واقعہ دازن تمپ ریاستی جبر اور اجتماعی سزا کی مثال ہے۔ این ڈی پی

102

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ دازن تمپ سے تعلق رکھنے والے ظریف کی جبری گمشدگی اور اس کے بعد اس کی مسخ شدہ لاش کے برآمد ہونے کے واقعے پر پارٹی گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتی ہے اور اس واقع شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ ریاستی جبر کی واضح مثال ہے۔ہم اس دکھ کی گھڑی میں ظریف کے خاندان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے غم کو اپنا غم سمجھتے ہیں۔ یہ سانحہ نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پوری قوم کے لیے ایک المیہ ہے۔

انہوں نے کہاکہ اس واقعے کو ریاستی جبر اور اجتماعی سزا کی ایک اور مثال سمجھتے ہیں، جو کہ غیر جمہوری اور غیر انسانی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔اجتماعی سزا بین الاقوامی انسانی قوانین اور اصولوں کی مکمل خلاف وزری ہے۔ یہ اصول جنگ کے دوران بھی نافذ ہوتا ہے، اور شہریوں کے خلاف اس طرح کے اقدامات کو کسی بھی صورت جواز نہیں دیا جا سکتا۔اس طرح کی غیر انسانی پالیسیاں بلوچستان میں تسلسل کے ساتھ نافذ کیے جا رہے ہیں جنہیں عام لوگوں میں خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں تاکہ وہ قومی تحریک سمیت کسی بھی قسم کی سیاسی یا سماجی حقوق کے لیے آواز نہ اٹھا سکیں۔ یہ حکمت عملی عوامی مزاحمت کو کمزور کرنے کی کوشش کے طور پر استعمال ہوتی ہےجبکہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانا ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ظریف کے اہلِ خانہ پر یہ سانحہ ایک قیامت بن کر ٹوٹا ہے۔ انہوں نے انصاف کے حصول کے لیے ظریف کی تدفین کو احتجاجی عمل کے طور پر مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی لاش کے ساتھ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کی ناامیدی اور ریاستی اداروں پر عدم اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم تمام انسانی حقوق کی تنظیموں، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور انصاف کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

ترجمان نے کہاکہ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی متاثرہ خاندان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور ان کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے۔ ہم انسانی حقوق کے اداروں، اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کا نوٹس لیں اور ایسے واقعات کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔