بلوچ قومی سوال کا جواب قومی شعور میں پوشیدہ ہے ۔ جی آر مری بلوچ

229

بلوچ قومی سوال کا جواب قومی شعور میں پوشیدہ ہے

تحریر: جی آر مری بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

آج تک کی بہترین تحقیق کے بعد ثابت ہوا ہے کہ بلوچ قوم کے پڑھے لکھے سیاسی کارکن یہ شعور اور ادراک رکھتے ہیں کہ بلوچ قوم نو ہزار (9000) سالہ پرانی تاریخ کے مالک ہیں اور وہ اس سر زمین بلوچستان کے والی و وارث ہیں اور یہاں کے باشندے ہیں۔ اس نو ہزار سالہ تاریخ میں مہر گڑھ نے کئی بار فطرت کے قہر کا سامنا کیا اور متعدد بار حملہ آوروں کے نشانے پر بھی رہا۔ ان تمام آفات اور مشکلات کے باوجود ہمارے آباؤ اجداد نے خطے کی دفاع کرتے ہوئے اس سرزمین کو آباد رکھنے کی کوشش کی، اور آج تک بلوچ قوم اپنے وطن کیلئے مرمٹنے کیلئے تیار ہیں۔

مہرگڑھ جو تہذیبوں کا سنگم کہلاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے، بقول شاہ محمد مری جہاں دنیا کا قدیم ترین تمدن دریافت ہوا۔ دریافت ہونے والی اس تہذیب نے ثابت کیا کہ بلوچستان کرہ ارض کی قدیم ترین تہذیب کا گہوارہ ہے۔ جو یہاں 9000 سال قبل مسیح میں ابھری تھی۔

البتہ آج کے اس دور کے نقطہِ نظر سے دیکھا جائے تب انسان کی سوچ دھنگ رہ جاتا ہے کہ اتنی پُرانی تاریخ، تہذیب و تمدن، ثقافت، زبان و سرزمین کے وارث ہونے کے باوجود بلوچ آخر کار اس قدر غلامی کی زنجیروں میں کیسے جھکڑ گیا جسے توڑنا مُشکل تو ہے مگر ہر گز نا ممکن نہیں۔

یہ سرزمین قربانیوں کی تاریخ سے بھری ہے، اگر تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا جائے تو قربانیوں کی داستانیں پڑھنے کو مل جاتی ہیں۔ میر چاکرِ اعظم کی سلطنت کا قیام، بانڑی کی میدانِ جنگ میں دلیری، نوری نصیر خان کی رہنمائی، نواب خیر بخش مری( اول) کی انگریزوں کے خلاف مزاہمت و بہادُری، گُل بی بی کی جُرت و حوصلہ مندی، یوسف عزیز مگسی کی بہترین سیاست، جنرل شیر محمد مری کی انقلاب، سردار عطا ء اللہ مینگل کی گرجتی ہوئی تقریریں، پیراں سالہ نواب اکبر خان بُگٹی کا پہاڑ کی مانند ہو کر ریاست کا سامنا کرنا،شہید صباہ دشتی کی علم و زبان دوستی، نوابزادہ بالاچ مری کی دیدہ دلیری و قُربانی اور بابائے بلوچ قوم نواب خیر بخش مری کے نظریہ و تحریک ہونے کے باوجود بھی آج تک آخر کار بلوچ قوم غلام کیوں ہے؟

ان تمام تر قربانیوں کے باوجود کئی مسائل ابھر کر سامنے آ رہے ہیں اور کئی سوالات ہیں، مگر حقیقت یہ ہیکہ ان تمام سوالوں کا سوال قومی سوال ہے۔ اور ان سب کا جواب بھی قومی سوال کے جواب سے جُڑا ہوا ہے۔ بی ایس او بنا جو کہ قوم کے نوجوانوں کو قومی شعور دینے کیلئے ایک درسگاہ کی حیثیت رکھتا تھا اور ان تمام سوالات کے جوابات فراہم کرنے کیلئے بہترین پلیٹ فارم تھا، مگر بد قسمتی سے بی ایس او تقسیم ہوا، اور ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کئی بی ایس او بنے مگر بی ایس او قومی نہیں بن سکا۔

تمام چیزوں کو ملا کر ہم (Ground Reality) کی طرف نظر ثانی کریں گے تب ہمیں بلوچ قوم پرست پارٹیاں ملتی ہیں، قوم پرست طلباء تنظیمیں ملتی ہیں، تحریکیں ملتی ہیں، کمیٹیاں ملتی ہیں، قوم پرستی کے دعوے دار ہونے کے باوجود ان میں وہ سیاسی پختگی اور شعور نہیں ملتا،وہ قومی نظریہ نہیں ملتا، قوم دوستی نہیں ملتا، قومی سوال کا جواب نہیں ملتا، بلکہ کئی ایسے ادارے بھی ہیں جن میں اب تک قومی سوال ہی نہیں ملتا، تب جواب کی تلاش تو بہت دور کی بات ہے۔

ہم یکجہتی کی بات کرتے ہیں، یکجاہ ہونے کا سوچتے ہیں، یکجہتی کو بہتر سمجھتے ہیں مگر یکجاہ نہیں ہو پاتے اگر ہو بھی جائیں تب بھی ہر کوئی منزل کی طرف بڑھ کر کامیاب ہونے سے زیادہ دوسرے کو ناکام کرنے کی کوششوں میں لگے رہتا ہے جو کہ ناکامیوں کے سب سے بڑے اسباب میں ایک بڑی سبب ہے۔

بلوچ قوم کے تمام مسائل میں سے ناکامی کی ایک بہت بڑی وجہ بلوچ قوم کی لاشعوری ہے، بلوچ آج تک سیاسی و نظریاتی حوالے سے شعور یافتہ نہیں ہوسکا۔ بلوچ کی آواز نیدر لینڈ، جرمنی، ناروے، لندن اور کئی ممالک تک پہنچ سکا مگر اپنے ہی دیس کا ریڑی بان یہ نہیں جانتا کہ وہ ایک غلام ہے، ایک بلوچ کسان جو سال بھر محنت کشی کرتا ہے اور آخر حساب کے وقت زمین مالک اُسے مقروض کرتا ہے، وہ کسان بھی نہیں جانتا کہ وہ ہمیشہ قرضوں کے نیچے دبے زندگی کیوں گُزار رہا ہوتا ہے؟

میرے دیس کا چراوہ یہ نہیں جانتا کہ اُسکا سرزمین کسی ظالم کے قبضے میں ہے، میرا لکڑی کاٹنے والا بُزرگ یہ نہیں جانتا کہ اس جنگلات کا مالک ہوکر بھی وہ کسی اور کو ٹیکس دیتا ہے، باڈر پہ روزی روٹی کمانے کیلئے کبھی ایرانی فوج تو کبھی ریاستی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والا نوجوان یہ نہیں جانتا کہ آخر اُسے مارا کیوں جارہا ہے؟ میرا بلوچ آج تک اپنے دُشمن کو نہیں جان پایا تب مقابلہ کرنا بہت دور کی بات ہے۔

البتہ یہاں کی پارٹیوں سے بلوچ نا اُمید ہوچکے ہیں، اُمیدیں ہیں تو صرف طلباء تنظیموں پہ ہیں مگر وہ محدود ہیں، میں جانتا ہوں کہ طلباء تنظیموں کی آئین محدود ہے، مگر اِنہیں تنظیم کاری کیلئے آئین کے دائرے کو وسیع کرنا ہے اپنے ان کمزور کندھوں پہ کئی زمہ داریاں اُٹھانی ہیں۔
طلباء تنظیموں کے کاموں میں ایجوکیشنل فیسٹیول منعقد کرنا، اسٹڈی سرکل لگانا، و بُک اسٹال منعقد کرنا بہترین عمل ہیں، مگر ان پروگرامز سے فائدہ صرف وہی نوجوان اُٹھائیں گے جو آپ کے ساتھ ہیں، دور دراز علاقوں، جنگلوں، وادیوں، پہاڑوں، صحراؤں، میدانوں میں رہنے والے لوگوں کو کیسے شعور دیا جائے، کیا کسی نے یہ سوچا ہے یا عمل کیا ہے؟

یہ میرا اور آپ کا زمہ داری ہے کہ ہر بلوچ بُزرگ، خواتین، نوجوان و بچوں کو سیاسی و نظریاتی حوالے سے باشعور کرنا ہے، اُنہیں تاریخ سے آشنا کرنا ہے، اُنہیں بتانا ہے کہ آپ غلام ہیں، آپ قبضے میں ہیں، اور اُنہیں جذباتی سوچ و فکر سے نکال کر نظریاتی اور شعوری حوالے سے پُختہ کرنا ہے، اپنے کوئے ہوئے راستے کو تلاش کرکے اپنانا ہے اور منزل کی طرف گامزن ہوکر منزل مقصود تک پہنچنے کیلئے جدوجہد کرنا ہے۔
ان تمام مسائل کے حل اور قومی احداف کو حاصل کرنے کیلئے قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے اور یکجہتی تب ہوسکتی ہے جب میرے قوم کے کسان، چراوہ، ریڑھی بان، شربت والا، مزدور، مسکین و لاچار اور تمام مکتبہ فکر کے لوگ ایک ساتھ کھڑے ہوکر مزاہمت کیلئے تیار ہونگے، تب ہی مجھے لگے گا کہ بلوچ قوم یکجاہ ہوا ہے۔

اور جب بلوچ قوم حقیقی معنوں میں یعنی نظریاتی حوالے سے یکجاہ ہوکر قومی سوال کیلئے قدم با قدم جدوجہد کریں گے تب ہی منزل پائیں گے، اور جب بلوچ اپنی منزل پائے گا تب اُس دن چلتن کی جُھکی ہوئی پہاڑ سر اُٹھا کر فخر کرے گا، گودار کی غمگین سمندر میں خوشی کی لہر اُبھرے گی، پریشان کوہ سلیمان کی وادی گُھوم کر بلوچی جُمر کھیلے گی، خاران کا صحرا سکون کا سانس لے گا، چاغی کا راسکو اپنے گہرے زخم پہ مرہم رکھے گا، بلوچستان اپنے اندر کے دلاروں اور غداروں کو نکال پھینکے گا اور بلوچ قوم خوشحال ہوگا۔ شہیدوں کے مزاروں پہ دھمال ہوگا، پھر یہی تو کمال ہوگا نواب مری کا نظریہ بحال ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔