چینی شہریوں کی حفاظت کے لئے پاکستان کے اعلیٰ حکام کا اجلاس

162

پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ چینی شہریوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، چینی شہریوں سے متعلق سیکیورٹی آڈٹ کو مقررہ ٹائم لائن کے اندر یقینی بنایا جائے، متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے نئے ایس او پیز پر 100 فیصد عملدرآمد کو یقینی بنائی۔

پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ کی زیر صدارت چینی شہریوں کی سیکیورٹی سے متعلق کور کمیٹی کے اجلاس میں ملک بھر میں چینی شہریوں کی سیکیورٹی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری دفاع، انچارج نیشنل کورآرڈینیٹر نیکٹا، کورآرڈینیٹر نیشنل ایکشن پلان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔

اس کے علاوہ تمام صوبوں، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز، آئی جیز پولیس اور سیکریٹریز داخلہ وڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

اجلاس میں چیف سیکرٹریز و آئی جیز پولیس نے اجلاس کو چینی شہریوں کی حفاظت کے سلسلے میں اٹھائے گئے اقدامات کے متعلق آگاہ کیا۔

وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ چینی شہریوں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، چینی شہریوں سے متعلق سیکیورٹی آڈٹ کو مقررہ ٹائم لائن کے اندر یقینی بنایا جائے، متعلقہ ادارے باہمی تعاون سے نئے ایس او پیز پر 100 فیصد عملدرآمد کو یقینی بنائی۔

محسن نقوی نے کہا کہ چینی شہریوں کی سیکیورٹی کے ایس او پیز تمام متعلقہ اداروں کی مشاورت سے تیار کئے گئے ہیں، حتی الوسع کوشش کی گئی ہے کہ ان ایس او پیز میں سیکیورٹی کے تمام پہلوں کو مد نظر رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ میں کام کرنے والے ادارے مزید سفارشات سے بھی آگاہ کریں، کور کمیٹی ان سفارشات کا جائزہ لے گی، اگر کہیں بھی بہتری کی گنجائش ہوئی تو ان سفارشات پر عملدر آمد یقینی بنایا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان و خصوصاً بلوچستان میں چینی شہریوں پر مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر حملے ہوئے ہیں۔ جنکی اکثریت کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی ( بی ایل اے) مجید برگیڈ نے قبول کی ہوئی ہے۔

دوسری جانب دیکھا جاسکتا ہے کہ رواں سال بی ایل اے مجید برگیڈ کے حملوں میں کافی تیزی آئی ہے۔

واضح رہے کہ سی پیک کو بلوچ سیاسی و عسکری حلقوں کی جانب سے استحصالی منصوبہ قرار دیا جاچکا ہے جس کے ردعمل میں سیاسی حلقوں کی جانب سے اندرون و بیرون ملک مختلف فورمز پر احتجاج کرنے سمیت بلوچ مسلح آزادی پسند جماعتوں کی جانب سے سی پیک و دیگر تنصیبات کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔