تربت:عید الاضحیٰ کے روز جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کا دھرنا اور ریلی

84

جبری لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب عید الاضحیٰ کی صبح سے تربت کے شہید فداچوک پر دھرنا جاری ہے، لواحقین کی جانب سے عید الاضحیٰ کی شام ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔

ریلی کے شرکاء نے شہید فدا چوک سے ریلی کا آغاز کیا۔ شرکاء نے ایڈوکیٹ روڈ سے پریس کلب اور نیشنل بینک کے راستوں سے گزرتے ہوئے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے شدید نعرے بازی کرتے ہوئے جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔

ریلی کے شرکاء مین بازار کا گشت کرکے شہید فدا چوک پر جمع ہوگئے جہاں لاپتہ افراد کے لواحقین نے خطاب کیا۔

احتجاجی ریلی کے اختتام پر لاپتہ مسلم عارف کے والد عارف بلوچ نے کہا کہ میرے بیٹے مسلم کو بلیدہ گلی سے اپنی دکان سے اٹھاکر لاپتہ کیا گیا ہے ایک سال کا عرصہ گزرا ہے ہم نے ہر انصاف اور امید کے دروازے پر دستک دی ہے ہمیں طفل تسلیوں کے سوا کچھ نہیں ملا ہے ہم نے مجبور ہوکر اب سڑکوں کا رخ کیا ہے، اس سے پہلے بھی ہم نے ڈی سی آفس تربت کے سامنے دھرنا دیا ہے ہم نے انتظامیہ کو تین دن تک کا مہلت دیا تھا آج دس سے زائد دن گزرے ہیں مگر ہمیں ہمارے پیارے نہیں ملے ہیں، مسلم عارف نے اگر کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کیا جائے آئین وقانون کیمطابق سزادی جائے۔

لاپتہ جہانزیب فضل کی بہن، سمیر بلوچ کی بیوی، فتح میار کے بوڑھے والد میار بلوچ نے کہا کہ میں 70سال کا ایک بزرگ ہوں چرواہا ہوں، مجھے میرے لاپتہ بیٹے فتح بلوچ کی درد سڑکوں پر لائی ہے، میرا بیٹا اگر قصور وار ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کرکے سزا دی جائے لیکن میرا بیٹا بیگناہ ہے اور ایک طالب علم ہے اسے لاپتہ ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے میں نے ناتواں کندھوں سے اسلام آباد تک کا لانگ مارچ کیا ہے لیکن ہمیں انصاف نہیں مل رہا ہے، انہوں نے اللہ تعالی اور رسول کا واسطہ دیتے ہوئے بیٹے کی بازیابی کا مطالبہ کیا۔

بلیدہ سے لاپتہ جان محمد بلوچ کے بیٹے میران بلوچ نے کہا کہ میرے والد کو لاپتہ ہوئے 12سال کا عرصہ گزر چکا ہے، میرے والد لاپتہ ہیں اس وقت میں بہت چھوٹا تھا جب میرے والد کو اٹھایا گیا ہمیں انصاف فراہم کرکے ہمارے والد کو بازیاب کیا جائے. انہوں نے کہاکہ میرے والد کو بٹ بلیدہ میں نادرا دفتر کے سامنے سے اٹھایا گیا ہے۔

پیدارک کیچ سے تعلق رکھنے والے لاپتہ سمیر اور میران کے اہلخانہ نے کہاکہ سمیر اور میران کو بازیاب کیا جائے انہیں کس جرم کی سزا دی جارہی ہے، دنیا عید الاضحی منارہی ہے اور ہم سڑکوں پر بیٹھے ہیں، سمیر کو رئس گوٹھ کراچی سے لاپتہ کیا گیا ہے لہذا سمیر اور میران دونوں کو رہا کیا جائے۔

اس موقع پر لاپتہ ڈاکٹر رفیق بلوچ کی اہلیہ و دیگر لواحقین نے خطاب کرتے ہوئے اپنے پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کیا، جبکہ لواحقین نے کہاکہ ہم انصاف فراہمی تک یہاں بیٹھے ہیں عید کی چھٹیوں کے بعد ہم نئے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ریلی میں طلبہ تنظیموں اور حق دو تحریک سمیت بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اراکین کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد نے شرکت کی جن میں بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین شامل تھے۔