جرمنی: دہشت گردی کی حمایت پر ملک بدری کا قانون پیش

130

جرمن حکومت نے دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے والے افراد کو ملک بدر کرنے کے لیے ایک مسودہ قانون متعارف کرایا ہے۔

جرمن حکومت نے سوشل میڈیا پر کھلے عام “دہشت گردی کے جرائم” کو فروغ دینے اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت کرنے والوں کو ملک بدر کرنے کے لیے قانون سازی پر اتفاق کیا ہے۔ اس قانون کا مقصد جرمنی میں اسلام پسند انتہا پسندی اور سامی مخالف نفرت انگیز جرائم کا مقابلہ کرنا ہے۔

جرمن خبر رساں جریدے کے مطابق اس حوالے سے بدھ کو جرمن وزارت داخلہ نے دہشت گردی کی حمایت کرنے والے افراد کی ملک بدری کے عمل کو آسان بنانے کے لیے مسودہ قانون پیش کیا، یہ اقدام 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے اور دیگر واقعات کا جشن منانے والی آن لائن مبینہ نفرت انگیز مواد نشر کرنے کے جواب میں آیا ہے-

اس نئے قانون کے تحت، دہشت گردی کو فروغ دینا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، ایکس، فیسبک، اور اسٹا گرام پر اس سے متعلقہ مواد کی تشہیری ملک بدری کا باعث بن سکتا ہے، یہاں تک کہ ایسی پوسٹس کو لائیک کرنا بھی قابل تعزیر جرم سمجھا جاسکتا ہے۔

جرمن میڈیا کے مطابق جرمن چانسلر نے ان تبدیلیوں کا اعلان گذشتہ دنوں جرمنی کے شہر مانہیم میں ایک مسلمان نوجوان کی جانب سے اسلام مخالف ریلی کے شرکاء پر چاقو کے مہلک حملے کے بعد کیا، جہاں ڈیوٹی پر موجود ایک پولیس افسر ہلاک ہوگیا تھا۔

اس نئے قانون کے تحت افغانستان اور شام جیسے ممالک میں افراد کو ملک بدر کرنے کی اجازت ہوگی۔ جرمن چانسلر نے قانون پیش کرنے کے موقع پر کہا سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینا اور اس کی کھل کر حمایت کرنا متاثرین، ان کے خاندانوں اور جرمنی کے جمہوری نظام کے منہ پر طمانچہ ہے۔

وزیر داخلہ نینسی فیزر نے بھی ان نئے تبدیلیوں کی حمایت کی ہے اور برلن کے اسلام پسند اور سامی مخالف نفرت انگیز جرائم کے خلاف آن لائن سخت کارروائی کرنے کے عزم پر زور دیا ہے تاہم مسودہ قانون کی پارلیمنٹ سے منظوری ابھی باقی ہے۔

دوسری جانب حکومت ناقدین جرمن چانسلر کے اس عمل کو جرمنی کے آزادی اظہار رائے پر حملہ قرار دیتے ہیں، سوشلسٹ لیفٹ پارٹی کے رہنماء کلارا بنگر نے کہا کہ ترکی اور روس جیسے ممالک میں سوشل میڈیا پر سادہ “لائیک” کے لیے ظلم و ستم پر ایسے سزا دی جاتی ہے اب جرمنی اس جانب گامزن ہے-

جرمن حکومت کی جانب سے یہ قانون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جرمنی میں مہاجرین مخالف سوچ کی حمایت بڑھ رہی ہے، ناقدین کو خدشہ ہے کہ اس قانون سے سماجی تناؤ بڑھ سکتا ہے اور شہری آزادیوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے، جبکہ حکومتی حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ قومی سلامتی اور انتہا پسندی سے لڑنے کے لیے ضروری ہے۔