کوئی بھی انسان محفوظ نہیں – معیار بلوچ

271

کوئی بھی انسان محفوظ نہیں

تحریر: معیار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ایک بار بابا نے مجھ سے کہا تھا مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے فرض کا وہ حصہ پورا کرنے والا ہوں جو مجھے بہت پہلے کرنا چاہیے تھا ، لیکن مجھے اب بھی ناز اور فخر ہے کہ دوستوں نے مجھے موقع دیا تاکہ میں اپنی سب سے بڑی خواہش ، چاہ ، اور مقصد کو حاصل کرلوں جو یہ تھا کہ میں ہمیشہ کیلئے اپنی سرزمین بلوچستان اور بلوچ قوم کیلئے قربان اور امر ہوجاو یہی میرا مقصد اور چاہ تھا جس نے مجھے بلوچ جدوجہد سے جوڑ کر رکھا تھا ، اب میں تمام ساتھیوں سے جسمانی طور پر رخصت ہو رہا ہوں اس یقین کہ بنیاد پر کہ میرے دوست اور ساتھی لوگ بلوچ نوجوان اس جنگ کو مقصد مراد تک پہنچا کر ہی دم لینگے  ، جو بلوچستان کی آزادی کی صورت میں ہے ،،

کچھ ایسے انسان بھی ہوتے ہے جن کی موت پر کوئی غم زدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی افسوس ہوتا ہے یہ وہی لوگ ہوتے ہے  جنہوں نے اپنی زاتی خواہشات وعیش  و عشرت کو ایک طرف رکھ کر اپنی سرزمین اور قومی آزادی کیلے آخری سانس تک لڑتے رہے ہیں اور تاریخ میں امر ہوجاتے ہیں  ،،

کیا بابا نہیں جانتا تھا کہ ان کے چلے جانے کا بعد شہید ہونے کہ بعد ماں ،باپ ،بھائی، بہن خاندان والوں پر کتنی پریشانیاں اور مصیبتیں آئینگے ان پر دشمن کی طرف سے جو پریشر اور مصیبتیں برداشت کرنے ہونگے یقینا بابا سب کچھ جانتا تھا  اورجانتے ہوئے بھی فیصلہ کر چکا تھا کہ سرزمین کی آزادی ان سے بھی بڑی قربانی مانگتی ہے ،، وہ اکثر کہتا تھا میرے پاس تو ایک جان ہے اگر 100 جان بھی ہوتے میں 100 بار بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹتا تھا ،، بابا یہ بھی جانتا تھا کہ اس رہ پر چل کر آزادی یا موت دوسرا کوئی راستہ نہیں،،

آزادی سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کے غلامی کیا ہے اور آزادی کا جنگ ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو غلامی کو سمجھ چکے ہوتے ہیں ، وہ کتاب پڑتے ہیں ، اور بندوق بھی اٹھاتے ہیں ، انسان جب اپنی سوچ کی لہروں سے جنگ کو محسوس کرنے لگتا ہے تو اسے بقأ کی خوف گیر لیتا ہے ، جنگ تباہی کا نام ہے جنگ بربادی کا نام ہے لیکن خوشحالی اور دائمی امن بھی اسی جنگ میں پنہاں ہے ، اب پنجابی سے جنگ کہ علاوہ اور کوئی راستہ بھی نہیں مذاکرات ہو یا کوئی اور گفت شنید صرف بندوق کی نوک پر ہی ہونگے کیونکہ دشمن اب بندوق کی زبان کو سمجھتا ہے  اور آج بلوچ جنگ اس لۓ لڑرہے ہیں کے امن کائم کرسکے اپنی وطن کو آزاد کرسکے ،،

ہم ایک قوم ہے ، ہماری سرزمین ہے اپنی جس میں بہت قدرتی وسائل معدنیات ہزاروں سالہ پرانی تاریخ زبان ثقافت ساحل ہے مگر بدقسمتی سے اختیار و اقتدار نہیں کیونکہ اس پر ایک غیر قوم پنجابی پاکستان بزور طاقت مسلح فوج کے ساتھ قابض ہے ، اس قابض سے نجات دفاع اقتدار و اختیار کے حصول کے لۓ سب سے اہم دفاعی یعنی ایک منظم مضبوط نظریاتی فکری مسلح جنگ کی ضرورت ہے تاکہ جلد سے جلد اپنی سرزمین کی آزادی کو یقینی بناسکے ، جو بلوچ قوم کی قانونی اور آئینی حق ہے ، تاکہ ہمیں دشمن کسی بچے کے مانند کبھی ہمیں بہلا پھسلا کر ، اور کبھی ڈرا دھمکا کر خاموش یا لالچ میں نہ ڈالیں

بابا اور باقی سب شہید سب کچھ جانتے تھے لیکن انہوں نے قومی مفادات کو ترجیح دے کر اپنی زاتی خواہشات کی کوئی فکر نہیں کی اگر بابا صرف اپنے زات کے بارے میں سوچتے تو آج بہترین گاڑی اور بنگلوہ میں رہتے لیکن بابا اپنی خوشی سے زیادہ وطن کی آزادی کوعزیر سمجھتے تھے ،،

ہم نے حضرت ابراہیم کا قصہ سنا ہوگا  جب الله تعالئ  نے ابراہیئم کو حکم دیا  کے اپنی سب سے عزعز چیز کو قربان کر دو تو ابراہیم تین راتوں کو سوچتا رہا پر حضرت اسماعیل کو قربان کرنے کا فیصلہ کیا ، لیکن اسی طرح جب سرزمین بلوچستان نے ریحان کی قربانی مانگی تو اسلم نے ایک بار بھی نہیں سوچا اور ریحان نے اس قربانی کو خوشی سے قبول کیا

بس ہمیں اب میدان میں اترنا ہوگا اپنا سب کچھ اپنی سرزمین کی آزادی کیلے قربان کرنا ہوگا تاکہ ہمیں اپنا زمین اور اپنی آزادی واپس مل جائے جو 1948 میں ایک آزاد ریاست تھا ،،
کیونکہ ہمیں اب سمجھ جانا چاہیے صرف ذہن میں اور دل میں سوچنے سے  آزادی نہیں ملتی اس راہ میں چل کر مصیبتیں تکلیفیں برداشت کر خون اور پسینہ بہا کر آزادی ملتی ہے ،

ہماری بھی زمہ داری ہے کہ ہم بھی اس راستے پر چلیں ان سرمچاروں کی یا شہدا کی کاروان میں شامل ہوجائیں کیونکہ وہ ہمارے لۓ سر پر کفن باندھ کرمیدان میں اترے ہیں۔

اُن میں سے ایک بابا بھی تھا جو  اپنے مادر وطن پہ قربان ہوگیا اور بابا جان گیا تھا کہ اب ایک مضبوط جنگ کہ علاوہ کچھ بھی نہیں بچا بلوچ کہ پاس اور اس ناپاک قابض ریاست پاکستان پنجابی کو دیکھنا ہوگا کہ بلوچ اپنے مادر وطن کے لیے کسی بھی حد تک کسی بھی بڑی قربانی سے دریغ نہیں کرتا ، اس دنیائی فرعون کو خبردار کرنا ہوگا کہ بلوچ اپنے جان کی قربانی دیگا مگر اپنے وطن پر کوئی آنچ بھی نہیں آنے دیگا ، بابا کو یقین تھا کہ میرے بعد بھی میرے دوست ساتھی اور بلوچ کا ہر فرد چاہے وہ مرد ہو یا عورت کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹینگے ،، قوم اس ناپاک
قابض ریاست کو لگام دیتے رہینگے ، اور اپنے شُہداوں کے بندوقوں کو کبھی زنگ آلود نہیں ہونے دینگے، ،

اگر ہم بھی اس راہ پر چلیں تو ہم بھی امر ہوجائیں گے کیونکے ہمیں سرزمیں پکار رہی ہے کہ اٹھیں میرے فرزندوں مجھ پر غیروں کا قبضہ ختم کریں ،

ہر نوجوان پر پرض ہے کے وہ اپنی قومی جہد میں شامل ہو جائیں اور اپنا نام ان شہداہ میں شامل کر ہے جو تاریخ میں امر ہیں وہ بہت خوش نصیب ہوگا جس کا نام باقی بلوچ شُہداوں کے ساتھ امر ہوجائیں گا۔

بقول لمہِ وطن شہید بانُک کریمہ کہ:

کہ وہ دن بھی آئے گا جب آزاد ہونگے ہم
کہ اپنی ہی زمین ہوگی اپنا آسمان ہوگا
شہیدوں کے مزاروں پہ لگیں گے ہر برس میلے
وطن پہ مرنے والوں کا یہی نام و نشان ہوگا


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔