بلوچ انقلابی رہنما بابو شیرو مری کی جدوجہد ناقابل فراموش ہے۔ این ڈی پی

91

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بلوچ رہنما بابو شیرو مری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیر محمد مری عرف شیرو مری ترقی پسند بلوچ رہنما تھے جنکا شمار دنیا کے جانے مانے انقلابیوں میں ہوتا ہے جنکی مشقت بھری زندگی، طویل جدوجہد ، اور پختہ نظریہ نوجوانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ آپ نے کئی سال جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ محض بنیادی تعلیم حاصل کرنے کی بنیاد پر بھی آپ پختہ نظریے کے مالک، ادیب، محقق بھی تھے اور آپکے علمی بشارت سے کئی نوجوان با شعور ہو کر بلوچ قومی تحریک کا حصہ بن کر قومی حقوق کی جدوجہد میں شامل ہوئے۔

ترجمان نے کہا کہ انہوں نے سیاسی جدوجہد کا آغاز ریاست قلات کی آزاد حیثیت کی بحالی اور بعدازاں جبری الحاق سے کئی سال قبل شروع کیا تھا مگر ایوبی آمریت کے دور میں بلوچ حقوق کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تحاریک کے مشاہدے اور انقلابیوں کے نقش قدم پر چل کر بلوچستان میں گوریلا جدوجہد کی بنیاد رکھی۔ حیدرآباد سازش کیس میں بھی دیگر بلوچ رہنماؤں کے ساتھ پابند سلاسل بھی رہے۔ افغانستان جلا وطنی کے دوران بابو شیرو مری بلوچ کا شمار بلوچ رہنما کے بطور بلخصوص نواب خیر بخش مری کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ افغانستان میں سویت حکومت کے جانے کے بعد خانہ جنگی کے دوران وطن واپسی پر بھی خاموش نہ ہوئے بلکہ بلوچ وسائل کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھا، آپ زندگی کے آخری وقت تک اس نظریے پر ڈٹے رہے کہ” ہمیں بھیک نہیں ہماراحق چاہیے”۔

ترجمان نے بیان کے آخر میں کہا کہ بابو شیرو مری کی زندگی طویل جدوجہد کی داستان آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہے جس پر کاربند ہو کر بلوچستان میں نوآبادیاتی اور سامراجی نظام کو شکست دے کر بلوچ قومی بقا، تشخص کی حفاظت اور بلوچ سماج کا وقار بلند کر سکتے ہیں۔