اے وطن تیرے کس درد کو بیاں کروں ۔ علی بلوچ

280

اے وطن تیرے کس درد کو بیاں کروں

تحریر: علی بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

میرے دیس کا ہر گلی،کُوچہ، گہبان اور پہاڑ ظالم کے ظلم سے نڈھال ہے۔ ہر لمحہ ہر دن ہر مہینہ میں ایک صدمے اور ایک انسانی سانحہ سے گزر رہا ہے۔اب ان درد بھرے لمحوں کو ان صداؤں کو ماں کے آہوں کو قلم بند کرنا مجھ جیسے نابلد،طالبعلم کے بس کی بات نہیں۔اور اگر کوئی قلم کار سمندر برابر سیاہی سے بلوچستان کا درد لکھنا شروع کرے شاید وہ سیاہی کا سمندر ختم ہوجائے گا مگر میرے دیس کے دکھوں کا حال بیاں نہ ہوسکے گا۔اب اِن حالات میں ظاہر سی بات ہے ایک لکھاری جو ایک قابل ماہر، دانشور،فلسفہ دان ہی کیوں نہ ہو وہ بھی تو دردِ انسان ہی لکھے گا۔ یاپھر وہ مجھ جیسا طالبعلم جس سے درد کی کیفیت برداشت نہ ہو تو اپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے یہی سب کچھ پیش کرنے کی کوشش میں ہوگا۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہاں اب بہت کم ایسے قاری ہوں گے۔ جو لیلا_مجنوں، مرید_ہانی ، مست ٶ سمو کی داستانوں کی طرح کے محبت بھری کہانیوں کو پڑھنا،یا سننا پسند کریں گے وگرنہ سارے لوگ اسی دردِ انسانی کو پڑھنے اور سننے کے عادی ہوگئے ہیں۔ ان ہی تکلیف دہ سانحات میں سے ایک سانحہ میرے دیس کے سینہ کوہ سلیمان میں بھی پیش آیا۔ جسے بیاں کرنے سے زبان سوکھ جاتی ہے لکھتے ہوۓ ہاتھ کانپ جاتے ہیں اور الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔

ایک ایساواقعہ جو انسانی معاشرے کےلیے لعنت بھیجتا ہے جسے سنتے ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ یوں تو ایسے واقعات سے میرادیس بھرا پڑا ہے لیکن یہ واقعہ بہت افسردہ کردیتا ہے کہ سنتے ہی آنسو نکل آتےہیں۔اس واقعے سے متاثر ہونے والے کو ابھی جینا تھا، پڑھناتھا، ماں ،باپ کا سہارہ بنناتھا، لیکن اس معصوم کو کیاپتہ تھا، کہ جو میں کھلینے جارہاھوں یہ میری زندگی کا آخری کھیل ہو گا جسِے بعد میں بیان کرنے والے قدرت کی رضا مندی کہہ کر ہمیشہ کیلئے بھول جائیں گئے ۔ وہ اپنے معصومیت سے کھلیتے ھوۓ جارہا تھا۔ اسے کیاپتہ یہ میری زندگی کا آخری دن ہے ۔ کھیلتے،کھیلتے گھر کے قریب بور کے سوراخ (کنواں ) میں جاگرا کچھ وقت تک تو کسی کو پتہ ہی نہیں چلا۔ جب یہ خبرپورےگاٶں میں پھیل گئی ۔لوگ جمع ھونے لگے علاقے کے لوگ تو سب پہنچ گۓ۔ لیکن وہ بچارے کیا کرتے نہ گاٶں میں کوئی ریسکو ٹیم موجودتھی اور نہ کوئی اور ذریعہ تھا کہ بچے کو باہرنکالا جاسکے۔

اف! وہ معصوم اندرسے آوازیں دے رہا تھا (ابا مناں دراکھش )” ابومجھےباھرنکالو “ یہ الفاظ والد کےلیے تلوارکی دھار سے ذیادہ زوردار تھے وہ مجبور باپ کرتاتو کیا کرتا سواۓ دعامانگنے اور رونے کے؟ بچہ اندر سے آوازیں دے رہاہے ۔مجھے باہر نکالو۔

نکالتے توکیسے نکالتے؟ کوٸ سرکاری آلہ موجودنہیں تھا۔ علاقے کی عوام نے بور کے آس پاس اپنے مددکے تحت کھودائی شروع تو کیا لیکن یہ کتنا کرتے آخر انسان مشین تو نہیں کہ وہ کئی فٹ گہرا کنواں منٹوں میں کھود پاتے۔ وقت گزرتا گیا اندر سے آواز آنا کم ہو گئی دوگھنٹے تک تو وہ معصوم اپنی ذندگی کی جنگ سے لڑتا رہا، آخرکار خاموشی ھوگئ اور بور کے اندر سے اب کوئی آواز نہیں آرہی تھی ۔

اف! اس باپ پہ کیا گزر رہی ھوگی؟
جن کا الفاظ میں بیان ممکن نہیں! وقت گزرتا گیا سورج ڈھل رہا تھا ۔ پرندے اپنے ٹھکانے ڈھونڈنے لگے ۔چرواہے اپنے مویشوں کے ساتھ گھر کی جانب لوٹ رہے تھے ۔گاٶں میں بلکل خاموشی اور تاریکی پھیل رہی تھی۔ ہرکسی کے آنکھیں آنسوں سے نم تھیں۔ علاقے کے سب لوگ بورکے پاس موجود تھے ۔سواۓ مایوسی کے انکے پاس کچھ نہیں تھا۔

اس بارے میں تونسہ شریف کے ریسکیو ٹیم کو آگاہ تو کیا گیا۔لیکن وہاں سرکاری عملہ کے درمیان یہ بحث شروع ہوئی کہ جی وہ تو بلوچستان کا علاقہ ہے اور ہم پنچاب کے ریسکیو والے ہیں ہمارا ان سے کیا کام مرے یا جیۓ؟

اور دوسری یہ بات کہ راستہ دشوار ہے سفرکرتے ھوۓ کون جائے گا انسانیت جائے بھاڑ میں ہم بھلے کیوں اس مشکلوں میں پڑیں۔لیکن جب اِدھر اُدھر فورس کیا گیا تو وہ لوگ آنے پہ مجبور تو ہوگئے۔ شومی قسمت ایک دشوار اور کچے راستوں سے ہوتے ہوئے جب وہ منزل تک پہنچے تو کافی دیر ہو چکی تھی ۔ابھی بھی کچھ امیدیں باقی تھیں کہ شاید بچے کو زندہ سالامت نکالاجاۓ ۔جیسے ہی انہوں نے رسی ڈالی کیمرے کے ذریعے بچے کی ہاتھ میں کلپ لگائے تو ایک خوشی کی لہر دوڑنے لگی ۔ مگر افسوس جیسے ہی رسی اوپر کی جانب کھینچی تو رسی ہی ٹوٹ گئ۔ اور بچہ واپس نیچے جا گرا ۔ اف! اللہ یہ کیا ماجرہ تھا اب تو اورکوئی حل نہیں کیسے بچے کو باہر نکالا جائے ان سیاہ سنگلاخ پہاڑوں کے درمیان اور کوئی ذریعہ بھی نہ تھا۔

یہ سب کچھ تو تھا شاید اسے ہم قدرت کا فیصلہ تسلیم کرلیں ۔ لیکن اس سے بڑا افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس واقع کی خبر سن کے نہ تو کوئی سردارآیا اورنہ کوئی وڈیرہ۔ نہ سرکار کی جانب سے کوئی کُمکی ٹیم راونہ ہوئی جو شاید باوقت ضرورت عملہ پہنچ جاتا مگر ایسا سرکار کیوں کرے کیونکہ انکے لوکل اور شناختی کارڈ پہ پتہ تو بلوچستان کا ہے ۔ سردار یا سرکار کیسے آتے اب تو الیکشن گزرچکا تھا ۔ اب انہیں غریب عوام سے کیا لین دین تھا کہ کوئی جیئے یا مرے انکی قسمت۔

سردار سرکاری منافع خور لالچی تو اپنے اگلے پانچ سال کی عیاشی کیلئے غریب کو لوٹ چکے تھے، اب وہ ووٹ ہم سے لےچکے تھے۔
یہ ایک روشن حقیقت ہے اگر سردار عوام کیلئے کچھ کرے انکو سہولتیں دے تو انکی غلامی کون کرے گا؟ کل کو تو ایک غریب کا بچہ اٹھ کے اسکے برابر بیٹھے گا۔ دوسری بات اگر سردار نے کچھ کرنا ھوتا تو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیرآعلی بن کے کچھ کرتے وہ کبھی کچھ نہیں کریں گے ہمارے لیئے لہزا کوہ سلیمان کے لوگوں سے اپیل ہے کہ وہ اپنے سردار خود بنیں اپنی ذات کو تسلیم کریں ۔کوئی انسان کسی سے کم نہیں ہے ۔ بس اس نے اپنے صلاحیتوں کو بروۓ کار لانا ہوتا ہے اور اپنے آپ سے ایمان داری کے ساتھ یہ وعدہ کرنا ہے کہ میں سب کچھ کرسکتا ہوں میں بھی ایک باشعور انسان ہوں ، تو شاید دنیا کی کوئی طاقت اسکو غلام بنا سکے۔

خدا نہ کرے اگر یہ بچہ ایک سردار، میر، وڈیرہ یا سرکاری افسر کے گھرانے کا ہوتا توبات یہاں تک نہ پہنچتی ۔ دیکھتے وہاں تک سڑک پہلے سے پکی ہوتی ریسکیو کی کئی ٹیمیں روانہ کردی جاتیں ۔ باقی بچ جانا یا موت کا واقع ہونا اللہ کے ہاتھ میں ہے مگر اسکے دل میں یہ درد کبھی نہ ہوتا کہ فلاں سہولت کے میسر نہ ہونے کی وجہ سے میرا بچہ زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

( آخر بچہ تو ایک غریب کا تھا بقولِ شخصے ”غریب پیدا ہی مرنے کیلئے ہوا ہے“یعنی اسکو جینے کا حق کس نے دیا ہے؟ )
افسوس اس بات کا ہے کہ اتنا بڑا سانحہ ھونے کے باوجود کسی نیوز چینل میں کوئی سرخی تک نہیں چلی ۔کیونکہ یہ وقوعہ بلوچستان میں پیش آیا ۔ اگر یہ وقوعہ پنجاب کے کسی قصبے ،گاؤں، بستی میں پیش آتا تو میڈیا کی زینت بنتا مگر یہ بلوچ اور بلوچستان کا مسئلہ ہے اس سے پنچاب کے میڈیا کا کیا سروکار شاہد کوئی بیرونی سازش ہو اور میڈیا غلطی سے اسکو نشر کر دے میڈیا پھر تو فلانا اپنی چال میں کامیاب ہوگا بلوچستان کی سرزمیں جتنی لاشیں اُگلے مگر پنجاب کی میڈیا کبھی ان دشمنوں کی چال کو کامیاب ہونے نہ دے گی ۔

میڈیا اگر مصروف ہے تو وہ محوش حیات کی جوتے گم ھونے کی خبر میں یا پھر خلائی مخلوق کے کتوں کی خوراک دکھانے میں ! جب یہ خبر سوشل میڈیا کے زریعے وزیرآعلی بلوچستان تک پہنچ گئ ۔ شاید صاحب اس ٹائم نیند سے بیدارہوۓ ہونگے۔انھوں نے کوئٹہ سے ریسکیو ٹیمیں کرکنہ کی طرف بائےروڈ روانہ کیں کیونکہ سرکاری ہیلی کیپٹر تو فوجی کاموں میں استعمال ہوتے ہیں انسانوں کیلئے نہیں! اس ٹیم کے آنے کے 26 گھنٹے بعد بچے کی ڈیڈباڈی نکالی گئ ۔ ورثا کے حوالے کی اور نمازجنازہ ہوا رسمی فاتحہ خوانی ہوئی ۔

پھر کیا ہوا؟

کچھ نہیں!
وہی خاموشی اور اگلے سانحہ کے منتظر سب اپنی باری کے انتظار میں ہیں اگلا سانحہ کیا ہوگا؟ کس کے گھر میں ہوگا؟ کتنا نقصان ہوگا؟ کچھ پتہ نہیں ؟ بس پھر سے کوہ سلیمان میں ایک واقع پیش آئے گا ، ہم افسوس کرتے رہیں گے چند دن سوشل میڈیا پہ ہمدردیاں جھوٹی تسلیاں ملنے کے بعد پھر خاموشی۔ آخر کوہ سلیمان والے کب تک اس خاموشی کا چشن مناتے رہیں گے؟ (جب تک تم اپنے حقوق کی جنگ خود شروع نہیں کرتے کوئی مسیح آسمان سے ہمارے لیئے نہیں اترے گا۔ خدا بھی انکی مدد نہیں کرتا جو اپنے مدد خود نہیں کرتے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔