دکی: یکے بعد دیگر دو دھماکے، سی ٹی ڈی اہلکار ہلاک، 15 زخمی

340

بلوچستان کے علاقے دکی کے ٹھیکدار ندی میں یکے بعد دیگرے دو بارودی سرنگ کے دھماکوں میں کاؤنٹر ٹیررازم کا ایک اہلکار ہلاک جبکہ سی ٹی ڈی اہلکاروں سمیت 15 افراد زخمی ہوگئے۔

ایس ایچ او جلیل احمد مری کے مطابق بارودی سرنگ کا پہلا دھماکا ٹرک پر ہوا، جس کے بعد لوگوں کے جائے وقوع پر اکٹھے ہونے پر دوسرا دھماکہ ہوا۔

اطلاعات کے مطابق ہلاک و زخمی افراد میں سی ٹی ڈی اہلکار بھی شامل ہیں۔

بارودی سرنگ کے دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کردیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے متعلق تحقیقات شروع کردی گئی ہے، تاہم واقعہ کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

یہ دھماکے ایسے وقت ہوئے ہیں جب دو روز قبل ہی دکی میں زندہ پیر کے مقام پر مسلح افراد نے پاکستان فوج کی گاڑیوں کو حملے میں نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں حکام نے جانی نقصانات کی تصدیق کی تھی۔

مذکورہ حملے کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔ تنظیم کے ترجمان جیئند بلوچ کا کہنا تھا کہ قابض پاکستانی فوج بلوچ وسائل کی لوٹ مار کیلئے مذکورہ علاقے میں مقامی کاسہ لیسوں پر مشتمل امن لشکر کے نام سے ایک ڈیتھ اسکواڈ قائم کرچکا ہے، جسکا مقصد بلوچ وسائل کے لوٹ مار کو یقینی بنانا اور سرمچاروں کیخلاف صف بند ہونا ہے۔

انہوں نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی دشمن کے زرخرید ان مقامی کاسہ لیسوں کو یہ تنبیہہ جاری کرتی ہے کہ اگر وہ بلوچ سرمچاروں و بلوچ قومی مفادات کیخلاف دشمن کے ساتھ صف بند ہوئے تو ان پر شدید نوعیت کے حملے کیئے جائینگے۔