محکمہ صحت بلوچستان کو ایک مافیا نے یرغمال کیا ہوا ہے۔ بلوچ ڈاکٹرز فورم

62

بلوچ ڈاکٹرز فورم کے مرکزی ترجمان کی طرف سے جاری کیے گئِے بیان میں محکمہ صحت کی موجودہ صورت حال پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج کل پتہ نہیں چل رہا ہے کہ محکمہ صحت کس کے حوالے ہے اور کون چلا رہا ہے۔محکمے کے منسٹر سے لیکر نچلے طبقے تک سب ایڈک ازم پر محکمے کو چلا رہے ہیں ۔

ترجمان نے کہا کہ محکمہ صحت کی حالت زار دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ اس کو آجکل اللہ تعالی چلا رہا ہے اس کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ محکمے کے سربراہ منسٹر ہوتا اور ایسا لگتا ہے کہ منسٹر صاحب کو زور زبردستی یہ وزارت دی گئی ہے اور وہ روز اول سے محکمے سے کوئی دلچسپی نہیں لے رہے ہیں بس اپنا وقت گزار رہیں کہ کب وقت پورا ہوجائے ۔ اسی طرح دیگر آفیسرز بھی محکمہ جاتی امور نمٹانے میں کوئی دلچسپی نہیں لے رہے حتی کہ معمولی رخصت کی ایپلکشن بھی مہینوں تک پڑی رہتی ہیں اور ان پر عمل نہیں ہوتا صرف سیاسی اور سفارشی افراد کے کام اولین ترجیح پر ہوتے ہیں ۔ سکریٹری صاحب کو حسبِ سابق اور حسبِ روایات ایماندار اور ٹیکنکل صاحبان نے اپنے حصار میں میں لے رکھا ہے اور اسے انکے علاوہ کسی اور کی بات سمجھ نہیں آتی۔ محکمہ صحت کو ایک مافیا نے یرغمال کیا ہوا ہے ،کچھ افراد ایک ڈاکٹر آرگنائزیشن کے پیچھے چھپ کر بلیک میلنگ اور سودے بازی سے محکمے سے ذاتی مفادات حاصل کررہے ہیں۔

بلوچ ڈاکٹر فورم یہ بتانا چاہتا ہے کہ اس طرح کے بلیک میلر اور بھتہ خور مافیا پر شروع دن سے ھماری تشویش رہی ہے اور انکا ہر عمل ہماری نظروں میں ہے۔ آج مجبوراََ ہمیں ایسی باتیں کھولنی پڑ رہی ہیں تاکہ ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے دیگر ذمہ داروں کو بھی معلوم ہو کہ تمام ڈاکٹر ایک جیسے نہیں ہوتے۔ صرف چند گندی مچھلیاں ہیں جو پورے نظام کو گندہ کرنے پر تلے ہوے ہیں یہ افراد ڈاکٹرز سے دو مہینے کی سیلری کا سودا کرکے اور ایک آرگنائزیشن کا نام استعمال کرکے غیر قانونی طریقے سے پوسٹنگ ٹرانسفر ڈیپوٹیشن وغیرہ کرواتے جارہے ہیں۔ سنیرز آفیسرز سے انکے اختیارات چھین کر جونیرز کو نوازا جارہاہے۔

بلوچ ڈاکٹرز فورم نے اعلی حکام خاص کر وزیر ِ اعلی بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ وہ محکمہ صحت سے متعلقہ معاملات کو ترجیحی بنیاد پر حل کریں اور بی ڈی ایف نے اعلی احکام کو مطلع کرتے ہوے کہا کہ غریب عوام کو اس کی دیلیز پر صحت کی سہولت پہنچانے میں سرکار کو اپنی ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہیں مگر بلوچ ڈاکٹرز، اسٹوڈنٹس، اور پیرا میڈیکس کے خلاف کسی بھی قسم کی ناانصافی برداشت نہیں کی جائے گی ۔