کوئٹہ: جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج جاری

62

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاجی کیمپ آج 5470 ویں روز جاری رہا۔

اس موقع پر بی ایس او کے وائس چیئرمین شیر باز بلوچ، انفارمیشن سیکرٹری سہیل بلوچ اور سینٹرل کمیٹی ممبر عثمان بلوچ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

تنطیم کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ سب سے پہلے یہ کہ بلوچستان کے مسئلے کا واحد صحیح پائیدار اور حقیقی حل کیا ہے ؟ صوبائی خود مختاری، حق خودارادیت ، مذہبی جنونیت ، روڈ ہسپتال اسکول نوکری ، بجلی ساحل وسائل ، پیسہ کمانا ، نوجوانوں کو جبری اغوا کروا کے لاشوں کو مسخ کروانا، مختلف  علاقوں میں فوجی آپریشن کی سفارش فوجی یلغار کے عوض اپنے ضمیر کو بیچ کر پیسہ کمانا ہے یا پھر بلوچستان کی تحریک ہے۔ جو قوم کی بقا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے مسئلے کا حل تحریک کو آگے بڑھانے کے علاوہ اور کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتا بلوچ فرزندوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے بلوچستان کے تحریک کی خاطر بلوچ ماوں بہنوں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو وطن کی خاطر اس لیے قربان کیا کہ بلوچستان ہو بلوچ نوجوان پیر و کماش خواتین و بچے ہر طبقے کے لوگ بھوک پیاس آنسو جیل ، زندان اور ٹارچر سیل وغیرہ اس لیے برداشت کر رہتے ہیں۔ کہ بلوچستان کی قومی تحریک تیز ہو کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ بلوچستان کے مسئلے کا واحد حقیقی حل بلوچ سرزمین کی حفاظت کلچر رسم و رواج زبان و ثقافت کی حفاظت قومی تحریک میں ہے۔ نو آبادیاتی نظام قبضہ گیر کی نظافر سورہ ہوئی ہے اس سے مقبوضہ سر زمین کے مالک کبھی خوشحالی اور آراستہ نہیں ہو سکتے ۔ ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ قوم پر جماعت مفادات اور علاقائیت سے بلند تر ہو کر بلوچ کا نام اختیار نہیں کر سکا ہے نہ ہی بلوچ ، بلوچ قومیت کے تحت اپنا لائحہ عمل و پروگرام مرتب کر سکا ہے۔ تاکہ حقیقی معنوں میں بلوچیت کی ترجمانی کر سکے اسی طرح جمہوری اور وطن کی شکل میں واضح نہیں ہیں۔