لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے احتجاجی جاری

42

لاپتہ بلوچوں کی بازیابی کے لئے قائم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے بھوک ہڑتالی کیمپ کو 5476 دن ہوگئے۔ بی ایس او پجار کے چیئرمین بوہیر صالح اور کابینہ کے ساتھیوں نے کیمپ آکر اظہار یکجہتی کی۔

وی بی این پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی ریاست نے بلوچ سرزمین پر اپنے قبضے کو دوام دینے کے لیے روز نت نئے حربوں کے ساتھ بلوچ فرزندوں کی جبری اغواء بلوچستان کے مختلف علاقوں اور پنجاب کے مختلف یونیورسٹیوں سے جیسے لاہور اسلام اباد سرگودھا فیصل آباد اور علاقوں سے لاپتہ کیا جاتا ہے تاکہ بلوچ تعلیم حاصل نہ کر سکیں۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں فرزندوں کی جبری اغواء بلوچ نسل کشی عام آبادیوں پر بمباری آئے روز پاکستانی فوج کی خواتین بچوں پر تشدد سے چھولی دامن کا ساتھ ہے اب ریاستی جبر بھی بلوچ کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے ان تمام ریاستی جبر سے ایک شے بلوچ قوم کو اعلی بنا چکی ہے وہ ہے اس طویل غلامی کے خلاف تحریک کی جدوجہد کے اس فیز میں بہترین انقلابی شکل اختیار کر کے قوم میں غلامی کے خلاف شعور کو اجاگر کیا ہے جو اس جدوجہد کو کامیابی و کامرانی کی جانب لے جا رہی ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ پاکستانی حکومت بلوچ جدوجہد کو داخلی عالمی سطح پر کاؤنٹر کرنے کے لیے پاکستانی فوج کے استعمال کے ساتھ ساتھ اپنی خفیہ اداروں نام نہاد سیاسی ٹولز کا پورا استعمال کیا ہے اور کر رہا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ شاید اس اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے دعویداروں کا ضمیر جاگ جائے لاپتہ افراد بلوچوں کی بازیابی کے لیے پاکستانی حکمران قوتوں پر دباؤ ڈالے اور انسانی حقوق کی پائمالی اور جنگی جرائم کے مرتکب ریاستی عناصر کے خلاف بین الاقوامی قوانین اور تسلیم شدہ اصولوں کے تحت کاروائی عمل میں لائیں اور تمام مسائل کی جڑ بلوچ قومی سوال کو اس کی تاریخی بنیادوں اور بلوچ قوم کی امنگوں و خواہشات کے مطابق حل اور قوم کی حیثیت کی بحالی میں اپنا کردار ادا کریں اب دیکھتے ہیں کہ لاپتہ بلوچوں کے لوائقین سمیت بلوچ قوم کی ان توقعات پر اقوام متحدہ سمیت بین الاقوامی قوتیں کہاں تک پورا اترتی ہیں۔