلسلہ جاری رہا، تو بلوچ عوام اور بلوچ یکجہتی کمیٹی سخت ترین ردعمل دینے پر مجبور ہوں گے اگر ریاست نے اپنے ظلم بند نہ کیے تو اس کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت، سندھ پولیس اور دیگر ریاستی اداروں پر ہوگی۔

ہم کراچی کے عوام، وکلاء برادری، انسانی حقوق کی تنظیموں، سیاسی و سماجی حلقوں، اور تمام انصاف پسند شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر اس غیر قانونی اقدام کے خلاف آواز بلند کریں۔

انہوں نے کہاکہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سمی دین کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے ، بلوچ سیاسی کارکنان کے خلاف ہونے والے ریاستی جبر کو روکا جائے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید کراچی پولیس اور دیگر ریاستی اداروں کی جانب سے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا نوٹس لیا جائے اور ان کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے کا نوٹس لیں اور بلوچ خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کریں۔

جبکہ بلوچ خواتین کی تذلیل، پوری بلوچ قوم کی تذلیل ہے! ہم اسے کسی صورت قبول نہیں کریں گے!