زمین اور اس کی محبت ۔ منظور اسماعیل بلوچ

218

زمین اور اس کی محبت

تحریر: منظور اسما عیل بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان کے سفر میں جاتے ہوئے قدرتی مناظر یعنی پہاڑوں، درختوں، صحراؤں، اُبھرتی جھاڑیوں اور چلتی ہوئی ٹھنڈی ہوا نے آخرکار مجھے چند الفاظ لکھنے پر مجبور کر دیا۔ زمین ایک ایسی ہستی ہے کہ میرے نزدیک اس کا وجود انسان کے اپنے وجود سے ہزار گنا اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انسان کا وجود اس سے وابستہ ہے نہ کہ یہ انسان کے وجود سے۔ جب زمین ہے تو اس کے اوپر بسنے والے انسانوں کا وجود ہے۔ ویسے وجود ایک بہت گہرا لفظ ہے جس پر ہزاروں کتابیں لکھی گئی ہیں اور بہت سے لوگ ابھی بھی لکھ رہے ہیں۔ زمین کے وجود پر لکھنا انتہائی مشکل ہے، مگر اس کی اشد محبت نے مجھے لکھنے پر مجبور کر دیا۔

اپنی زمین سے محبت انسان کے اصل وجود کی عکاسی کرتی ہے، کیونکہ ہر انسان کا وجود اس کی اپنی زمین میں دفن ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص اس زمین پر جنم لیتا ہے تو وہ جنم لیتے ہی اپنے اس دفن ہوئے وجود کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کسی کے پاس زمین ہی نہیں یا ہے مگر کسی اور کے قبضے میں ہے تو اس کا وجود خطرے میں ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہر زمین، معاشرا یا جغرافیائی حدود کے اپنے لوگ ہوتے ہیں، ان کا اپنا ایک کلچر ہوتا ہے، اور ان کی زندگی گزارنے کا طریقہ اپنے دیے ہوئے اصولوں، قوانین اور ضوابط اور اقدار کے مطابق ہوتا ہے۔ کوئی باہر سے آکر زور زبردستی سے ان کی اقدار کو آسانی سے تبدیل نہیں کر سکتا جب تک وہ خود نہ چاہیں۔

زمین سے اس لیے محبت کرنا ضروری ہے کیونکہ زمین سے بہت سی چیزیں جڑی ہوئی ہیں جن کے بغیر انسان کی زندگی نامکمل ہے۔ ہر زمین کی اپنی ایک ثقافت ہوتی ہے، ہر زمین کا اپنی ایک ادب ہوتا ہے، کمیونیکیشن کرنے کے لیے ایک زبان ہوتی ہے، اپنے ادیب، لکھاری اور فلسفی ہوتے ہیں۔ اس زمین میں رہنے والے لوگ ان تمام چیزوں کو لے کر اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ جب تک زمین ہے یہ تمام چیزیں ہیں، اگر زمین نہیں تو ان میں سے کوئی ایک چیز بھی وجود نہیں رکھتی۔ کیونکہ یہ بات صاف ظاہر ہے کہ کوئی باہر سے آنے والا شخص (نوآبادیاتی طاقت) جب آپ کی زمین پر قابض ہوتا ہے تو وہ قدرتی معدنیات کے ساتھ ساتھ آپ کی ثقافت، ادب، تاریخ اور فلسفے کو مسخ کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ وہ ہر طرح کی تدبیر استعمال کر کے ان تمام چیزوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی سب سے بڑی اور حالیہ مثال سید ظہور شاہ ہاشمی ریفرینس لائبریری کو بلڈوز کر کے وہاں ملیر ایکسپریس بنانا ہے، جو پورے بلوچ ادب کو مسخ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔

درحقیقت، کسی بھی شخص کی قدرتی معدنیات سے اس کی تاریخ، ادب اور فلسفہ ہزار گنا اہمیت رکھتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ کسی بھی شعور یافتہ قوم کے لیے تاریخ اس لیے ضروری ہے کہ آنے والے لوگ خصوصاً نوجوان اور تعلیم یافتہ لوگ اس تاریخ کو صحیح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ادب کے بغیر کوئی بھی قوم یا معاشرہ نامکمل ہے خواہ وہ کتنا ہی ماڈرن ہو کیوں نہ ہو، کیونکہ ادب آپ کے آس پاس ہونے والی تمام چیزوں کی نشاندہی کرتا ہے اور ان میں مزید بہتری لانے میں مدد دیتا ہے۔ فلسفہ اس لیے ضروری ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں فلسفہ علم کو جنم دیتا ہے اور ہر انسان کو سوچنے، سمجھنے، جستجو اور سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اگر کوئی معاشرہ سوال اور جستجو کرنے والا پیدا نہ کرے تو اس کے برعکس وہاں کوئی علم پیدا نہیں ہو سکتا بلکہ ہزاروں سال تک چیزیں ویسی کی ویسی رہ جائیں گی.


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔