معرکہ اسکلکو کا آنکھوں دیکھا حال – میرک بلوچ

801

معرکہ اسکلکو کا آنکھوں دیکھا حال

تحریر: میرک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

برزکوہی کہتے ہیں کہ “ہر جنگ جیتنے کے لیے نہیں لڑی جاتی بلکہ کئی جنگیں جنگ شروع کرنے کے لیئے بھی لڑی جاتی ہیں۔” بلوچستان میں جاری حالیہ تحریک کے دوران تمام جنگیں جیتنے کے لیے لڑی جارہی ہیں، لیکن کئی جنگیں، جنگ جاری رکھنے کے لیے لڑی گئی ہیں۔ جس میں ایک اسکلکو قلات کا معرکہ ہے۔ گزشتہ دنوں میں جب نیٹورک پر ساتھیوں سے حال احوال کرنے کی نیت سے پہاڑ کی چوٹی پر چڑھا، تو میرا رابطہ سنگت دروشم سے ہوا، جنگ کی ابتدائی تفصیلات میں نے اخبار میں دیکھیں اور پڑھیں تھیں، اسکے علاوہ دروشم سے بھی حال احوال ہوا اور اس سے لڑائی کی تفصیلات جانیں، کیونکہ دروشم از خود اس جنگ میں اسپشل ٹیکنیکل آپریشن اسکواڈ کے سرمچار کی حیثیت سے شامل تھا۔ وہ اس معرکے کے فرنٹ لائن پر تھا۔

سنگت دروشم کے مطابق “ہمیں اچانک دن گیارہ بجے کمانڈر برزین نے مخابرے کے ذریعے فوراً پہنچنے کے احکامات جاری کیں، ہمیں جنگ کا کوئی اندازہ نہیں تھا، البتہ ہم نے چند ساتھیوں کے ہمراہ، اپنے چائے کی کیٹلی اٹھائی، بوتل میں پانی بھرا اور خشک روٹی جو اس وقت ساتھی پکا رہے تھے رختِ سفر میں باندھ دی اور پھر ہم عازم سفر ہوئے، اس دوران خشک روٹی کھاتے ہوئے پہاڑوں سے اترے۔ ہم ابھی تک راستے میں ہی تھے کہ باقی ساتھیوں کو دو بجے تک پہاڑوں سے اترنے کے احکامات جاری کئے گئے۔ سب ساتھی جلدی کھانا کھاکر اسکلکو کی طرف محوسفر ہوئے۔

ہم جب پہاڑوں سے اترے تو کمانڈر برزین ہماری رہنمائی کے لیے آیا ہوا تھا، انہوں نے چار چیک پوسٹوں پر قبضہ کرنے کی پوری حکمت عملی اور ترتیب ہمارے سامنے رکھ دیا۔ اسکے بعد ہم خاموشی سے اپنے ہدف کی طرف تیزی سے قدم اٹھاتے روانہ ہوئے۔ برزین بھی ہمارے ساتھ روانہ ہوا۔ جب ہم چار بجے کے قریب ایک مقام پر پہنچے تو وہاں کافی لوگ سیر و تفریح کیلئے ہربوئی کی طرف جارہے تھے۔ انہیں ہماری ایک ٹیم نے روکے رکھا۔ چھ بجے تک تمام ساتھی اسی جگہ پر جمع ہوئے۔ سنگت کافی تھکے ہوئے تھے لیکن کسی نے اُف تک نہیں کی۔ وقت کافی کم تھا، کمانڈر برزین اور کمانڈر نودان نے چند ساتھیوں کو سائیڈ پر نکالا اور جلدی سے ساتھیوں کو گروپوں میں تقسیم کیا۔ تمام ساتھی سورج ڈھلنے اور اندھیرا چھا جانے کا انتظار کرہے تھے۔

اس دوران کمانڈر برزین نے کمانڈر نودان اور ماما کے گروپوں کو علیحدہ جمع کیا اور یہ ہدایات جاری کیں کہ “نودان، آپ تنک کے جنوب مشرقی آوٹ پوسٹ پر حملہ کروگے، کمانڈر ماما آپ یہاں سے نودان کے ہمراہ جاو، نودان راستے میں آپ سے علیحدہ ہوگا، آپ آگے جائیں اور جنوب مغربی آوٹ پوسٹ پر حملہ کریں۔ میں، برزین اور کمانڈر سارتاف بیس کیمپ پر حملہ کرینگے۔ ہاں! نودان راکٹ اور بندوق کے گولیوں کا دھیان رکھیں، ہم سیدھا آپ کے نیچے میدان میں مورچہ بند ہونگے۔”

یہ احکامات جاری کرکے، ہنستے ہوئے لشکر اواری ءِ، اواری ءِ کہتے برزین سمیت ہم سے بھیڑ میں اوجھل ہوگئے۔ میں خود ماما کے گروپ میں تھا۔ ساڑھے دس بجے کے قریب کمانڈر نودان نے مخابرے پر اطلاع دی کہ ہمیں دشمن نے دیکھ لیا ہے۔ ماما نے پیچھے ہٹ کر چھپ جانے کی ہدایت جاری کی۔ اتنے میں فائرنگ کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جنگ کی شروعات سے پندرہ بیس منٹ بعد کمانڈر نودان نے اوٹ پوسٹ پر قبضہ کرنے اور دشمن کے چند اہلکار ہلاک کرنے کی خوشخبری دی۔ ہم ماما کے سنگت رات ہونے کی وجہ سے مسلسل پیش قدمی کررہے تھے۔ اب ہر طرف گولیوں کی تھڑتھڑاہٹ اور دھماکوں کی آوازیں آرہیں تھیں۔ ہماری نظریں دشمن کے خیمے پر تھا، جو رات کو سفید ظاہر ہو رہا تھا۔ ہم دشمن پر تابڑتوڑ حملے کررہے تھے۔ ساتھ ساتھ جلدی پیش قدمی بھی کررہے تھے۔

تقریباً چالیس منٹ کے مزاحمت کے بعد ہم دشمن کے مورچے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ دشمن کے تین اہلکار ہلاک پڑے تھے۔ البتہ باقی بھاگ چکے تھے۔ ہم نے کمانڈر برزین کو اپنی کامیابی کی اطلاع دی، فوجی ساز و سامان جمع کیا اور چیک پوسٹ کو نذرِ آتش کردی۔ ہوا چلنے اور بلند سطح مرتفع ہونے کی وجہ سے آگ کے شعلے پورے اسکلکو اور قلات کے لوگ دیکھ رہے تھے۔

اسکے بعد برزین نے ہمیں مورچہ سنبھالے رکھنے اور بیٹھ جانے کا کہا، ہم صبح تک وہیں پر ڈٹے رہے۔ رات کو دشمن کے فوج نے قلات کے طرف سے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی البتہ ہم نے اسے پیچھے دھکیل دیا۔ دشمن کے سرویلنس ڈرون ساری رات ہمارے اوپر چکر لگاتے رہے لیکن وہ مار گرانے کی حد سے اوپر تھے۔

صبح کمانڈر برزین اور سارتاف کے ساتھی بیس کیمپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہوئے اور بیس کیمپ پر مکمل قبضہ کرلیا گیا۔ تقریباً آٹھ بجے پاکستانی فوج کے چھ گن شپ ہیلی کاپٹر فضا میں نمودار ہوئے۔ اس دوران دشمن پیدل فورس کو روکے رکھا گیا، جنگی ہیلی کاپٹروں نے آتے ہی بے تحاشہ شیلنگ شروع کردی۔ جسکے بعد برزین نے ہیلی کاپٹروں پر حملہ کرنے کے احکامات جاری کیئے۔ سنگت ہیلی کاپٹروں پر مسلسل راکٹوں اور خودکار ہتھیاروں سے حملہ کر رہے تھے۔ یہ آنکھ مچولی ایک گھنٹے سے زیادہ عرصے تک جاری رہا۔ دشمن کے جنگی ہیلی کاپٹر فضا سے غائب ہوئے۔ اس کے بعد بزرین نے پیچھے ہٹنے کے احکامات جاری کیئے۔ تمام سنگتوں نے جنگی سنگر خالی کرنا شروع کردیئے، پھر ہم واپس ہوکر ایک محفوظ مقام تک پہنچ گئے۔”

میں نے دروشم سے دریافت کیا کہ آپ نے اس معرکے سے کیا سبق سیکھا؟ دروشم کا جواب تھا کی “میں نے آج سے پہلے منظم جنگ نہیں دیکھی تھی۔ جس طرح برزین ہدایت دے رہے تھے اور تمام سنگت عمل کر رہے تھے، مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ ہم ایک منظم فوج ہیں۔ جب مخالف سمت میں دشمن کو دیکھا تو اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ہمیں ایک ریگولر آرمی سمجھ کر روایتی انداز میں لڑ رہا ہے۔ پہلے دشمن ہماری گوریلا انداز کو سمجھ کر ہمارے اوپر چڑھ دوڑتا تھا، اسے پتہ تھا کہ گوریلا حملہ کرنے کے بعد جلدی غائب ہو جائیں گے۔ وہ سینہ تان کر لوگوں کے درمیان اپنے آپ کو فاتح ظاہر کرتا تھا البتہ اس دفعہ ہم بھی گوریلا نہیں تھے اور دشمن کی بزدلی کو پوری قوم نے دیکھ لیا۔ اب ہم دشمن کو اس طرح کا سبق سیکھائیں گے کہ وہ بلوچستان کو اتنی آسانی سے ہضم نہیں کرسکے گا۔”

دروشم جان، اللہ تمام سنگتوں کو سلامت رکھے۔ دشمن کا ظلم ہماری درسگاہ ہے۔ وہ جتنا وحشی بنے گا، ہم اتنا ظلم کے خلاف مزید منظم ہونگے۔ منظم اور مظبوط ہونے کے علاوہ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ تمام لڑائیاں جنگ جتنے کے لیے نہیں لڑی جاتی بلکہ حوصلے جیتنے کے لیے بھی لڑی جاتی ہیں۔”


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔