وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5488 دن ہوگئے

44

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5488 دن ہوگئے، بلجیئم سے پی ٹی ایم کے کواڈینیٹر شرین خان کاکڑ، میوند خان کاکڑ اور دیگر نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ اکثر سامراج بھی دنیا والوں کو دھوکہ اور اپنی انسانیت دشمن کرتوتوں کو چھپانے کے لئے پروگرامز کرتے رہتے ہیں ہرسال لیکن بدبختی سب سے بڑی یہی ہے کہ انسانی حقوق کے نام پر بنائے گئے تنظیمیں ان کی چالوں میں آکر ان کے پروگرامز اور باتوں پر جاتے ہیں ان کو پتہ ضرور ہوگا کہ برا کبھی بھی اپنے کو برا نہیں کہتا اگرچہ پاکستان نے حسب سابق اس بارکی تاریخ میں کوئی لمبی عمر نہیں ہے اور مضبوط اداروں کے عامل مظلوموں کی جدوجہد اور بلوچ پشتون سندھیوں ہزارہ برادریوں کی سروں کی قربانیاں سامراجیت کو نیست و نابود کر دیں گی ان حالات میں جہاں اپنی سرزمین پر مظلوم قوموں کی جان و مال اور عزت و ابرو محفوظ نہیں کٹھپتلی وزیراعلی کو آئے روز جبری لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشوں اور بلوچ ماؤں بہنوں کی غیرت کے دفاع سے کوئی سروکار نہیں رہا انہیں صرف استحصالیت اور قوم دشمنی انتقامی کاروائی کے بدلے میں اپنی پرتعیش اور لگژری زندگی کا پڑی ہوئی ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے آئے ہوئے مہمانوں سے کہا کہ بلوچ نسل کشی میں پاکستان میں سرعام پھانسیوں کی شکل میں اجتماعی قبروں کی شکل میں مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں بلوچ قوم کے ہزاروں نوجوانوں کو سامراجیت کی بینٹ چڑھا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریک کی جدوجہد جاری ہے لیکن اب ہمیں بلوچستان میں آنے والے دنوں میں یہ نظر آرہا ہے کہ نام نہاد وزیراعلی اور اس کے حکومت پوری طرح بلوچستان میں بلوچ پشتون نسل کشی کی پالیسیوں میں مزید تیزی لائے گی اور اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لیے پچھلے حکومتوں سے دو قدم آگے جا چکے ہیں اور خاص کر ڈیرہ بگٹی کہلو مکران اور خاران میں بھرپور فوجی طاقت استعمال میں لائی جارہی ہے۔