قلات دھماکوں سے گونج اٹھا ۔ شہسوار بلوچ

1830

قلات دھماکوں سے گونج اٹھا

تحریر: شہسوار بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

بڑی مدتوں بعد مجھے ایک خیال ستا رہا ہے مگر میں اس خیال کو تحریر کرنے سے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں کیونکہ یہ خیال بہت ہی نازک اور دشوار گزار رستوں کا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میں وہ خیال تحریر نہ کر سکوں جو مجھے تحریر کرنا ہے کیونکہ آج رات کے آخری پہر دوستوں سے فارغ ہو کر قلات کے ایک ایسے اوتاخ پہنچا ہوں جہاں کمرے کی تنہائی پہلے سے ہی میرے انتظار میں تھی۔ تھکاوٹ سے چور میرے کاندھوں پر شدید درد محسوس ہو رہا تھا تھکاوٹ سے چور ہونے کے باوجود بھی کمرے کی تنہائی اور رات کے آخری پہر میں فرضی نام(برزین میر)کی یادیں مجھے اپنی طرف متوجہ کر رہے تھے۔ کیونکہ اس وتاخ سے شہید برزین کے بہت سارے یادیں وابستہ ہیں شاید جن کا مجھے علم بھی نہیں ہو انہی خیالوں کے ساتھ یہ بات بھی میرے ذہن پر حاوی ہو رہی ہیکہ اگر کوئی اپنے وطن اور شہیدوں کی لازوال قربانیوں اور غازیوں کی مسکراہٹ کو سامنے کو رکھ کر صاف دلی، رئیس زادہی کی زندگی اور گھر ماحول کو چھوڑ کر شور کے سائے دار درختوں کے بیچھ بیٹھے پھلین امیر جان، شہید عبدالحئی، شہید شکور اور دل جان جیسے دوستوں کی یادوں کو سامنے کرکے بہت کچھ لکھ سکتا ہے۔ اسی سوچ کو سامنے رکھ کر میں نے بھی کچھ لکھنے کی کوشش کا ارادہ کر لیا۔ اتنے ہی میں پاس رکھے پانی کی بوتل کو اٹھا کر برامدے میں رکھے سوفے پر بیٹھ گیا۔ جہاں وتاخ کی تنہائی مجھ سے سوال کرنے لگا کہ اصل مقصد کیا ہے اور آپ کیا کر رہے ہو؟ بلوچ وطن کی جنگ سرلٹ کے غاروں سے نکل کر قلات شہر تک پہنچ گئی ہے مگر پھر بھی میں مستونگ کے تنگ گلیوں میں اٹکا ہوا ہوں۔ کیوں میں ایک فیصلہ نہیں لے پا رہا جس کا وقت آچکا ہے؟

وہ جون 2022 کے دن تھے، جن میں قلات کا شہزادہ برزین بلوچ لاپتہ ہو گیا اور یہ بھی جون 2024 کے دن ہیں جہاں قلات شہر میں وطن کے شہزادے شور پارود کی کوکھ سے نکل کر اسکلکو میں دشمن کے مورچوں پر آگ برسانے لگے ہیں جس کی خبر اگلے کچھ ہی منٹوں میں قلات سمیت آئی ایس پی آر کے نیوز رومز تک جنگل کی آگ کی طرح پہنچ گئی۔

کہتے ہیں خود کو پہچانے اور دشمن کی شناخت اور اٹلینجس کی درست معلومات سے ہی آپ کئی جنگیں جیت سکتے ہیں شاید ایسے ہی بی ایل اے انٹیلیجنس ونگ کی ایک طویل عرصے تک پوری طرح اسکلکو میں سرگرم رہنے کے بعد اس آپریشن کے بارے میں درست معلومات حاصل کرنا شروع کی آخر کار درست معلومات فراہم کرنے کی بنا پر بلوچ لبریشن آرمی دستے جن میں میں فتح اسکواڈ اور اسپیشل ٹیکٹیکل آپریشنز اسکواڈ (ایس ٹی او ایس) نے دشمن پر مختلف اطراف سے بیک وقت راکٹوں و دیگر ہتھیاروں سے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں دشمن کے درجنوں اہلکاروں کو ہلاک اور زخمی کردیا گیا۔

یقینا ایسے ایک کامیاب حملے کیلئے بلوچ لبریشن آرمی انٹیلیجنس ونگ کو اسکلکو کے حوالے سے ہر قسم کی جانکاری حاصل ہو چکی تھی جس کی بدولت بی ایل اے کی سنائپز ٹیم نے فورسز کے بھاگتے اہلکاروں کا تعاقب کرتے ہوئے انہوں جہنم واصل کر دیا کیونکہ اس مشن میں اٹلینجس ونگ درست معلومات کی وجہ سے ہی بی ایل اے کو تمام رستوں کی معلومات مل چکی تھی۔

اسکلکو آپریشن میں بی ایل اے کے سرمچاروں کی جنگی مہارت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہیکہ جنگ کے دوران دشمن کی ہر نئی چال کے ساتھ سرمچاروں کی حکمت عملی بدل رہی تھی جس کی وجہ گھیرے میں آنے سے خود کو بچا کر دشمن کو گھیرے میں لیا گیا دیکھا جائے ایسے کامیاب حکمت عملیوں کی وجہ سے ہی بلوچ لبریشن آرمی مختلف آپریشنز میں دشمن کو بری طرح شکست سے دوچار کر رہا ہے۔

ایک شہری دوست کے مطابق آپریشن اسکلکو سے قبل ہم اپنے دوستوں کے ہمراہ ہربوئی کے مقام پر پکنک منانے بعد اگلی صبح واپس قلات شہر کی طرف اپنے موٹرسائیکلوں پر آرہے تھے کہ ہربوئی کے ایک مقام پر کچھ لوگوں نے ہمیں روکا اور ہمیں ایک طرف بٹھایا گیا ایسے ہی ہماری طرح آنے جانے والے بہت سے لوگ جمع ہوئے جنہیں ہمارے ساتھ بٹھایا گیا نرم لہجے کے ساتھ اپنے اپنے موبائل فون استعمال نہ کرنے کا کہا گیا ہمیں پانی پلایا گیا اور ہمیں بلوچ جہد آجوئی کے بارے میں بریفنگ دیا گیا۔ دوست کے مطابق ان کا رویہ دیکھ کر ہم تو ان کے مرید بن گئے۔ سیاہ گھنے اور لمبے بالوں کے ساتھ وطن کے شہسواروں کو دیکھ کر بہ آسانی اندازہ ہوتا کہ یہ ایک بڑی سفر طے کر کے یہاں پہنچے ہیں ایسے ہی وقت گزرتا گیا سرمچاروں کی تعداد زیادہ ہوتی گئی اور بلا آخر شام ہوگئی اور ان کی جانب سے ہمیں کہا گیا تقریبا 40 منٹ تک آپ سب یہاں بیٹھے رہو پھر آگے شہر جانے والے فلاں تین رستوں میں سے اس ایک رستے سے آپ سب اپنے اپنے گھروں کی طرف واپس چلے جائیں۔ یہ کہتے ہی کچھ ہی منٹوں وہ سب ہمارے سامنے سے غائب ہو گئے بل آخر 40 منٹ ختم ہوتے ہی قلات کی یہ وادی راکٹوں اور شدید فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھا۔

ہمارے اوپر ایک خوف سا طاری ہونے لگا ہم سب سرمچاروں کی بتائے ہوئے رستے سے شہر کی طرف روانے ہوئے اور اگلی صبح ہمیں معلوم ہوا کہ وہ تو بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچار تھے جنہوں نے ہمیں کچھ گھنٹوں تک روکے رکھا اور ہمارے لیے ایک فخر کی بات ہیکہ ہمیں ان سرمچاروں کی دید نصیب ہوئی۔

پھلین شہید امیرالمک کی شہادت کے بعد قلات کے علاقے شور پارود میں مسلسل پاکستانی فوج کے پڑے پیمانے پر مسلسل آپریشنز اور علاقائی مخبروں کے نیٹورک بحال ہونے کے بعد مختلف حلقوں سے پروپگنڈے کی صورت میں بار بار یہی سننے کو ملتا رہتا تھا کہ اب قلات گردونواح میں بلوچ قومی تحریک کمزور ہو چکی ہے مگر اب بلوچ لبریشن آرمی کی مضبوط حکمت عملیوں کی وجہ سے شور سے ہربوئی تک اور بلوچستان بھر میں ایک مضبوط پوزیشن اور نئی جنگی مہارتوں کے ساتھ سرگرم عمل ہے جو اس سے قبل بلوچ قومی تحریک میں دیکھنے کو نہیں ملا۔ اب بلوچ نوجوانوں پر فرض ہیکہ اپنی خاموشی کو توڑ کر بلوچ جہدکاروں کے شانہ بشانہ کھڑے رہ کر آزادی کی جنگ میم اپنا کردار ادا کریں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔