مکہ میں شدید گرمی کے سبب 500 عازمین حج ہلاک

192

مکہ میں درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا اور حکام کے مطابق ساڑھے پانچ سو سے زائد عازمین حج ہلاک ہو گئے۔ سعودی حکام کے مطابق گرمی سے متاثرہ دو ہزار سے زائد افراد کا علاج کیا جا رہا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق حج کے دوران اب تک کم از کم 550 عازمین کی موت ہو چکی ہے۔ اس بار حج کے دوران مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ میں درجہ حرارت 50 سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر گیا، جو اس برس شدید گرمی میں حج کی سنگین نوعیت کی نشاندہی کرتا ہے۔

دو عرب سفارت کاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ مرنے والوں میں سے کم از کم 323 مصری شہری ہیں، جو بیشتر شدید گرمی سے ہونے والی بیماریوں کا شکار ہو گئے تھے۔

ایک عرب سفارت کار نے بتایا کہ ”وہ تمام (مصری) گرمی کی وجہ سے ہلاک ہوئے، سوائے ایک شخص کے جو ایک معمولی ہجوم کی زد میں آ کر کچلنے کے دوران مہلک زخموں سے متاثر ہوا تھا۔”

انہوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد مکہ کے المعیسم محلے میں واقع ہسپتال کے مردہ خانے سے آنے والے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔

اے ایف پی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک متعدد ممالک کے 577 عازمین حج کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔

سفارت کاروں نے بتایا کہ المعیسم کے مردہ خانے میں، جو مکہ کے سب سے بڑے میں سے ایک ہے، میں کل 550 کی لاشیں جمع دیکھی گئیں۔

اس سے پہلے منگل کے روز مصر کی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ حج کے دوران لاپتہ ہونے والے مصری شہریوں کو تلاش کرنے میں قاہرہ سعودی حکام کے ساتھ تعاون کر رہا ہے۔

مصری وزارت خارجہ نے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ ”ایک خاص تعداد میں اموات واقع ہوئی ہیں ”، تاہم اس نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان میں سے بیشتر متاثرین مصری ہیں۔

سفارت کاروں نے بتایا کہ اس برس حج کے دوران اردن کے کم از کم 60 شہری بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد منگل کے روز عمان کی جانب سے دیے گئے سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہے۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں مقامی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اب تک کم سے کم پانچ کشمیری خواتین بھی شدید گرمی کی وجہ سے ہلاک ہو چکی ہیں، جو حج ادا کرنے کے لیے مکہ پہنچی تھیں۔

ادھر سعودی حکام نے اتوار کے روز کہا تھا کہ گرمی کے سبب مختلف عارضوں میں مبتلا ہونے والے 2,000 سے زائد حاجیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ لیکن اتوار کے بعد سے اس اعداد و شمار کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تازہ معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

گزشتہ ماہ شائع ہونے والی ایک سعودی تحقیق کے مطابق آب و ہوا کی تبدیلی کے اثرات حج پر بھی بہت تیزی سے پڑ رہے ہیں۔ اس میں کہا گیا کہ جس علاقے میں مناسک حج ادا کی جاتی ہیں، وہاں ہر دہائی میں 0.4 ڈگری سینٹی گریڈ کی رفتار سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے وابستہ صحافیوں کا کہنا ہے کہ پیر کے روز مکہ کے باہر منیٰ میں حجاج کو اپنے سروں پر پانی کی بوتلیں انڈیلتے ہوئے دیکھا گیا، جب کہ بہت سے رضاکار ٹھنڈا رہنے میں مدد کے لیے کولڈ ڈرنکس اور تیزی سے پگھلنے والی چاکلیٹ آئس کریم تقسیم کر رہے تھے۔

سعودی حکام نے عازمین کو دن کے گرم ترین اوقات میں چھتری استعمال کرنے، وافر مقدار میں پانی پینے اور سورج کی روشنی میں جانے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

لیکن حج کے بہت سے مناسک بشمول سب سے اہم رکن وقوف عرفہ، جو ہفتے کے روز ہوئی تھی، دن کے وقت گھنٹوں باہر رہنا شامل ہے۔

حج کے دوران بعض زائرین نے سڑک کے کنارے بے حرکت افراد اور ایمبولینس گاڑیوں کو آتے جاتے دیکھا جو بسا اوقات کافی تعداد میں ہوتی تھیں۔

سعودی حکام کے مطابق اس سال تقریباً 1.8 ملین عازمین حج نے شرکت کی، جن میں سے 1.6 ملین کا تعلق بیرون ملک سے تھا۔

گزشتہ برس حج کے دوران مختلف ممالک کی جانب سے کم از کم 240 زائرین کی ہلاکت کی اطلاع دی گئی تھی، جن میں سے بیشتر کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔