بلوچستان شاہراؤں پر موت کا بازار گرم، بسیمہ واقعہ پر تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ بی ایس او

88

بلوچستان میں آئے روز سڑک حادثات سے بلوچستان کے ہر گھر میں ماتم ہے جس کا ازالہ ضروری ہے – بی ایس او

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے چیئرمین بالاچ قادر بلوچ کا بی ایس او کے سینئر وائس چیئرمین نزیر بلوچ، سینیئر جوائنٹ سیکریٹری مقبول بلوچ، سیکریٹری اطلاعات شکور بلوچ اور مرکزی کمیٹی کے رکن بیبگر واحد بلوچ کے ہمراہ سانحہ بیسمہ کے حوالے سے پریس کانفرنس، واقعہ پر تحقیقاتی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کیا۔

کوئٹہ پریس کلب میں بی ایس او رہنماؤں نے صحافی کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کل بسیمہ میں انتہائی دردناک حادثہ پیش آیا، جس کے بعد آج بلوچستان کا ہر فرد اور گھر سوگ میں ہے اور متعدد بلوچ اس حادثے میں جان کی بازی ہارگئے ہیں-

چیئرمین بالاچ بلوچ نے کہا ہے کہ سی پیک روٹ پر موٹ کا بازار گرم ہے بلوچستان میں مرکزی شاہراؤں پر پیش آنے والے حادثات قدرتی نہیں بلکہ صوبے میں ناقص روڈ اور حکومتی چیک ان بیلنس نا ہونا ایک اہم وجہ ہے، روزانہ کے حادثات میں کئی اہم جانیں ضائع ہوجاتی ہیں اسکے باوجود کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاتی-

بی ایس او رہنماؤں نے کہا کہ بسیمہ حادثے کے بعد حکومتی دعوے جھوٹ کا ملبہ ہے، حادثہ ڈھائی بجے ہوا انتظامیہ غائب تھی اور مقامی و زخمی لوگ اپنے مدد آپ کے تحت لوگوں کو نکال رہے تھیں اور حادثے کے بارے لوگوں کو سورج نکلنے کے بعد لوگوں کو پتا چلا اور انتظامیہ صبح 10 بجے پہنچی-

انہوں نے کہا ہے کوئٹہ کیچ روٹ پر کوئی موٹروے، پولیس کا کوئی اہلکار موجود نہیں ہوتا اور اس اس پوری روٹ پر کوئی میڈیکل سینٹر بھی نہیں، حکومت کے بعد ٹرانسپورٹرز کا بھی لوگوں کے قتل میں حصہ ہے جو ناقص گاڑیوں اور مواد کا استعمال کرتے ہیں-

بی ایس او رہنماؤں نے کہا ہے کہ حکومت اس حوالے سے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے جو واقعہ کے پہلے اور بعد کے تمام حقائق سامنے لائے اور کوئٹہ کیچ روٹ پر انتظامات کئے جائیں۔