وزیر اعظم شہباز شریف نے بدھ کو ضلع بارکھان میں ’مسلح افراد‘ کی طرف سے بس پر حملہ کر کے مسافروں کو ہلاک کرنے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب راڑکن کے علاقے میں نیشنل ہائی وے پر پیش آیا۔ مسافر بس کوئٹہ سے پنجاب کے شہر فیصل آباد جا رہی تھی۔
لیویز حکام کے مطابق 25 سے 30 مسلح افراد نے بس کو روک کر 7 افراد کو اپنے ساتھ قریبی پہاڑی پر لے گئے اور وہاں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔
لیویز حکام کے مطابق واقعے میں ہلاک افراد کی شناخت عدنان مصطفی، عاشق حسین، شوکت علی، محمد عاشق، عاصم علی، محمد اجمل اور محمد اسحاق کے نام سے ہوئی ہے۔
ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان کی لاشیں ایمبولینسز کے ذریعہ پنجاب منتقل کر دی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں واقعے کی مذمت کی ہے۔
وزیر اعظم آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایات جاری کی ہیں کہ ’مجرمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔‘
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ حکومت اور سکیورٹی فورسز ملک سے ’دہشت گردی‘ کی مکمل روک تھام کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
رواں سال میں بسوں سے اتار کر ہلاک کرنے کا پہلا بڑا واقعہ
بلوچستان میں مسلح افراد کی جانب سے مسافروں کو بسوں سے اتار کر گولیاں مارنے کے واقعات پہلے بھی پیش آتے رہے ہیں لیکن رواں سال یہ اپنی نوعیت کا پہلا بڑا واقعہ ہے۔
اس سے قبل بلوچستان کے ضلع قلات میں31 جنوری اور یکم فروری کی درمیانی شب مسلح افراد کی جانب سے کوئٹہ کراچی شاہراہ پر پنجگور سے آنے والی ایک مسافر کوچ پر فائرنگ سے 17 فورسز اہلکار مارے گئے تھے۔
گزشتہ سال اگست کے مہینے میں بارکھان سے متصل ضلع موسیٰ خیل میں ڈیرہ غازی خان کے راستے بلوچستان اور پنجاب کے درمیان شاہراہ پر مختلف گاڑیوں سے 22 افراد کو اتار کر انھیں گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ ان میں سے دو کا تعلق بلوچستان جبکہ باقی تمام لوگوں کا تعلق پنجاب کے مختلف علاقوں سے تھا۔
جبکہ گزشتہ سال اپریل میں نوشکی میں کوئٹہ اور تفتان کے درمیان شاہراہ پر ایک بس سے پنجاب سے تعلق رکھنے والے 9 مسافر وں کو فائرنگ کر کے ہلاک کیا تھا۔
گذشتہ سال موسیٰ خیل اور نوشکی میں حملوں کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔
تاہم بارکھان میں کاروائی کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔
بارکھان کہاں واقع ہے؟
ضلع بارکھان بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے جنوب مشرق میں اندازاً ساڑھے چار سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اس ضلع کی جنوب اور جنوب مشرق میں سرحدیں بلوچستان کے شورش سے متاثرہ دو اضلاع کوہلو اور ڈیرہ بگٹی سے لگتی ہیں۔ شمال مشرق میں بارکھان کی سرحد پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے متصل ہے۔
اس ضلع کے بیشتر علاقے دشوارگزار پہاڑی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اس ضلع کی آبادی کی غالب اکثریت کھیتران قبائل پر مشتمل ہے جبکہ اس کے سرحدی علاقوں میں مری اور بگٹی قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد بھی آباد ہیں۔