فیض احمد بزدار سے شہید دلجان تک کا سفر ۔ بُزرگ بلوچ

402

فیض احمد بزدار سے شہید دلجان تک کا سفر

تحریر: بُزرگ بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

یہ ہر انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی طرح خود کی بہتری کیلئے دوسرے انسانوں کی اچھائی کیلئے اپنے آس پاس کے لوگوں کی بہتری کیلئے کچھ نہ کچھ کرنے کی جستجو میں لگا رہتا ہے۔ اب اسے دنیا بہتر کہے یا برا یہ ایک الگ بحث ہے یا پھر اسکے سوچنے کی صلاحیت اس قدر بلند ہوتے ہیں کہ وہ پورے سماج کی بھلائی اور اس میں مساواتی نظام لانے کیلئے ایک عملی جدوجہد کرنے کا ٹھان لیتا ہے ۔بعض لوگ اپنے اس جہد میں کامیاب ہوتے ہیں وہ ایک سماجی انقلاب لانے میں سُرخ رو ہوتے ہیں اور تاریخ میں امر ہوجاتے ہیں۔اسی طرح اس سماجی تبدیلی لانے میں اکیلے اس شخص کا ہاتھ نہیں ہوتا اس میں بےشمار لوگوں کا خون بہایا جاتا ہے لیکن بعد از تمام قربانیوں کے تاریخ میں اکثر تین کردار زیادہ تر زندہ و جاوید رہتے ہیں۔

ایک تو وہ کردار ہے جو اس انقلاب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے شروعات کرتا ہے اور خود فناءِ ہوجاتا ہے ، دوسرا وہ شخص جو بیچ راہ اس سماجی تبدیلی میں قربان ہوکر ایک نیا رُخ یا رُوح پھونک دیتا ہے جس سے مکمل راستہ تبدیل ہوجاتا ہے ، جس سے عام لوگوں کو منزل بہت قریب نظر آنے لگتا ہے۔ اسی طرح تیسرا کردار وہ ہے جو آخر لمحہ تک زندہ ہوتا ہے غازی ہوتا ہے اور دنیا انھیں بنگالی رہنما شیخ مجیب،چین کے رہنما ماؤزتنگ،فیڈل کاسترو، چئےگویرا، یا پھر تاریخ انھیں منڈیلا جیسے عظیم شخصیت کے نام سے رقم کرتی ہے ۔ اور لوگ انھیں مبارک باد دیتے ہیں کہ وہ اس عظیم مقصد میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اسی طرح جب میں دوستوں کی توسط سے فیض احمد کے بارے میں چند معلومات حاصل کیے ہیں تو میرے ذہن میں تاریخ کے ان عظیم رہنماؤں کے کردار دورہ کرنے لگئے جنہوں نے ہر اس عمل کی شروعات کی ہے جو عام آدمی کی نظر میں ایک ناممکن عمل جانا جاتا تھا۔ جس کی شروعات سے عام انسان کا جسم لرزتا ہے اور مجھ جیسے کمزور کا تو دل کانپتا ہے آنسو نکل آتے ہیں ۔لیکن ہمیں کبھی یہ یقین نہیں ہوتا ہے کہ ہمارے درمیان موجود انسان اپنے اندر کتنا بڑا طوفان لیا پھر رہا ہے اور وہ اس طوفانی منزل کا سامنا کرنے میں کتنا بے تاب رہتا ہے ۔اس لیئے ہم اپنے درمیان موجود ان شخصیت کی قدر نہیں جانتے۔

شہید فیض احمد کا تعلق کوہ سلیمان بلوچستان سے ہے انھوں نے میٹرک کا تعلیم اپنے گاؤں کے سکول سے حاصل کیا۔ وہاں سے وہ شال آئے مزید تعلیم کے سلسلہ میں گورنمنٹ کالج سریاب میں داخلہ لیا اور ہاسٹل میں قیام پذیر ہوئے اسی ہاسٹل میں بلوچ طلباءَ تنظیم بی ایس او آزاد میں شمولیت اختیار کیا، اور طلباءَ سیاست میں اپنے سیاسی زندگی کا آغاز کیا آزاد کی پیلٹ فارم نے فیض جیسے مضبوط انسان کے قدرتی صلاحیتوں کے مالک کا نظریہ اور فکر مزید پختہ کردیا اور انھیں بلوچوں کی حقیقی منزل کی نشان دہی کی۔ انٹرمیڈیٹ کرنے کے بعد معاشی مجبوریوں کی وجہ سے وہ مزید تعلیم حاصل نہ کرسکا اور اسلام آباد کے بلوچستان ہاؤس میں ایک سرکاری نوکری کرنے لگا۔ مگر وہ سرکاری نوکری اسلام آباد کی عیش وعشرت کی زندگی فیض کی نظریہ میں تَنکا برابر بھی فرق نہ لاسکے ۔ جنہیں حاصل کرنا شاہد عام آدمی کے زندگی کے مقصد ہوتا ہے ۔ اسی طرح سروس کے دوران ہی وہ بلوچ قومی تنظیم( بی ایل اے) کے دوستوں سے مسلسل رابطہ میں رہا ہے۔ سفر پہ جانے کیلئے ہمشیہ دوستوں سے درخواست کررہا تھا۔ ظاہری بات ہے ہرتنظیم یا ادارہ کے اپنے اصول و قوانین ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر ایک عام آدمی انکے صفوں میں شامل ہوسکتا ہے ۔تو فیض جان نے بھی انھی اصولوں کو اپنا کر دوستوں کے صف میں شامل ہوگیا ۔فیض جان کب سے دوستوں کے ساتھ رابطہ میں تھا؟ کس سے تھا؟ کب چلا گیا یہاں سے ؟ اس بارے میں کوئی واضح معلومات مجھے نہیں مل سکے کیونکہ کوسلیمان اور مکُران کے درمیان ایک طویل سفر ہے اس لیئے میرے معلومات حاصل کرنے میں دشواری ہے ۔ لیکن شہید فیض کے بارے میں اتنا ضرور سنا ہے کہ وہ اپنے علاقہ کا پہلا نوجوان ہے جس نے (بی ایل اے) میں شمولیت اختیار کیا اور ریاستی لغور فوج کے سامنے سینہ تان کے بندوق لیے لڑرہا تھا۔ فیض نے تنظیم میں شمولیت کے بعد کمانڈر کی ہدایت اور اصولوں کو اپناتے ہوئے اپنا نام دلجان رکھا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ شہید دلجان زہری کی شخصیت اور عمل سے متاثر تھا ۔ اور آخرکار فیض کو بھی دلجان کی طرح دشمن سے دوبدو لڑنے اور شہادت حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

یہ 13 نومبر کے صبح کا وقت تھا کہ پورا بلوچستان اور بلوچ قوم یومِ شہدا بلوچستان کی تیاریوں میں مصروف تھا۔ شال میں کئی شہدا کے خاندان ماما قدیر کے کیمپ کی جانب جارہےتھے اپنے پیاروں کی تصویریں لیے جن کی لاشوں کو ریاست نے مسخ کرکے ویرانوں میں پھینک دیا ہے ۔اسی سال بھی ریاست نے کئی لاپتہ افراد کو مسخ شدہ لاش کی شکل میں انکو واپس کردیا ۔ اب اس تیرہ نومبر میں بھی ماما کے کیمپ میں ہر سال کی طرح شہدا کی تصویروں میں اضافہ ہونا تھا ۔ جب میں نے صبح سویرے TBP(دی بلوچستان پوسٹ) کے پیج کا وزٹ کیا تو سب سے پہلے جیئند کا بیان سامنے آیا جس میں( بی ایل اے) کے تین ساتھیوں کی شہادت کو بیان کیا گیا ۔ اور تینوں میں کوہ سلیمان سے تعلق رکھنے والے ایک شہید فیض احمد بزدار عرف دلجان کا نام بھی شامل تھا جسے پڑھ کر میں بلکل حیران ہوگیا کہ کوہ سلیمان بلوچستان کا وہ ایریا جہاں لفظ مزاحمت کو گناہ عظیم سمجھا جاتا اور خاص کر بزدار بلٹ میں تو سرکار کو کبھی یہ امید نہیں تھی کہ یہ لوگ بھی کبھی اس طرح کے راستوں کا انتخاب کریں گئے ۔ حقیقت میں دلجان کی شہادت کا سن کر بہت دکھ ہوا لیکن دوسری جانب ایک امید کی کرن بھی دکھائی دئ۔ کہ دلجان نے وہاں کے لوگوں کی آنکھوں سے پٹی دور کردیا انکے آنکھوں کے سامنے جو دھول تھا ۔وہ اپنے پاک خون سے صاف کردیا ۔ ایک شمع جلا کر انکو قربانی کا حقیقی راستہ دکھایا۔ انھیں بلوچ ہونے کا شرف بخشا اور خود بلوچ ہونے کا ثبوت دیا ۔کیونکہ اس سے پہلے ہمارے مکُران کے لوگوں نے بزدار بلوچوں کو صرف ایف سی میں یا سرکاری دلالی میں ہوتے سنا ہے اسلئے وہ بزدارؤں کو شاید مکمل بلوچ ہی نہیں سمجھتے تھے۔لیکن دلجان نے اپنے خون سے ثبوت دیا کہ ہم ہلمند سے مکُران تک اور مکُران سے لیکر ڈی جی خان تک صرف بلوچ ہیں ایک درد کے مالک ایک ہی باپ کے اولاد ہیں ایک ہی دشمن کے مارے ہیں۔ باقی یہ جو بیچ کے فتوے ہیں یہ صرف ہمیں تقسیم کرنے اور ہم پر حکمرانی کرنے کے بہانے ہیں جو دلجان کے خون نے بہتی گنکا میں ڈال دیے ۔اب ہم مکُران کے بلوچ بھی سمجھ گئے ہیں کہ بزدار صرف ایف سی یا ایم آئی کے نہیں بلکہ وہ( بی ایل اے ، بی ایل ایف) کے بھی سپاہی ہیں۔ وہ بھی فیض سے دلجان تک کا سفر جانتے ہیں ۔

شہید فیض عرف دلجان نے کوہ سلیمان میں بلوچیت کا شمع جلا کے رکھ دیا۔ راستہ روشن کردیا اندھیروں کو مٹا دیا راہگیروں کو راستہ بتا دیا۔ نوجوانوں کو جذبہ شہادت کا جام پلا دیا۔ فیض نے اپنا کام کردیا ۔ فیض اب فیض نہیں بلکہ وہ کوہ سلیمان کا حمید ہے مجید ہے آغاکریم ہے بابو نوروز ہے سفرخاں ہے اب وہ شاری ہے سمیعہ ہے اب وہ استاد کا ریحان جان ہے ۔ اب یہ وہاں کے نوجوانوں پہ ہے کہ وہ شمع فیضی کو جلاتے رہیں گئے اس میں تیل ڈالتے رہیں گئے فدا ہوتے جاتے جائیں گے ۔یا پھر اس روایتی زندگی گزارنے میں خود کو عادی رکھیں گئے ۔ اُمید پہ دنیا قائم ہے مجھے امید ہے کہ اب یہ چراغ فیض سے اگر دلجان ہوسکا تو یہ چراغ کل کو ریحان و شاری ، درویش و مجید ہونے میں بھی دیر نہیں کرے گا۔

فیض جان بھی تاریخ کے انھی کردارؤں میں سے ایک ہے ۔ جو ہمیشہ انسانی تاریخ کے زینت رہے ہیں۔ جنہوں نے ہمیشہ سے ہر نامکمن کو ممکن بنانے میں اولی کردار ادا کیا ۔دلجان بھی سقراط ہے جس نے ایک نظام کے بدلنے کی خاطر خود اپنے ہاتھ زہر کا پیالہ نوش کیا ۔ دلجان بھی شہید حمید بلوچ ہے جس نے ایک غلام قوم کی آنکھیں کھولنے کیلئے پھانسی کا پندا چوما ، دلجان فدا ہے حمل ہے جیند ہے دلجان کوہ سلیمان کیاُمید ہے ۔ کیونکہ ان تعلق بلوچستان اس خطہ سے جہاں لوگ کبھی بھی لفظ مزاحمت سے واقف نہ تھے ۔ اور شاہد ہو بھی نہیں سکتے تھے اگر فیض اپنے اعصابی اور ذہنی قوتوں سے یہ سب کچھ کر نہ گزرتا۔ یہ اس نوجوان خوب روح باکردار انسان کی قربانی ہے کہ آج کوہ سلیمان کا بچہ بچہ قربانی کا حقیقی راستہ جان چکا ہے ۔شاہد اس پہلے وہاں کے لوگوں کو اختر اور مالک کی پارلیمانی سیاست کو ذریع نجات بنا کر پیش کیا گیا۔ لوگوں کی بےشعوری کا عالم یہ تھا کہ وہ اخترجان اور مالک کی پارٹی ٹکٹ ملنے سے خود کو شہید بالاچ ،نواب بگٹی یا غازی بابامری سمجھتے تھے۔لیکن اب ایسا نہیں ہے ۔ یقیناََ ایسا نہیں ہے۔

فیض نے ان سارے کاغذی فلسفوں کو رد کر دیا جو بند کمروں میں گرم بستروں میں لزیذکھانے پیش کیئے جاتے رہے ۔ فیض نے فیض بزدار سے لیکر شہید فیض احمد عرف دلجان بلوچ کا طویل سفر طے کرکے سادہ لوح بزدارؤں کو ایک حقیقی بلوچ ہونے کا درس دیا۔بلوچ قومی نجات کا عملی جامہ پہنا دیا۔ بلوچیت کے فرض نبھانے کا طریقہ درس واضع کردیا ۔ بس یوں ایک نوجوان نے کوہ سلیمان کے سرسبز پہاڑؤں سے نکل کر بولان کے سنگلاخ چٹانوں کے درمیان آبشارؤں میں اپنا خون شامل کرکے بلوچیت کا ثبوت دیا ۔ ہمیشہ کیلئے امر ہوگیا، پھر یہاں سے فیض احمد بزدار سے دلجان بلوچ تک طویل سفر مکمل ہوگیا۔اور صبح ہوگئی۔ (دُن کہ فیض دلجان اَس کڑد اَٹی بولان اس)


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔