بلوچستان: خواتین پر گھریلو تشدد میں اضافہ – نیشنل کمیشن کی رپورٹ

82

قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی پاکستان بھر میں شادی شدہ خواتین پر شوہروں کی جانب سے تشدد سے متعلق ہونے والے واقعات کی رپورٹ جاری کر دی ہے-

‎قومی کمیشن برائے وقار نسواں کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شادی شدہ خواتین کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں بلوچستان سب سے زیادہ متاثرہ خطہ بن کر ابھر رہا ہے، گذشتہ سال بلوچستان میں شوہروں کے ہاتھوں جسمانی زیادتی کے 199 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں۔

رپورٹ کے مطابق خواتین پر تشدد کے حوالے سے پاکستانی صوبے خیبرپختونخوا دوسرے نمبر پر ہے جہاں شادی شدہ خواتین کے ساتھ ذہنی اور جسمانی زیادتی کے 179 واقعات رپورٹ ہوئے۔ پنجاب میں 103 خواتین کو ان کے شریک حیات نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ سندھ میں گھریلو تشدد کے 60 واقعات رپورٹ ہوئے۔

واضح رہے بلوچستان میں خواتین گھریلو تشدد کے علاوہ غیرت کے نام قتل کے واقعات سنگین ہوتے جارہے ہیں رواں ماہ غیرت کے نام پر قتل کے پانچ واقعات پیش آئے ہیں-

‎رواں سال کے پانچ ماہ میں دی بلوچستان پوسٹ کو بلوچستان کے مختلف اضلاع سے غیرت کے نام پر قتل کے چھ واقعات کے رپورٹ موصول ہوئی ہیں ان واقعات میں 12 افراد قتل ہوئے ہیں جن میں پانچ مرد اور سات خواتین شامل ہیں-

مزید برآں سیاسی و سماجی حلقوں کے مطابق فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگیوں، گھروں پر چھاپوں، چیک پوسٹوں پر بلوچ خواتین ہراسگی کا سامنا کرتے ہیں جبکہ ان واقعات میں انہیں تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔