ہدایت لوہار کے قتل اور جبری گمشدگیوں کے خلاف سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے

87

وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ، سندھ سجاگی فورم کے مرکزی رہنما سورٺھ لوہار ، سارنگ جويو، سہنی جویو و دیگر کی رہنمائی میں کراچی کے ريگل چوک سے پريس کلب کراچی تک ريلی نکالی گئی۔ جس کے بعد پريس کلب کراچی پر احتجاجی دھرنہ دیا گیا ہے۔

ریلی میں، جسقم ، ایچ آر سی پی اور مختلف سیاسی سماجی تنظیموں کے رہنما اور کارکنان بڑے تعداد میں شریک ہوئے تھے۔

جبکہ نصیرآباد میں جسٹس فار ہدایت لوہار کمیٹی اور وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کی رہنما سسئی لوہار اور سارنگ لوہار کی رہنمائی میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شہید ہدایت لوہار ایک پرائمری استاد اور سیاسی کارکن تھا جسے ریاستی ایجنسیوں نے 16 فروری کو نصیرآباد میں ٹارکیٹ کلنگ کرکے شہید کیا ہے. جبکہ پاکستانی ایجنسیوں نے تازہ بشیر شر ، یوسف شر اور ساجن ملوکھانی سمیت متعدد سندھی کارکنان کو اٹھاکر جبری لاپتا کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اقوامِ متحدہ ، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیں ہیومن رائٹس کمیشن ، یورپی یونین اور دنیا کے تمام انسانی حقوق کے اداروں کو اپیل کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کی جانب سے سندھ اور بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی شدید پائمالی، سیاسی اور قوم پرست کارکنان کی جبری گمشدگی اور ان کے سیاسی قتل کا نوٹس لیں جبکہ ہمارا احتجاج سندھ بھر میں جاری رہے گا۔

دوسری جانب وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ ، سندھ سجاگی فورم، جسٹس فار ہدایت لوہار کمیٹی، جسقم آریسر ، جساف آریسر ، جسقم بشیر خان ، جسقپ اور جیئے سندھ تحریک سمیت سندھ کی متعدد قوم پرست جماعتوں کی جانب سے حیدرآباد ، ٹنڈومحمدخان، لاڑکانہ، گھوٹکی، گولاڑچی، بدین، بٹھورو، کنڈیارو، جامشورو، دادو، خیرپورمیرس، نصیرآباد، کندھکوٹ، شاہپور جہانیاں ، مٹیاری، میرپورخاص ، کوٹری، دوڑ، پڈعیدن، نوشہروفیروز اور نوابشاہ سمیت سندھ بھر میں احتجاجی مظاہرے، دھرنے اور ریلیاں نکالی گئی ہیں۔