فورسز زیادتیوں کے خلاف چاغی کے بعد دالبندین میں شہریوں کا احتجاج

115

بلوچ یکجہتی کمیٹی کے زیر اہتمام دالبندین میں احتجاجی ریلی اور پریس کلب کے سامنے مظاہرہ، سیاسی و سماجی تنظیموں کے ہمراہ شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئے۔

مظاہرین کا اس موقع پر کہنا تھا بلوچوں کا استحصال کیا جارہا ہے ریکوڈک اور سیندک پروجیکٹ میں یہاں کے نوجوانوں کی بجائے پنجاب سے لوگوں کو بھرتی کی جارہی ہے اگر کوئی بلوچ سرحد سے جاکر روزی روٹی کے لیے کام کرتا ہے اسے چھوڑتے نہیں بلکہ اس کے چپل اتار کر گرم زمین پر اسے کھڑا کرتے ہیں اس طرح کے ظلم اور نا انصافی کسی صورت برداشت نہیں-

اس موقع پر بی ایس او پجار کے سابق چیئرمین زبیر بلوچ ،عامر بلوچ ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا صوبائی اسمبلی میں بیٹھے لوگ ہمارے عوامی نمائندے نہیں وہ فروخت ہوچکے ہیں بلوچستان کے مال منڈی کے سودا گر ہے ریکوڈک پروجیکٹ میں بھی بلوچ نوجوانوں کے لئے روزگار کے دروازے بند کر رکھے ہیں-

انکا کہنا تھا ضلع کے اندر پینلز کی سیاست عوام کو انکے بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کی ایک سازش ہے بلوچ قوم کو اپنے حق اور حقوق کے لیے آواز اٹھانی ہوگی کوئی بھی ہماری آواز کو دبا نہیں سکتا ہے ہر فورم پر ہم اپنے حق حقوق کے لیے آواز اٹھائیں گے۔

مقررین نے مزید بتایا پاک افغان بارڈر پر ڈرائیوروں کے ساتھ جو ظلم کیا ہے اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اگر کوئی چاہتا ہے کہ ہم ظلم بھی کرینگے اور خاموش بیٹھنے کا کہہ دینگے یہ ناممکن بات ہے-

ریلی میں بی این پی، نیشنل پارٹی اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ارکان شریک تھے-

دالبندین و چاغی میں سرحدی کاروبار سے منسلک افراد پاکستانی فورسز کی جانب سے ہراسگی بھتہ خوری و دیگر عوامل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں آج صبح ہی شہریوں و سیاسی تنظیموں کی جانب سے پاکستانی فورسز کے خلاف احتجاجاً نوکنڈی باب عمر کے پاس روڈ مکمل طور پر بند کر دیا تھا-

مظاہرین کے مطابق گذشتہ روز دو مقامی افراد کی گاڑیوں کے انجن میں پاکستانی فورسز نے ریت ڈال کر انہیں ننگے پاؤں گرم ریت پر کھڑا کر دیا جس کے باعث دونوں کے پاؤں بری طرح جھلس گئے تھیں-