آپریشن “عزم استحکام” کا مقصد ریاستی نوآبادیاتی مقاصد کی تکمیل  ہے – بی ایس او

104

بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ عرصہ دراز سے ریاستی وطیرہ رہا ہے کہ بلوچ و دیگر مظلوم اقوام کے قومی تحریکوں کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے لیے مختلف حیلے بیانوں کے ذریعے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا ہے۔ 1948 سے لے کر آج دن تک بلوچ قومی تحریک و قومی حقوق کے لئے اٹھنے والی آوازوں کو طاقت سے دبانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے۔ ہر ایسی کوشش ظلم و ستم کے ان مٹ نقوش چھوڑ گئی ہے جب کہ ریاستی توقعات کے برعکس قومی تحریک مزید مظبوط ہوتی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی ریاست کی جانب سے بلوچستان کے تین سرداروں کے خلاف جھوٹا بیانیہ بنا کر انہیں بلوچستان کے مسائل کا جڑ قرار دیا گیا اور پھر شہید نواب اکبر خان بگٹی کے خلاف ڈیرہ بگٹی میں ایک نا ختم ہونے والے جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس آپریشن کے دوران طاقت کے تمام ذرائع اور ہر وہ اسلحہ و گولہ بارود استعمال کیا گیا جو کسی بھی بڑے دشمن کے خلاف استعمال کیا جاسکتا تھا مگر پیر مرد اکبر خان بگٹی کو شہید کرنے کے باوجود نہ تو ڈیرہ بگٹی کے حالات سدھرے اور نہ ہی مجموعی طور پر بلوچستان کے حالات میں کوئی مثبت تبدیلی آئی بلکہ بلوچ وطن کے سینے پر ایک ایسا گھاؤ لگا جس سے آج تک خون رس رہا ہے اور آج ایک بار پھر “عزم استحکام” نامی آپریشن کا مقصد اپنے نوآبادیاتی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے بلوچ وطن کو خون میں نہلانا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کٹھ پتلی بلوچستان حکومت کو سلیکشن کے دن سے ہی ہم ان خدشات کا اظہار کرتے آرہے تھے اور آج ہمارے تمام تر خدشات درست ثابت ہوتے جارہے ہیں۔ موجودہ نام نہاد حکومت ان تمام افراد پر مشتمل ہے جو بلوچ وطن میں جاری جنگ کے سب سے بڑے بینیفشری ہیں۔ ان کٹھ پتلیوں کے ذریعے عالمی دنیا کو تاثر دیا جارہا ہے کہ بلوچستان کے متعلق ہونے والے تمام فیصلوں میں وہاں کے نمائندوں کی رائے شامل ہے بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ہم موجودہ کٹھ پتلی حکومت اور ریاستی اداروں کو متنبہ کرتے ہیں کہ بلوچستان میں کسی بھی قسم کے طاقت کے استعمال سے باز رہیں۔ ہم عالمی انسانی حقوق کے اداروں اور بالخصوص اقوام متحدہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں جاری سنگین انسانی حقوق کے خلاف ورزیوں کا نوٹس لے اور بلوچستان میں بنیادی انسانی حقوق کی تحفظ یقینی بنائیں۔