مصنوعی سرحدی لکیر پر روٹی کی جنگ ۔ مہردل بلوچ

198

مصنوعی سرحدی لکیر پر روٹی کی جنگ

تحریر: مہردل بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ

ماشکیل رخشان میں چاغی سے متصل ایک چھوٹا سا علاقہ ہے جو مصنوعی سرحدی لکیر کے بعد سرحدی علاقہ کہا جاتا ہے اور سرکاری تقسیم اور حد بندی کے مطابق ضلع واشک کا ایک تحصیل ہے۔ یہ مصنوعی سرحدی لکیر انگریز قبضہ گیر کے دور حکومت میں کھینچی گئی تھی جب انگریز اپنی پالیسی ” تقسیم کرو اور حکومت کرو” کے پالیسی پر عمل پیرا تھے۔ اسی پالیسی کے تحت برٹش سرکار نے رفتہ رفتہ بلوچستان کو مختلف مصنوعی لکیروں کے نام پر تقسیم کیا۔ اس میں برٹش سرکار کا پہلا مقصد بلوچ قوم کی اجتماعی قوت کو منقسم و منتشر کرنا تھا اور ساتھ ہی شاہ ایران کو بھی اپنے زیر اثر لانا تھا تاکہ روس و جرمنی شاہ ایران کی مدد سے برٹش کالونیوں کی طرف پیش قدمی نہ کرسکیں۔ اسی غیر فطری تقسیم کے تکلیف دہ نتائج آج تک ہم بھگت رہے ہیں۔

مصنوعی لکیر کے دونوں اطراف ہمارا آمد و رفت، زریعہ معاش اور معمولات زندگی اب دونوں قبضہ گیر پاکستان و ایران کے ہاتھوں میں ہیں اور دنیا کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ قابض کبھی بھی مقبوض پر مہربان نہیں ہوتے ان کا ہر فیصلہ ظالمانہ ہوتا ہے تاکہ مقبوض کو مزید دبایا جا سکے اور زیر تسلط رکھا جاسکے۔ آج ماشکیل میں صورتحال یہ ہے کہ لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے رو رہے ہیں، سراپا احتجاج ہیں، ہماری بھوک و افلاس اور لاچاری کوئی آسمانی فیصلہ نہیں بلکہ یہ زمینی خداؤں کا فیصلہ ہے، یہی جابر ریاستوں کا فیصلہ ہے کہ ہمارے حالات ایسے ہیں۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ ماشکیل اس وقت شدید غذائی قلت کا شکار ہے، اشیاء خورد و نوش ناپید ہیں، لوگ دو وقت کی روٹی کیلئے سراپا احتجاج ہیں، گزشتہ کئی ہفتوں سے دھرنا بھی جاری ہے۔ یہ ابتر صورتحال کا پس منظر یوں ہے کہ پہلے مزہ سر کراسنگ پوائنٹ (گیٹ) سرحدی لکیر کے دونوں اطراف آمد و رفت و اشیاء خورد و نوش کے ترسیل کیلئے کھلا تھا جس میں ایک حد تک ایران سے ایشاء خورد و نوش کی ضرورت پوری ہوسکتی تھی۔ گزشتہ دو سالوں سے یہ کراسنگ پوائنٹ بلا وجہ بند ہے اور اس کے متبادل جو ضروریات خورد ونوش چاغی، نوشکی و دیگر متصل علاقوں سے آتے تھے اب ان علاقوں سے بھی حالیہ بارشوں و سیلابی ریلوں کی وجہ سے راشن کی ترسیل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اب عوام کا بالکل سادہ مطالبہ ہے کہ مزہ کراسنگ پوائنٹ کو دوبارہ کھولا جائیں تاکہ ہمیں کھانے کیلئے اشیاء خورد ونوش و دو وقت کی روٹی مل سکے۔

یہ بھوک، افلاس و لاچاری قدرتی حالات نہیں ہیں بلکہ پیدا کردہ ہیں۔ ماشکیل جیسے علم و آگاہی اور سیاسی شعور سے بے بہرہ شہر میں ہمیشہ ایسے حالات پیدا کئے جاتے ہیں۔ ایسے حالات کے فیصلے ایک ادارے سے ہوتے ہیں اور ان کے حل کا فیصلہ بھی اسی ادارے کا منتظر نظر ہوتا ہے۔ ماشکیل میں مسلسل ایسے حالات خود پیدا کئے جاتے ہیں اور ان کا حل بھی انہی کے پاس ہوتا ہے جیسے ایک سال پہلے ایک مسلئہ پیدا کیا گیا جس میں ٹوکن کے نام پر ماشکیل و دیگر علاقوں کے بیچ بالخصوص ماشکیل و دالبندین کے بیچ ایک جنگ چھیڑی گئی حتی کہ ہمارے سادہ لوح لوگ ایک دوسرے پر بندوق اٹھانے تک گئے، کاروبار رک گیا، ایک کا دوسرے علاقے میں جانا بھی ممنوع ہوا، سنگین نوعیت کے حالات تھے، لوگوں نے ہر طرح حل نکالنے کی کوشش کی مگر حل کا فیصلہ وہاں سے آیا جہاں سے آنا تھا۔ حالیہ مسلئے کا پس منظر بھی ایسا ہی ہے جہاں جوں ہی غزائی قلت کے کیلئے دھرنا شروع ہوا، لوگوں نے اشیاء خوردونوش کیلئے فریادیں کیں تب چند دن بعد اسی ادارے کے کارندے راشن تقسیم کرتے ہیں جس میں فوٹو سیشن سے یہی تعصور دیتے ہیں کہ جی ہمیشہ ایسے حالات میں ہم ہی آپ کے ہمدرد ہیں۔ اب لوگ جہاں بھی جائیں جیسے بھے آہ و زاری کریں مگر اس مسلئے کا بھی حتمی طور پر حل انہی کے قلعے سے ہی آئیگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔