مستونگ: جبری گمشدگیوں کے خلاف مرکزی شاہراہ پر 10 گھنٹوں سے زائد دھرنا جاری

129

مستونگ لاپتہ کے لواحقین نے پیاروں بازیابی تک شاہراہ پر دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان کے ضلع مستونگ سے پاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی کا نشانہ بننے والے لاپتہ ظہور احمد سمالانی اور سید گل سیدکلانی کے بازیابی کیلئے انکے لواحقین نے کوئٹہ کراچی مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کیلیئے بند کردیا ہے۔

ظہور احمد سمالانی اور سید گل سیدکلانی کے لواحقین کی جانب سے آج صبح مستونگ کے قریب کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر دھرنا دیکر شاہراہ کو تمام تر ٹریفک کے لئے بند کردیا گیا تھا جس کے بعد سے مقامی انتظامیہ سے مذاکرات کے ناکامی کے بعد لواحقین کا دھرنا گذشتہ دس گھنٹوں سے جاری ہے۔

دھرنے کے باعث کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر ایک دفعہ پھر ٹریفک معطل ہوگئی اور درجنوں گاڑیاں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

اس موقع پر لواحقین کا کہنا ہے جب تک ظہور احمد سمالانی اور سید گل کو بازیاب نہیں کیا جاتا اور سمالانی ہاؤس عمر آباد میں خفیہ اداروں کے چھاپے چادر و چار دیواری کی پامالی کے نہ رکنے والا سلسلہ بند نہیں کیا جاتا ہمارا دھرنا غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔

لواحقین نے دونوں لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔