جنگ سیاست اور نوجوان ۔ اَلبرز

260

جنگ سیاست اور نوجوان

تحریر: اَلبرز
دی بلوچستان پوسٹ

جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہم اپنے آخری اختتام تک پہنچ جاتے ہیں کہ واقعی اس شے کا جو ہم نے مطالعہ کیا ہے اس میں صداقت ہے یا نہیں تو اس کا فیصلہ اس کی ذہنی کیفیت پر انحصار کرے گا کہ وہ کتنا شعوری طور پر اُس شے کو کس طرح سمجھتا ہے اور اس کی ذہنی صلاحیت اس شے کو قبول کس طرح کرتا ہے تو اس کے جستجو میں ہم اپنا دن اور رات سرد گرم ایک کرتے ہیں تا کہ اس جستجو میں ہمیں آخری حد تک جانا پڑے جس جستجو سے ہمیں خود کو قربان کرنا خود کو فنا کرنا قربانی کی کسی بھی فلسفے یا راستے سے چلنا پڑ جائے تو اس پر چلنے پر کتراتے نہیں اسے شعور اور زانت کے قالب میں ڈھال کر اس پر عملی رنگ میں رنگ دیتے ہیں اور عملی کردار میں اس مطالعیاتی شے میں کسی بھی جنگ ، سیاسی جنگ یا قومی وجود اور قومی جنگ میں اس دیوانگی سے اُتر جاتے ہیں۔

“جنگ ”
جب ہم جنگ کا نام لیتے ہیں تو ہمارے ذہن میں پہاڑ آتے ہیں۔ جب جنگ کا مطالعہ کیا جائے تو باز مفکر زانتکار اور دانشور کہتے ہیں جنگ ایک تباہی اور بربادی ہے یہ بات درست ہے جنگ کے دوران میں امن و امان اور سکون کا طلب کرنا لفظ جنگ کی بے شرفی ہوگی۔
جنگ کو مطالعیاتی اور شعوری طور پر جنگ میں گم ہو جاہیں تو جنگ ایک درسگاہ اور ایک مکتب بن جاتا ہے جو آپ کو یہ سکھا دیتا ہے کہ جنگی نفسیات اور جنگی فن کس شے کا نام ہے اور ایک جہدکار کو حقیقی معنوں میں واضع طور پر پیش کر دیتا ہے کہ جنگ میں جہدکار کی کیا اہمیت اور کیا حیثیت ہے بہ شرط کے وہ جہدکار خود اس جنگ کو اُون کرے اور اسے اپنا قومی فرض اور قومی قرض سمجھے جنگ ہی آپ کو سکھا دیتا ہے کہ قومیں کس طرح وجود میں آتے ہیں۔
دنیا کے کسی بھی قوم کسی بھی قومی وجود اور قومی تحریک کو دیکھیں تو اس قوم نے جنگ کو اپنا پہلا اور آخری ہتھیار اور وسیلہ بنانے کے بعد اپنے قومی وجود اور قومی شناخت کو اپنایا ہے بغیر جنگ کے قومی وجود اور شناخت کو پانا جیسے بغیر حرارت کے لوہے کو پگلانا ہے۔

“نوجوان”
کسی بھی تاریخ میں جب نوجوانوں کا ذکر آتا ہے تو اُس تحریک میں نوجوان ہی آگے آگے رہتے ہیں وہ چاہے سیاسی میدان ہو ، مزاحمتی راستے ہوں یا جنگی میدان ہو اس کے برعکس اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ قوموں اور تحریکوں کو اس قوم کے نوجوان ہی اپنے قومی ذمہ داریوں کو کس سمت لے جاتے ہیں اپنے انفرادی خواہشات اور انفرادی سوچ کو ختم کر کے قومی آئینے کے سامنے رکھ کر اپنے علم اور شعور سے خود یہ فیصلہ کرلیں اب بلوچ اور بلوچ قوم کے پاس جنگ اور مزاحمت کے سِوا آخری انتخاب کیا بچا ہے؟ انفرادیت سے نکل کر قومی سوچ میں داخل ہوجاہیں جب ہم قومی جہد و جہد کے بارے میں سوچتے ہیں تو ہمیں سرفہرست اس قوم کے نوجوان جو اس زمین کے قومی مڈی ہوتے ہیں اور اس بنجر زمین کو آکسیجن فراہم کرنے والے جڑیں ہوتے ہیں اگر کسی قوم کے نوجوان اپنے قومی ذمہ داری سے جان بچائے تو اس قوم کا زوال اسی دن سے ہی شروع ہوتا ہے دنیا میں ایسی بہت سی قومیں ہیں جن کا زوال ان کے نوجوانوں نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو ایک قوم کی خوشحالی اور اُس قوم کا ڈوب جانا اور اس کا زوال اسی قوم کے نوجوانوں پر ہے۔

“سیاست”
سیاست کو جاننے سے پہلے ریاست کے بارے میں جاننا ضروری جُز ہے کہ یہ ریاست کیا بلا ہے یونانی مفکر و دانشور ارسطو کہتا ہے اس کرہ ارض میں انسان ہزاروں سال سے آباد ہیں اور انسان کو معاشرتی حیوان قرار دیا ہے جو اس کرہ ارض میں مددگار اور محتاج جانور ہیں اور ایک انسان کو دوسرے انسان کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے پیدائش سے لیکر موت تک دوسروں کی مدد کا طلب گار ہوتا ہے اس لیے انسان اپنی ضروریات، خواہشات اور فطری خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیئے مل جل کر رہنے کو ترجیح دیتا ہے اور اس مل جل کر رہنے کو معاشرتی زندگی کہتے ہیں اگر ہم انسانی فطرت کا مطالعہ کریں تو ہمیں دو طرح کے نفسیات سے سامنا ہوگا ایک تو انسان مل جل کر رہنے کو پسند کرتا ہے اور دوسری وہ خود غرض اور مفاد پرست بھی ہے جو ایک معاشرے میں اچھی اور مثالی زندگی نہیں ہوتا مثالی اور اچھی زندگی امن اور سکون میں پایا جاتا ہے اور بھائی چارگی کو فروغ دیتا ہے جو نظم و ضبط قاہم رہتا ہے اس کو قائم رکھنے کے لیئے رسم و رواج، ثقافت کا آغاز ہوتا ہے اعلیٰ، ادنیٰ، حاکم، محکوم وجود میں آتے ہیں جس سے معاشرے کا آغاز ہوتا ہے حکم اور قانون کی ضرورت ہوتی ہے حکم اور قانون کی نفاذ سے معاشرے میں بھائی چارگی کو فروغ ملتا ہے جس سے ایک منظم معاشرے کا آغاز ہوتا ہے اور اس منظم معاشرے کو ریاست کہتے ہیں جو سیاست کا مرہون منت ہوتا ہے۔

آگر ہم دنیا کے مفکروں اور دانشوروں کو دیکھیں تو ہر کسی نے سیاست کو الگ الگ طریقے سے بیان کیا ہے کوئی سیاست کو پاور گیم کہتا ہے تو کوئی مفادات کا کھیل سمجھتا ہے مگر حقیقی معنوں میں ساست اس نظام میں رہنے والے عوام کے لیے عوام کی ضروریات اور خواہشات کو عوامی منشا اور عوام کی رضامندی سے عوامی مسائل کو حل کرنا۔

” جنگ سیاست اور نوجوان ”
آگر دیکھا جائے تو انسانی عقل اور شعور انسان کو اس کی پہچان کراتا ہے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے تو کیا کر رہا ہے صیح اور غلط کا فیصلہ انسانی عقل و ہوش اور انہی ادراک پر مشتمل ہیں آج کے اس جنگی دور میں بلوچ نوجوان خوش قسمت ہیں کہ آزادی کی تحریک اور اس جنگی دور میں زندہ ہیں اور شعوری طور پر اس جنگ کو اپنا رہے ہیں اپنے ‘وس اور ڈس’ سے جو کچھ اس وار زون میں رہ کر، کر رہے ہیں یہ ان کا قومی قرض ہے جسے سالوں سے اسی سرزمین نے ان پر فرض کیا ہے اس کا واحد اور حقیقی حل جنگ کو اپنانا ہے۔
سیاسی سوچ اور سیاسی شعور آپ کو اُس حقیقت سے آشنا کراتا ہے کہ آپ اس تحریک میں زندہ ہیں تو کس حال میں زندہ ہیں سیاسی سوچ اور سیاسی شعور ہے جو آپ کو جنگ کی طرف راغب کرتا ہے حقیقی معنوں میں یہ سیاسی شعور اور علم ہے کہ آپ کو یہ پہچان کراتا ہے کہ اپنی قومی بقاہ کی خاطر جنگ کا ہونا اور جنگ کا کرنا بلوچ نوجوانوں پر کیوں لازم ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔