دھماکے، ناکہ بندی، چھاپہ اور بلوچی رقص – بلوچ لبریشن آرمی کے حملوں کی ویڈیو شائع

1989

پاکستان فوج کے اہلکاروں، رسد، معدنیات لیجانے والی گاڑیوں و گیس پائپ لائنز پر دھماکوں، فائرنگ، ریڈز اور علاقوں میں شاہراہوں پر ناکہ بندی کرنے والے بلوچ لبریشن آرمی کے ‘سرمچاروں’ کی ویڈیو جاری۔

اتوار کے روز 21 منٹ پر مشتمل ویڈیو بی ایل اے کی آفیشل میڈیا چینل ہکّل پر شائع کی گئی جبکہ ویڈیو 25 کاروائیوں کی عکاسی پر مشتمل ہے۔

مزاحمتی گانے کیساتھ شروع ہونے والی ویڈیو کے آغاز میں مختلف مقامات پر کاروائیوں کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے جبکہ ویڈیو 6 اکتوبر 2023 کو تربت میں جانبحق بلوچ لبریشن آرمی کے رکن ‘سنگت مسلم گُرو’ سے منسوب کیا گیا ہے۔

سن 2015 میں بی ایل اے سے منسلک ہونے والے مسلم کے جانبحق ہونے پر بی ایل اے ترجمان جیئند بلوچ نے بیان میں کہا تھا کہ ‘ آپ بی ایل اے کے رینکس کے اندر اپنے مربوط و جدید جنگی حکمت عملیوں کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے۔ آپ نے گذشتہ سال (2022 میں) مجید بریگیڈ کے فدائی کے طور پر اپنے خدمات رضاکارانہ طور پر پیش کیں تھیں، اور اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔’

بلوچ لبریشن آرمی کی اس ویڈیو سیریز میں گذشتہ دنوں قلات کے علاقے اسکلکو میں پاکستان فوج کے قافلے میں شامل گاڑی پر بم دھماکے کو دکھایا گیا ہے جس میں حکام نے ایک اہلکار کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی جبکہ کوئٹہ میں گذشتہ سال آٹھ اکتوبر کو پاکستان منرل ڈیولپمنٹ کارپوریشن کے پروجیکٹ منیجر شبر مرزا پر بم دھماکے کو دکھایا گیا جس میں وہ ہلاک ہوگئے تھے۔

ویڈیو سیریز میں بولان کے دو مقامات پر پاکستان فوج کو رسد پہنچانے والی گاڑیوں کو دھماکوں میں تباہ کرنے جبکہ قلات کے علاقے منگچر میں معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور مچھ بولان میں چند روز قبل گیس پائپ لائن کو دھماکے میں نشانہ بنانے کو دکھایا گیا۔

بی ایل اے کی اس سیریز میں مستونگ میں پاکستانی فورسز فورسز کے ایک پوسٹ پر حملے کو دکھایا گیا ہے جس میں ایک اہلکار کی ہلاکت اور دیگر کے بھاگ جانے کو دیکھا جاسکتا ہے جبکہ تربت کے علاقے تجابان میں پاکستانی فورسز کے مرکزی کیمپ پر حملے کو دکھایا گیا جس میں نائٹ وژن کا استعمال نمایاں ہے اس حملے میں ایک سرویلنس ڈرون کو مار گرانا بھی شامل ہے۔

اسی طرح پنجگور میں سی پیک شاہراہ پر پاکستانی فوج کی دو گاڑیوں کو قریب سے گھات حملے میں نشانہ بنانے کی ویڈیو شامل ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بلوچ سرمچار قریب سے پاکستان فوج کے گاڑیوں کو راکٹ سمیت دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنا رہے ہیں۔

بولان میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ کرکے پاکستانی فورسز کو ‘ٹریپ’ کرکے دوسرے دھماکے میں نشانہ بنانا، گیشکور میں پکٹ سیکورٹی فراہم کرنے والے اہلکار کو دھماکے میں نشانہ بنایا، بولان میں فوج کے قافلے میں شامل گاڑی پر دھماکہ، تگران میں موٹر سائیکل پر سوار دو فورسز اہلکاروں کو نشانہ بنانا اس ویڈیو سیریز کا حصہ ہے۔

مزید برآں اس سیزیز میں زامران میں پاکستانی فورسز کے ایک گاڑی کو حملے میں نشانہ بنانے اور اس میں سوار چار اہلکاروں کی ہلاکت و ان کے اسلحہ پر قبضہ کرنے کو دکھایا گیا ہے جبکہ زامران اور بالگتر میں پاکستانی فوج کے کیمپوں پر حملوں کو بھی دکھایا گیا ہے۔

خضدار شہر میں فورسز کے کیمپ پر حملہ کرکے پولیس فورس کو ‘ٹریپ’ کرکے دھماکے میں نشانہ بنانہ، بولان میں فوج کے کانوائے میں شامل گاڑی پر بم دھماکہ اور بولان کے علاقے انڈس میں فوج کی گاڑی پر دھماکے کو دکھایا گیا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ گاڑی میں سوار دس کے قریب اہلکار ہلاک و زخمی ہوجاتے ہیں۔

ہرنائی اور مارگٹ میں مرکزی شاہراہوں پر بی ایل اے سرمچاروں کی ناکہ بندی کرکے چیکنگ کرنا، کاہان میں راستے پر ناکہ بندی کرکے گاڑیوں کی چیکنگ کرنا اور پیرغیب کے مقام پر سرکاری ریسٹ ہاؤس پر ریڈ کرنا بلوچ لبریشن آرمی کی اس سیزیز کا ایک نمایاں پہلو ہے۔

واضح رہے رواں سال بی ایل اے کی جانب سے نوشکی میں مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرنا اور کوئٹہ کے قریب شعبان میں پکنک پوائنٹ پر ریڈ کیا گیا تھا جن کے ویڈیوز پہلے ہی منظرعام پر تنظیم کی جانب سے لائی جاچکی ہے۔

ویڈیو کا اختتام ‘ما باغی ما فراری’ کی دھن پر بلوچ سرمچاروں کے بلوچی رقص کیساتھ ہوتا ہے جس میں متعدد سرمچار جدید اسلحہ سے لیس دیکھے جاسکتے ہیں۔