اختر مینگل پر خودکش حملہ ریاستی پالیسی کا حصہ ہے۔ صبیحہ بلوچ

510

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی رہنما صبیحہ بلوچ نے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کے قافلے پر ہونے والے خودکش حملے کو ریاستی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ریاست کی پالیسی کا خلاصہ یہ ہے “ہمیں بلوچستان اور اس کے وسائل عزیز ہیں، مگر بلوچ عوام نہیں”۔

صبیحہ بلوچ کا کہنا تھا کہ ریاست اب بلوچستان کے وسائل اور سرزمین پر قبضے کو مستحکم کرنے کے لیے ہر اس بلوچ کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جو قومی حقوق کے لیے آواز بلند کرے گا۔

انہوں نے بلوچ عوام پر زور دیا کہ وہ کسی بھی شک و شبہ کے بغیر آپس میں اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیں کیونکہ ریاستی جبر اور درندگی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

یاد رہے کہ سردار اختر مینگل کے قافلے پر کوئٹہ کے قریب لک پاس میں خودکش حملہ ہوا، جس میں وہ محفوظ رہے، تاہم ان کے دو محافظ اس حملے میں زخمی ہوئے ہیں۔