بلوچ نسل کشی، جبری گمشدگیوں کے خلاف بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ آج کراچی میں بھی احتجاج کیا گیا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم نے بلوچستان میں ماورائے عدالت قتل اور ڈیتھ اسکواڈ کو فعال کرکے بلوچ نسل کشی میں تیزی کرنے کے سبب بلوچستان بھر میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔ عوام کو ظلم و جبر کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے ایک ہی راستہ ہے اور وہ اپنے مسائل کو دنیا کے سامنے لانے کا اور آگاہ کرنے کی جگہ بات کرنے کی جگہ پریس کلب ہے جہاں پر کوئی بھی اپنے مسئلے پر احتجاج کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اسی سلسلے میں آج کراچی پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن یہ حق بھی اب بلوچ سے چھینا گیا۔
بی وائی سی کے مطابق پریس کلب کو اس طرح ریاستی اداروں کی صورت میں بند کرنا ریاست اور اس کے اداروں سمیت جمہوریت کا نعرہ لگانے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ آج کراچی پریس کلب کو سندھ حکومت اور اس کے ماتحت ادارے پولیس کی نگرانی میں مکمل طور پر بند کیا گیا جو کہ اس ملک کے آئین و قانون کے خلاف ہے۔ پریس کلب کو پولیس و ریاستی دیگر اداروں نے ہر طرف سے بند کیا تھا جب انہوں نے ہمیں آگے جانے نہیں دیا تو ہم نے وہیں روڈ پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
انہوں نے کہاکہ ہم ریاست کو اس بات کا اعلان کرکے واضع کرتے ہیں کہ ان کے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ہم اپنے جدوجہد سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور ہر ممکن کوشش کریں گے اور اپنے قوم کے ہر دکھ درد میں شریک ہوں گے، چاہے ریاست کسی بھی طرح کے سازش کرتا رہے لیکن ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔