بی وائی سی کو کیا کرنا چاہیے؟
تحریر: لطیف بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ
اگر بی وائی سی عوامی سیاست نہیں کرے تو دوسرا راستہ پارلیمانی سیاست کا ہے اور تیسرا مسلح مزاحمت کا آج جو ساتھی بی وائی سی کی پُرامن سیاسی مزاحمت پر تنقید کر رہے ہیں وہ اس سے قبل پارلیمانی سیاست کو بھی نشانہ بناتے رہے ہیں اور مسلح مزاحمت پر بھی سوالات اٹھاتے رہے ہیں بعض لوگوں کو مسلح تنظیموں پر اعتراض ہے کہ وہ محنت کشوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ ریاستی بیانیہ ہے لیکن اس کے برعکس مسلح بلوچ تنظیمیں نے ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتی آئی ہیں کہ وہ مزدوروں کو نشانہ نہیں بناتے، ان کا مؤقف ہے کہ وہ صرف ریاستی ایجنٹوں اور فورسز کے اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہیں جو مخصوص حالات میں بھیس بدل کر عام لوگوں میں گھل مل جاتے ہیں۔
جہاں تک پارلیمانی سیاست کا تعلق ہے اس کی حقیقت سب کے سامنے ہے حالیہ انتخابات میں کس طرح عوامی رائے کا سودا کیا گیا اور کس طرح زیادہ بولی لگانے والوں کو سیٹیں دی گئیں اس سے واضح ہوتا ہے کہ پارلیمانی سیاست میں شرکت سیاسی موت کے مترادف ہے۔ اگر ریاست انتخابی عمل میں مداخلت نہ بھی کرے اور بی وائی سی تمام نشستیں جیت بھی لے تب بھی کوئی بڑی تبدیلی ممکن نہیں کیونکہ پاکستان کے موجودہ سیاسی فریم ورک میں پارلیمانی سیاست بے سود اور وقت کا ضیاع ہے۔ اس کی بہترین مثال نواز شریف اور عمران خان کی سیاست ہے۔ 2018 کے انتخابات میں کس طرح عمران خان کو اقتدار میں لایا گیا اور 2024 کے انتخابات میں کس طرح نواز شریف کو نوازا گیا یہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔
اس کے برعکس، اسٹریٹ پالیٹکس (عوامی سیاست) ہی وہ راستہ ہے جو بی وائی سی نے اختیار کی ہے۔ ایک غیر مسلح سیاسی تنظیم کا کام پُرامن مزاحمت ہے جو احتجاجی ریلیوں، جلسوں، جلوسوں، سیمینارز، پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کے ذریعے کی جاتی ہے اب جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں جبری گمشدگی اور ٹارگٹ کلنگ کوئی خاص بات نہیں اور اس پر “اُچھل کود” کی ضرورت نہیں وہ بلوچ ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کے احتجاج کو محض “اوچھل کود” تصور کرتے ہیں دوسری طرف یہی لوگ عوام کو پُرامن سیاست کے
مشورے بھی دیتے ہیں۔
کیا لینن اور مارکس کی نظریات کو بطور فیشن اپنانے، روسی لٹریچر پڑھنے اور کسی کمرے میں بیٹھ کر سگریٹ کے لمبے لمبے کش لگانے کی طرح بے مقصد طویل بھاشن بازی سے کچھ حاصل کیا جا سکتا ہے؟ کیا بی وائی سی کو بھی یہی طریقہ اپنانا چاہیے اور بلوچ نوجوانوں کو سوشلزم کی بتی کے پیچھے لگا کر ان کی سیاسی و علمی صلاحیتوں کو ضائع کرنا چاہیے؟
اگر احتجاج نہ کیا جائے، روڈ بلاک نہ ہو، بازار بند نہ کیے جائیں تو پھر بی وائی سی کون سا راستہ اپنائے؟ جو لوگ محنت کشوں کے نقصان کا حساب لگاتے ہیں، وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ جن لوگوں کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا جاتا ہے یا ماورائے عدالت قتل کیا جاتا ہے وہ بھی محنت کش ہے۔ بی وائی سی کے ایک دن کی ہڑتال سے محنت کشوں کے نقصان کا حساب دیا جاتا ہے مگر ریاستی جبر کے باعث بلوچ قوم کو ہونے والے نقصانات کا کوئی ذکر نہیں کرتا۔ ریاستی پالیسیوں کے نتیجے میں ایک بلوچ کس اذیت میں مبتلا ہے، کیسے ان کے کاروبار تباہ کیے جا رہے ہیں، زمینداری برباد کی جا رہی ہے، اور گھروں کو فوجی کیمپوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے، اس پر کوئی بات نہیں کرتا۔
بلوچ سماج کو “محنت کش” اور “مزدور” جیسے طبقوں میں تقسیم کرنا دراصل ریاستی بیانیہ ہے، جو سرکاری میڈیا کے ذریعے پھیلایا جاتا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ بلوچستان میں دو ہی طبقات ہیں ایک محکوم غلام اور دوسرا ظالم قابض۔ جو لوگ ریاستی جبر پر خاموش رہتے ہیں وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اسی بیانیے کی ترویج کر رہے ہیں۔
اگر نام نہاد دانشور بلاجواز اعتراض کرنے کے ساتھ ساتھ صرف اچھل کود جیسے طنزیہ الفاظ پر بات ختم کرنے کے بجائے کوئی تعمیری مشورہ دیتے کہ اگر بی وائی سی سیاسی مزاحمت ترک کر دے تو پھر اسے کیا کرنا چاہیے تو یہ زیادہ دانشمندانہ رویہ ہوتا دانشور اور لکھاری کا کام صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ مسائل کا حل بھی تجویز کرنا ہوتا ہے لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں کئی نام نہاد دانشور موقع پرستی کا شکار ہو جاتے ہیں وہ حالات کے مطابق اپنی رائے بدلتے ہیں اور حقیقی رہنمائی فراہم کرنے کے بجائے محض وقتی شہرت اور ذاتی مفاد کے لیے تجزیے پیش کرتے ہیں اگر وہ واقعی سنجیدہ ہوتے تو وہ نہ صرف اصلاحی تجاویز دیتے بلکہ عملی راستہ بھی دکھاتے۔
تنقید برائے تنقید دنیا کا سب سے آسان کام ہے جبکہ اس سے کہیں زیادہ مشکل یہ ہے کہ آپ سیاسی کارکنوں کی تربیت کریں اور انہیں سیاسی عمل میں بھرپور طور پر شامل کرنے کے لیے ایک واضح راستہ دکھائیں، سیاسی منظرنامے میں صرف تنقید کرنا کافی نہیں کیونکہ اس سے کوئی حقیقی تبدیلی نہیں آتی اس کے بجائے نام نہاد دانشوروں اور لکھاریوں کو چاہیے کہ وہ کارکنوں کو سیاسی حکمت عملی، قیادت کی مہارت اور اجتماعی جدوجہد کے اصول سکھائیں تاکہ وہ نہ صرف موجودہ حالات کا تجزیہ کر سکیں بلکہ انہیں بہتر بنانے کے لیے عملی قدم بھی اٹھا سکیں یہ وہ کام ہے جو سیاسی عمل کو آگے بڑھانے اور عوامی سطح پر حقیقی اثرات پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے اگر صرف تنقید کی جائے اور اس کے ساتھ کوئی عملی مشورہ نہ دیا جائے تو پھر وہ صرف موقع پرستی کے مترادف ہوتا ہے۔
دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔