انتظامیہ اپنی نااہلی و اصل مجرموں کو چھپانے کیلئے انیس الرحمان پر مقدمات بنا رہی ہے – والد

162

خضدار سے جبری لاپتہ ہونے والے طالب علم انیس الرحمن کے والد نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 4 جون کو میرے چھوٹے بیٹے انیس الرحمان کو پپ جی ہوٹل سے نامعلوم مسلح افراد نے زبردستی اغوا کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ کل 15 جون 2024 کو سی ٹی ڈی بلوچستان نے اپنے ایک پریس ریلیز کے ذریعے ایک نامعلوم الاسم مقدمہ فرد نمبر 60/2024 زیردفعہ 3-4Exp302-324QD427-34 PPC 07/ATA
کے تحت انیس الرحمن کے اغوا کو بطور مشتبہ دہشت گرد کی حیثیت سے ظاہر کیا۔ جس کا ہم بھرپور طریقے سے مذمت کرتے ہیں اور اس بے سروپا مقدمہ کا ہم اپنی لیگل ٹیم کے ساتھ آئینی قانونی طور پر ہرطرح سے جائزہ لے کر باقاعدہ عدالت میں بھرپور طریقے سے سامنا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایک باشعور باخبر اور با صلاحیت فیملی پس منظر رکھتے ہیں میں ایک ریٹائرڈ لیکچرر ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر جمعیت علماء اسلام سے شروع سے وابستگی رکھتا ہوں جس کا جمعیت علماء اسلام کی ضلعی قیادت گواہ ہے،مزید یہ کہ ہمارا ہمیشہ سے مولانا صدیق رحمہ اللہ اور ان کے خاندان کے ساتھ ایک فیملی والا تعلق رہا ہے خوشی اور غم میں ایک ساتھ کا تعلق رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ میرے بیٹے کو مولانا صدیق رح کے کیس میں ملوث کر کے انتظامیہ اپنی نا اہلی اور کمی کو یا پھر اصل مجرموں کو بچانے کے لئے جان بوجھ کر ایسے جھوٹے ہتھکنڈے کے ذریعے مقدمات بنا رہی ہے، میرا بیٹا بہاء الدین زکریا یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس گریجویٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک لکھا پڑھا اور مثبت کاروباری سوچ رکھنے والا لڑکا ہے اس سمیت ہمارے پورے خاندان کا کسی بھی تنظیم سے کسی بھی قسم کی وابستگی یا تعلق تھا نہ ہے نہ رہے گا۔

انہوں نے کہاکہ میں اپنے تمام دوست و احباب اور جماعت کے رفقا ء سے گذارش کرتا ہوں کہ جب تک عدالت کے ذریعے انصاف پر مبنی ایک معقول فیصلہ نہیں آتا تب تک سنی سنائی باتوں اور انتظامیہ کی ایسے من گھڑت الزامات پر کان نہ دھریں۔