تربت: جبری گمشدگیوں کے خلاف دھرنا 10 روز کے لئے موخر

150

ڈپٹی کمشنر آفس کیچ کے سامنے جاری لاپتہ افراد کے لواحقین نے دس دن کی مہلت پر دھرنا مؤخر کردیا۔

لاپتہ افرادکے لواحقین کی جانب گزشتہ سولہ دنوں سے ضلعی انتظامیہ کیچ کے سامنے جاری دھرنا آج انتظامیہ کیساتھ کامیاب مزاکرات کے بعد دس دنوں کیلئے مؤخر کردیا گیا ۔

دھرناگاہ میں لواحقین کیساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صبغت اللہ عبدالحق بلوچ نے کہاکہ آج لاپتہ افراد کے لواحقین اور ضلعی انتظامیہ ڈپٹی کمشنر اسماعیل ابراہیم،اے ڈی سی،اور ڈی او ودیگر کیساتھ مزاکرات ہوا ہے ڈپٹی کمشنر نے لواحقین کیساتھ تحریری معاہدہ کیاہے اور ایک جی آئی ٹی تشکیل دیاہے جسمیں تمام سرکاری ادارے بشمول حساس ادارے شامل ہونگے اور دس دنوں کے دوران دھرناگاہ میں شریک آٹھ لاپتہ افراد کے خاندانوں کو مثبت رزلٹ دیں گے۔

اسی معاہدے کے تحت آج سے دس دنوں تک کیلئے لواحقین کا دھرنا ختم ہوگا اور لواحقین تربت می. موجود رہیں گے،ہم امیدکرتے ہیں کہ انتظامیہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے لاپتہ افراد کے لواحقین کو ان دس دنوں میں مثبت رزلٹ دیں گے اور مطمئن کریں گے۔

انہوں نے مزید کہاکہ کل سے سرکاری جی آئی ٹی کام کا آغاز کرےگا اور کل پہلا اجلاس ہوگا،جبکہ اس جی آئی ٹی میں لواحقین کی جانب سےبلوچ یکجہتی کمیٹی کے رہنماء ومعروف شخصیت صبغت اللہ عبدالحق ،تربت سول سوسائٹی کے کنوینئر گلزار دوست،لاپتہ مسلم عارف عارف کے والد عارف غلام،لاپتہ جہانزیب کے والد فضل کریم،لاپتہ جان محمد کے بیٹے میران جان محمد،لاپتہ فتح میار کے والد میار بلوچ،بی ایس او پجار کے یاسر بیبگر، معاذ بلوچ،ناکو کریم بھی شامل ہونگے۔