گیارہ سال گذرنے کے بعد بھی اپنے والد کی بحفاظت رہائی کے منتظر ہیں – اسما بلوچ

190

جبری لاپتہ آواران کے رہائشی جمیل احمد کی بیٹی اسما بلوچ نے کہا ہے ہماری کائنات (بابا) کو فورسز نے 29 اپریل 2013 کو گھر سے حراست میں لینے کے بعد جبری لاپتہ کر دیا تھا۔ 11 سال گذر چکے ہیں، ہم اب بھی اپنے بابا کی بحفاظت رہائی کے منتظر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ والد ایک سائبان شفقت ہے جس کے سائے میں اولاد پروان چڑھتے ہیں۔ باپ کے ہوتے ہوئے اولاد خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ میرے والد کے جبری گمشدگی کو 29 اپریل کو 11 سال کا طویل عرصہ مکمل ہورہا ہے، میں اپیل کرتی ہوں کہ تمام انسان دوست افراد میرے والد کی باحفاظت بازیابی میں میرا ساتھ دیں۔ کل 29 اپریل کو شام 6 بجے سے 12 بجے تک مائیکرو بلاگنگ کی سائٹ ایکس پر جمیل احمد کی باحفاظت بازیابی کے لئے مہم چلائی جائے گی۔

بلوچ وائس فار جسٹس کی جانب سے تمام سیاسی و سماجی اور سوشل میڈیا و انسانی حقوق کے کارکنوں سے اپیل کی گئی ہے وہ کمپین میں شامل ہوکر اسما بلوچ کے والد کی باحفاظت بازیابی کے لئے آواز اٹھائیں ان کے خاندان کی آواز بنیں۔