بلوچ قوم پرست رہنما جاوید مینگل نے سماجی رابطے کی ماہیکرو بلاگنگ ساہٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مستونگ میں اسکول کے معصوم بچوں پر بزدلانہ حملہ اور بے گناہ، معصوم بچوں کی شہادتیں ریاستی اداروں کی بربریت کی انتہا ہیں۔ بلوچ قومی تحریک، خصوصاً سیاسی مزاحمت کو کچلنے کے لیے بے گناہ بچوں کا خون بہایا گیا۔ پاکستانی فوج اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے ایسے ہولناک اقدامات کرتی ہے، جنہیں اس کے گماشتے انجام دیتے ہیں۔میر جاوید مینگل نے کہا کہ ایک ہی دن میں مستونگ میں 7 معصوم افراد کو شہید کر دیا گیا جبکہ راولپنڈی سے 10 بلوچ طلباء کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دونوں واقعات ریاستی جبر، بلوچ نسل کشی اور ظلم کی پالیسیوں کا حصہ ہیں۔
تازہ ترین
جمعرات کو تہران میں مسلسل دھماکوں کی آوازیں: ’ہمارے دماغ دھماکوں کے عادی ہو...
مغربی اور مشرقی تہران کے رہائشیوں نے جمعرات کی شام بہت زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی ہیں۔
مغربی تہران میں 20 سالہ لڑکی نے مجھے...
بلوچ طالب علم ممتاز بلوچ کی باحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے۔وی بی ا...
جبری لاپتہ طالب علم ممتاز بلوچ کے لواحقین نے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) سے رابطہ کر کے...
جنیوا میں بی این ایم کا احتجاج، بلوچستان کے لیے عالمی مداخلت کا مطالبہ
بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے جنیوا میں عالمی مہم کے تحت بروکن چیئر کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ اور فوٹو ایگزیبیشن...
کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری
بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیرِ اہتمام قائم احتجاجی کیمپ تنظیم...
پنجگور، تربت: فائرنگ کے واقعات میں 4 افراد زخمی
بلوچستان کے ضلع پنجگور اور تربت میں فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات میں چار افراد زخمی ہوگئے۔
اطلاعات...



















































