گوادر، مشکے اور آواران حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ بی ایل ایف

333

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ سرمچاروں نے 19 مئی کی رات ساڑھے تین بجے گوادر کے سیاہ عمر وارڈ میں واقع چینی کمپنی زونگ موبائل فون ٹاور پر حملہ کرکے تمام مشینریز کو نزرآتش کرکے تباہ کردیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک اور حملے میں سرمچاروں نے اٹارہ اور انیس مئی کی درمیانی رات نو بجے مشکے کے علاقے جیبری میں فرنٹئیر ورکس آرکنائزیشن (ایف ڈبلیو او) کے سائیٹ پر حملہ کیاہے، حملے میں تعمیراتی کمپنی کے گاڑی، ڈمپر، لوڈر اور دوسرے مشینزیر کو فائرنگ کرکے نقصان پہنچایا ہے۔

ترجماب نے کہا کہ ہمارے بارہا تنبیہ کرنے کے باجود لیویز فورس سامراجی استحصالی منصوبوں میں قابض ریاست کا ساتھ دے رہی ہے۔ ہم نے بلوچ ہونے کی بنیاد پر لیویز کو جانی نقصان دینے سے گریز کیاہے، اگر اب کسی نے بھی قابض ریاست کے کسی بھی کام میں ساتھ دینے یا سہولت کاری کی کوشش کی تو وہ اپنے جان و مال کے زمہ دار خود ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ سرمچاروں نے آواران کے علاقے زرانکول پیراندر میں قائم دشمن پاکستانی فوج کے چوکی پر حملہ کرکے ایک اہلکار کو ہلاک اور ایک کو زخمی کیاہے۔

انہوں نے کہا کہ کل شام چھ بجے بی ایل ایف کے اسنائپر شوٹرز نے قابض پاکستانی فوج کے ایک اہلکار کو نشانہ بنا کر ہلاک کیاہے اور بعد میں خودکار ہتھیاروں سے چوکی پر حملہ کیاہے، حملے میں دشمن کا ایک اہلکار زخمی ہوا ہے۔

بلوچستان لبریشن فرنٹ ان حملوں کی زمہ داری قبول کرتی ہے اور مقبوضہ بلوچستان کی آزادی تک قابض دشمن فورسز و انکے سامراجی منصوبوں پر حملے جاری رہیں گے۔