‘افغانستان بشام حملے کے منصوبہ سازوں کو حوالے کرے’ – پاکستان

242

پاکستان نے افغانستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بشام حملے میں ملوث تحریک طالبان پاکستان کے عسکریت پسندوں کو حوالے کر دے۔ وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ چینی انجنیئرز کو نشانہ بنانے کے لیے افغان سرزمین کا استعمال کیا گیا تھا۔

پاکستان میں سیکورٹی سے متعلق اعلی عہدیداروں نے اتوار کے روز کہا کہ بشام میں 26 مارچ کو چینی انجینئروں پر ہونے والے خودکش حملے میں، افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی قیادت اور غیر ملکی دشمن کی خفیہ ایجنسیاں ملوث تھیں۔

لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور اسے پاکستان میں مقیم ہینڈلرز اور سہولت کاروں کی مدد سے انجام دیا گیا۔ اس حملے میں چین کے پانچ انجینئرز اور ان کا ایک پاکستانی ڈرائیور ہلاک ہو گیا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حملہ ”مکمل طور پر” افغانستان سے کیا گیا تھا اور اس کا منصوبہ خاص طور پر پاکستان میں چینی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا تھا۔

حملے میں ملوث افراد کی حوالگی کا مطالبہ

وزیر داخلہ محسن نقوی نے لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”ٹی ٹی پی کی قیادت نے اس حملے کی منصوبہ  بندی ایک اہم منصوبے کے طور پر کی اور دشمن کی خفیہ ایجنسیوں نے انہیں اس حملے کے لیے بھاری قیمت بھی ادا کی۔”

ان کا مزید کہنا تھا، ”ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ طالبان کی عبوری حکومت ٹی ٹی پی کے رہنماؤں، بشمول اس کے سربراہ نور ولی محسود کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کرے، تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات برقرار رہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی عبوری حکومت بختیار شاہ، قاری عبداللہ اور خان لالہ نامی تینوں مبینہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور اس کے مالاکنڈ کے کمانڈر عظمت اللہ سمیت گروپ کی پوری قیادت کو گرفتار کیا جائے۔

انہوں نے کہا، ”ہم افغانستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان افراد کو گرفتار کریں، ان پر مقدمہ چلائیں یا انہیں ہمارے حوالے کر دیں۔”

یکطرفہ کارروائی کی تنبیہ

اسلام آباد افغانستان میں مقیم ٹی ٹی پی کی قیادت کے خلاف کارروائی کے لیے کابل پر کافی دنوں سے زور ڈالتا رہا ہے، تاہم ابھی تک اس کے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں اور ان تازہ انکشافات سے دونوں پڑوسیوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات کے مزید کشیدہ ہونے کی توقع ہے۔

وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا، ”پاکستان نے یہ مسئلہ افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ اٹھایا اور اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ وہاں سرگرم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے، لیکن ابھی تک، ہمیں اس کا کوئی اچھا نتیجہ نہیں ملا ہے۔”

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد ”عبوری افغان حکومت کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔”

جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا کہ اگر افغان حکومت تعاون نہیں کرتی ہے تو پھر پاکستان کیا کرے گا؟ اس پر محسن نقوی نے کہا کہ ”پھر حکومت یکطرفہ فیصلہ کرے گی۔”

واضح رہے کہ پاکستان نے بشام میں چینی انجینئروں پر حملے کی تحقیقات کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا، جس کی تفتیش کے بعد یہ انکشافات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے بشام میں 26 مارچ کو ایک ڈیم کے مرکزی تعمیراتی مقام پر کام کرنے والے چینی ورکروں کی گاڑی پر ہونے والے خوُد کش حملے میں پانچ چینی کارکنوں سمیت گاڑی کا پاکستانی ڈرائیور بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

اس واقعے کے دوسرے روز ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کی مذمت کرتے ہوئے تمام رکن ممالک پر زور دیا گیا تھا کہ وہ خیبر پختوانخواہ کے شہر بشام میں ہونے والے اس حملے کے ذمہ داروں کو پکڑنے میں پاکستان اور چین کے ساتھ فعال تعاون کریں۔