زہری کے آغوش میں گم گشتہ نایاب گوہر، ضیا جان
تحریر: میرو بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
انقلاب جب رخ بدلتا ہے، تو سب سے پہلے اپنے پیاروں کی قربانی مانگتا ہے۔ سوچنے کی صلاحیت نے انسان کے دل میں بغاوت کو جنم دیا، اور بغاوت نے انسان کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنے حق کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کو تیار ہوگیا۔
انسان حاصل کرنے پر آ جائے، تو وہ پوری کائنات تسخیر کر سکتا ہے، پاؤلو کوئلو اپنی کتاب الکیمسٹ میں لکھتے ہیں، “جب تم کسی چیز کو پوری شدت سے چاہو، تو کائنات کا ہر ذرہ تمہیں اس سے ملانے کے لیے سازش رچاتا ہے۔”
اسی چاہت نے ایک ایسے کردار کو جنم دیا، جس نے پاؤلو کوئلو کے قول کو حقیقت میں ڈھال دیا، جس کے چاہت کی شدت نے اسے عشق کے اس مقام تک پہنچایا، جہاں اس نے اپنے گلے میں اپنی گولی اتار دی۔ اس عاشق کو اپنی گود میں لینے کے لیے پورے بلوچستان نے سازش کی، اور آخر کار ایک عظیم کردار کو اپنی پناہ میں لے کر اس زمین نے اس کردار کی چاہت اور اپنی سازش کو کامیاب بنایا۔
ضیا عرف دلجان (ٹک تیر)، جس نے اپنے خون سے بہاروں کے گواڑخوں کی آبیاری کی، اور اس زمین پر ایسا کردار نبھایا کہ بلوچستان کی خاک قیامت تک ضیا کے کردار پر ناز کرتی رہے گی۔
ضیا وہ کردار تھا، جس کو شور پارود نے اپنی گود میں پالا، زہری نے اپنے عظیم خاک سے جنما، اور چلتن نے اس کے لیے آنسو بہائے۔
محبت اور عشق میں امتیاز یہ ہے کہ محبت زیست کا سبق عطا کرتی ہے، جب کہ عشق فنا کی آغوش سے نمودار ہوا ہے۔ ضیا ایک عاشق تھا، اپنے وطن کا عاشق، جو عشق کے عروج پر فائز ہوچکا تھا۔
موت کی پیشانی پر زندگی کی داستان لکھنے والے ضیا نے تحریک کو منظم و مضبوط کرنے کے لیے انتھک محنت کی۔ سامراجی قوت کے خلاف بلوچ عوام میں شعوری جذبہ پیدا کرنے میں دن رات ایک کر دیے۔
دوستی، یاری، مہر و محبت کا پیکر دلجان، جس نے شور پارود کے پہاڑوں میں کچھ ایسی یادیں چھوڑی، جن کو یاد کر کے آج بھی دلجان کے ساتھی پرنم ہوتے ہیں۔
ضیا کے دیے گئے درس آج بھی بلوچ نوجوانوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ ضیا کے فکر و نظریے کے زیرِ اثر، آج بلوچ نوجوان دشمن کو مارنے سے لے کر اپنے سینے میں گولی پیوست کرنے تک کو تیار ہیں۔
یقیناً، آج اگر پاؤلو کوئلو حیات ہوتا، تو وہ نہ صرف اپنے اس قول، بلکہ اپنی تمام علمی میراث ضیا جان کے نام کر دیتا۔ ضیا بلوچستان کا سانتیاگو تھا۔ جس نے اپنی منزل پانے کے لیے بے شمار کرب، مشقت، رنج اور دشواریوں کا سامنا کیا۔ ضیا نے ہر سختی کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا، کبھی حوصلہ نہیں چھوڑا، ہمت کے سایے میں ضیا مصیبتوں کی تاریک راتوں سے نبرد آزما ہو کر روشنی کی جانب گام کرتا گیا۔
ضیا ایک راہشون تھا، جس کی راہشونی میں ہزاروں وطن زادوں نے موت پر بیعت کر کے زندگی کو پایا۔ ضیا ایک کتاب تھا، جس کی رہنمائی میں اندھیروں کو شکست دے کر جوانوں نے منزل کو قدموں تلے کر دیا۔ ضیا امیر کے فلسفے کا وارث تھا، جس نے امیر کے نقشِ قدم پر چل کر اپنے حلق میں اپنی بندوق سے ڈھائی انچ کی گولی اتار دی، اور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گیا۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔