پھلین امیر الملک بلوچ کا مزاحمتی فلسفہ اور آخری گولی کا نظریہ
تحریر: زگرین بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
7 اپریل 2014 کی صبح دشمن فوج کے طرف سے قلات کے قریب بلوچ لبریشن آرمی کے پارود کیمپ پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں 13 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے شدید شیلنگ کی گئی اور ساتھ ہی اسپیشل کمانڈوز نے بلوچ سرمچاروں کا گھیرا تنگ کرنے کی کوششیں کی، شدید فضائی شیلنگ کے باوجود ساتھیوں نے دشمن کے گھیراو کو مستحکم ہونے نہیں دیا اور جذبہ آزادی سے سرشار مادر وطن کے تین فرزندوں نے دشمن کے حصار میں گھس کر اُن سے دوبدو لڑائی شروع کی جس سے دشمن کے حوصلے پست ہوئے اور دشمن فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
سنگت امیر الملک بلوچ عرف جمال جان 2006 کو بلوچ لبریشن آرمی میں شامل ہوا اور خضدار، کوئٹہ اور بولان میں تنظیمی فرائض بخوبی انجام دیئے اور وہ بلوچ لبریشن آرمی کے ایک ممتاز اور نمایاں حیثیت کے حامل ساتھی تھے جن کی محنت قربانی اور خلوص کو بطور مثال ہمیشہ یاد رکھنے اور ان کے صابرانہ اور بردبارانہ کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی نے ان کو پھلین شہید کا اعزاز دیا، یاد رہے کہ اس سے پہلے یہ اعزاز حاصل کرنے والے شہداء میں شہید زبیر جان بلوچ، شہید سمیع جان بلوچ اور شہید خلیل جان بلوچ شامل تھے۔
“جب دشمن جدید جنگی مشینری کے بل بوتے پر حملہ آور ہوتا ہے تو گوریلا کے پاس صرف دو ہتھیار ہوتے ہیں زمین کی قربت اور قربانی کا جذبہ ہے۔ وہ نہ صرف دشمن کے محاصرے کو چیرتا ہے بلکہ اپنے خون سے آزادی کے راستے کی نشان دہی کرتا ہے۔” سنگت امیر الملک عرف جمال جان، گزین بلوچ اور شیرا بلوچ نے یہی اصول اپنایا اور گوریلا جنگ کا فلسفہ یہ ہے کہ جنگ طاقت کے توازن پر نہیں بلکہ ارادے اور مزاحمت کی شدت پر جیتی جاتی ہے۔ دشمن کی فضائی قوت اور محاصرے کے باوجود ان ساتھیوں نے ثابت کیا کہ گوریلا صرف لڑنے کے لیے نہیں بلکہ تاریخ لکھنے کیلئے بھی ہوتا ہے۔
شہید پھلین امیر الملک بلوچ کی شہادت کا عمل محض کسی فرد کی قربانی نہیں بلکہ ایک فکری بغاوت کی تکمیل تھی۔ فلسفیانہ اعتبار سے ہر جدوجہد اپنی معراج کو تب پہنچتی ہے جب اس کا سب سے مخلص مسافر اپنا خون اس راہ پر بہانے کو تیار ہو۔ سقراط نے زہر کا پیالہ اس لیے پیا تھا کہ وہ اپنے نظریے کی سچائی کو ثابت کرسکے، حسین ابن علی نے کربلا میں جان دی تاکہ ظلم کی نفی ممکن ہو، یہی فلسفہ امیر الملک بلوچ کی آخری گولی میں پنہاں ہے یہ نہ صرف مزاحمت کی معراج تھی بلکہ ایک نظریاتی حقیقت کی مہرِ تصدیق بھی ہے۔
Revolution is not an apple that falls when it is ripe. You have to make it fall. Che Guevara
امیر جان کا آخری گولی خود پر استعمال کرنا اس بات کا اعلان تھا کہ شکست، سرنڈر یا دشمن کے ہاتھوں زندہ گرفتاری گوریلا جنگجو کے لغت میں شامل نہیں ہے۔ یہ وہی تاریخی لمحہ تھا جب اسپین کے محاصرے میں مورش جرنیلوں نے اپنی آخری تلواریں توڑ ڈالیں، جب تپائی کی جنگ میں انڈونیشین مجاہدین نے “آزادی یا موت” کا نعرہ بلند کیا، جب ویتنام کے جنگجو آخری گولی تک امریکی فوجیوں سے لڑتے رہے۔
پھیلن امیر الملک بلوچ کی زندگی اور جدوجہد ایک نوآبادیاتی جنگ کے پس منظر میں سمجھی جانی چاہیے۔ جب کوئی ریاست کسی قوم پر قبضہ کرتی ہے تو وہ صرف اس کی زمین پر نہیں بلکہ اس کے اجتماعی شعور پر بھی قبضہ جمانے کی کوشش کرتی ہے۔ نوآبادیاتی قوتیں ہمیشہ دو محاذوں پر لڑتی ہیں، ایک عسکری اور دوسرا فکری ہے۔ عسکری محاذ پر وہ جنگی طاقت کے ذریعے آزادی پسندوں کو ختم کرنا چاہتی ہیں جبکہ فکری محاذ پر وہ غلامی کو ذہنوں میں راسخ کرنا چاہتی ہیں تاکہ لوگ آزادی کے خواب سے ہی دستبردار ہوجائیں۔ فرانز فینن نے نوآبادیاتی غلامی کو صرف جسمانی نہیں بلکہ نفسیاتی جبر قرار دیا۔ اس کے مطابق نوآبادیاتی حکمران صرف زمین نہیں چھینتے بلکہ بغاوت کی سوچ کو ختم کرنے کے لیے پورا سماجی ڈھانچہ اس طرح ترتیب دیتے ہیں کہ غلامی کو تقدیر بنا دیا جائے مگر یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب مزاحمتی شعور پروان چڑھتا ہے۔ بلوچ مزاحمت کی جدوجہد اسی نفسیاتی بغاوت کا عملی مظہر ہے اور پھلین امیر الملک جان جیسے گوریلا جنگجو اس جنگ میں وہ کردار ادا کی ہے جو تاریخ میں صرف آزاد منش روحیں ہی کرسکتی ہے۔
The oppressed will always believe the worst about themselves. Frantz Fanon
لیکن پُھلین امیر جان نے ثابت کیا کہ غلامی کو اپنی تقدیر سمجھنے والے غلط ہے۔ اس نے دشمن کے خلاف ہتھیار اٹھایا نظریاتی اصولوں پر کھڑا رہا اور بالآخر اپنی آخری گولی سے خود کو امر کردیا۔
گوریلا جنگ کی تاریخ میں آخری گولی کا تصور ہمیشہ ایک انقلابی مزاحمت کی علامت رہا ہے۔ یہ نظریہ کسی بھی مسلح جدوجہد میں اس بنیادی اصول پر مبنی ہوتا ہے کہ مزاحمت کار کبھی بھی دشمن کے ہاتھوں زندہ گرفتار نہیں ہوگا۔تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات ہیں جہاں جنگجوؤں نے آخری گولی یا آخری بم خود پر استعمال کیا تاکہ دشمن انہیں زندہ نہ پکڑ سکے اور ان کے نظریات کو توڑ نہ سکے۔ اسپین کے مور جنگجو میں جب غرناطہ میں شکست یقینی ہو گئی تو کئی مزاحمت کاروں نے اپنی آخری تلواریں اور خنجر خود پر چلا دیے تاکہ وہ صلیبیوں کے ہاتھوں گرفتار نہ ہوں۔ جب بولیویا کے جنگلوں میں چی گویرا کو گھیر لیا گیا تو اس کے پاس آخری گولی تھی مگر وہ زخمی حالت میں گرفتار ہوا مگر اس کی مزاحمت نے گوریلا جنگ کے اصولوں کو مزید تقویت دی۔ ویتنام کی جنگ میں ویت کونگ گوریلا جنگجو اپنے مشنز میں ہمیشہ ایک آخری گولی اپنے لیے بچا کر رکھتے تاکہ اگر وہ دشمن کے نرغے میں آجائیں تو اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہوئے جان دے سکیں۔
7 اپریل 2014 کو جب پھلین امیر الملک بلوچ دشمن کے نرغے میں آیا تو اس کے پاس فقط ایک آخری گولی تھی اس نے اپنی تمام گولیاں لڑ کر ختم کیں اور جب کوئی راہ باقی نہ رہا تو اس نے اپنی آخری گولی اپنے جسم میں پیوست کرکے ہمیشہ کے لیے آزادی کا استعارہ بن گیا۔ یہی وہ عمل تھا جو خالد بن ولید نے رومیوں کے خلاف جنگ میں کیا تھا اور جو الجزائر کی تحریکِ آزادی کے مجاہدین نے کیا تھا۔ پھلین امیر جان نے صرف گولی نہیں چلائی بلکہ ایک ایسی تاریخ رقم کی جو گوریلا جنگ کی حکمتِ عملی میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
You may kill a revolutionary, but you can never kill the revolution. Fred Hampton
پھلین امیر الملک بلوچ کی آخری گولی صرف ایک گولی نہیں تھی بلکہ یہ بلوچ جدوجہد کے ایک مستقل اصول کی علامت تھی۔ یہ اصول ہے کہ ایک سچا جنگجو کبھی سر نہیں جھکاتا، کبھی شکست تسلیم نہیں کرتا اور کبھی دشمن کے آگے زندہ گرفتاری کو قبول نہیں کرتا ہے۔
پھلین امیر الملک جان کی شہادت ایک سوال چھوڑتی ہے کہ کیا ہم صرف ماضی کے انقلابیوں کو یاد کرکے خود کو بری الذمہ سمجھ سکتے ہیں یا ہمیں بھی اسی روشنی کو اپنے اندر زندہ رکھنا ہوگا؟ فکری جدوجہد محض کتابوں میں زندہ نہیں رہتی بلکہ یہ عمل قربانی اور نظریاتی استقلال سے پروان چڑھتی ہے۔ پھلین امیر الملک بلوچ کی زندگی اس بات کا اعلان ہے کہ حقیقی گوریلا جنگجو وہی ہوتا ہے جو آخری گولی تک اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ اس کے قدموں کے نشان نہ صرف دشمنوں کے لیے رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ آنے والے انقلابیوں کے لیے ایک مشعل راہ بھی ہے۔ یہی گوریلا جنگ کا اصول ہے یہی نوآبادیاتی غلامی کے خلاف جدوجہد کا نظریہ ہے اور یہی امیر الملک کی آخری گولی کا فلسفہ ہے۔
Victory is for those who persevere and have the will to fight to the last bullet. Ho Chi Minh.
لول کبو لولی نُم امیرے جانے
ڈیھ آ کے سدخہ او کرے جانے
قلو نا مشتے او کرے خیسُن
وخت ئنا خواست ہم اسکہ اندُن
بخت ئنا خواجہ پُھلین شہیدے
دو مون کہ لُمہ پُھلین شہیدے
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔