گوادر: پاکستان آرمی کی گھر گھر تلاشی

635

بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر ملابند وارڈ میں پاکستان آرمی کا گھر گھر تلاشی، شہریوں نے شکایت کی ہے کہ رات کے وقت آرمی اہلکار گھروں میں گھس کر شناختی کارڈ کا پوچھ کر گھروں کی تلاشی لے رہے ہیں ۔

گوادر میں پاکستان آرمی کی جانب سے گھر گھر تلاشی کے خلاف وائس چیئرمین بلدیہ اور حق دو تحریک بلوچستان کے مرکزی ذمہ دار ماجد جوہر نے احتجاج کرتے ہوئے اس عمل کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ اگر عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لئے بغیر گھروں میں گھسنے کی کوشش کی گئی تو ہرقسم کے احتجاج کے لئے تیار ہیں۔

حق دو تحریک کے مرکزی دفتر میں دیگر کونسلروں کے ہمراہ احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آرمی کا یہ عمل قابل قبول نہیں ہے، پانی اور بجلی کے ستائے عوام کے گھروں میں گھسنے کا یہ عمل مزید ردعمل جنم دے گئی ۔

شہریوں نے شکایت کی ہے کہ پاکستان آرمی کے اہلکار چادر و چار دیواری کا تقدس پائمال کرتے ہوئے گھروں میں گھستے ہیں اور انہیں ذہنی طور پر ہراساں کرتے ہیں ۔ مقامی ماہیگروں نے بھی شکایت کی ہے کہ فورسز اہلکار انہیں ہراساں کرتے ہیں، شکار کے اوقات میں انہیں روک کر گھروں تک محدود کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس طرح کے رویے ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے ۔

ملا بند وارڈ کے ایک رہائشی نے دی بلوچستان پوسٹ کو بتایا کہ پیر کی شپ آرمی اور پولیس کی بڑی تعداد بغیر خواتین اہلکاروں کے ہمارے گھر میں دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے سارے گھر کی تلاشی کے بعد ہمارے شناختی کارڈ ضبط کرکے سوالات پوچھے گئے، انکے پاس کوئی وارنٹ یا عدالتی حکم نامہ نہیں تھا۔ شہری کے مطابق اسی رات کو آرمی اہلکاروں نے پورے محلے کے گھروں میں گھس کر یہی رویہ اپنایا۔

بلدیہ گوادر کے کونسلران نے کہاہے کہ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو عوام کے ساتھ ملکر سخت احتجاج کرینگے۔

ضلعی حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی موقف پیش نہیں کی ہے۔