بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی ناکہ بندیاں جاری، ابتک کے اطلاعات کے مطابق ایک سی ٹی ڈی افسر سمیت کم سے کم 10 افراد ہلاک جبکہ 8 زخمی ہوگئے ہیں۔
بلوچستان کے پرچم لپیٹے مسلح افراد نے رات گئے بولان، مستونگ، کیچ اور گوادر سمیت مختلف اضلاع میں اہم مرکزی شاہراہوں کی ناکہ بندی کر کے متعدد سرکاری گاڑیوں کو نذرِآتش کردیا۔
حکام کے مطابق گوادر سے تقریباً 150 کلومیٹر دور اورماڑہ کے نزدیک کلمت کے مقام پر ناکہ بندی کے دوران گوادر سے کراچی جانے والی بس سے چھ افراد کو شناخت کے بعد اُتارا گیا۔
ڈپٹی کمشنر گوادر حمود الرحمان کے مطابق مسلح افراد نے متعدد افراد کو شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد بس سے اُتارا۔
یہ واقعہ مکران کوسٹل ہائی وے پر پیش آیا جو گوادر کو کراچی سے ملاتا ہے۔ مسلح افراد نے پانچ افراد کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا اور ایک کو زخمی کردیا جبکہ ان کے ہمراہ تین افراد کو چھوڑ دیا گیا‘
ان کے بقول ‘مسلح افراد نے ایک گاڑی کو بھی آگ لگا دی۔
ایس ایچ او مچھ پیر بخش بگٹی نے بتایا کہ مسلح افراد نے مچھ اور کولپور کے درمیان کوئٹہ کو سکھر سے ملانے والی 65 شاہراہ کی ناکہ بندی کی اور گاڑیوں کی چیکنگ کی۔
بولان کے ایس پی رانا دلاور حسین نے بھی ناکہ بندی کی تصدیق کی۔
لیویز کنٹرول مستونگ کے مطابق ’مستونگ میں دو مقامات پر مسلح افراد نے کوئٹہ تفتان اور کوئٹہ کراچی شاہراہ کی ناکہ بندی کی اور گاڑیوں کی چیکنگ کی۔
لیویز کے مطابق ’اس دوران مسلح افراد اور فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔
مستونگ میں کوئٹہ کراچی شاہراہ پر چوتو کے مقام پر ناکہ بندی کے دوران مسلح افراد نے سی ٹی ڈی پولیس کے ایک اے ایس آئی کو قتل جبکہ ایک اہلکار کو زخمی کردیا- دونوں اہلکار نجی گاڑی میں قلات کی طرف جا رہے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد کے حملے میں ایک لیویز اہلکار زخمی بھی ہوا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق مسلح افراد پنجاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد جو باؤزر ڈرائیور تھے کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔
جبکہ مستونگ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردیا گیا ہے ۔ رات کو بیشتر علاقوں کی صورتحال واضح نہیں ہوا ہے ۔ تاہم دارالحکومت کوئٹہ میں سیکیورٹی مزید سخت کرکے ہیلی کاپٹروں کی پروازیں جاری ہیں ۔
سوشل میڈیا میں گردش کرنے والے بعض وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مسلح افراد بلوچستان کے پرچم جسموں میں لپٹے پرسکون انداز میں گاڑیوں کی چیکنگ کررہے ہیں ۔
صورتحال سے متعلق ابتک بلوچستان حکومت کی طرف سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے ۔