چین کے لیے جاسوسی کا الزام، جرمنی میں تین مشتبہ ملزم گرفتار

97

شہر کارلسروہے میں قائم  وفاقی دفتر استغاثہ کے حکام نے بتایا کہ تھوماس آر نامی ایک جرمن باشندے کے علاوہ ایک مقامی جوڑے ‘ہیروگ اور اینا ایف‘ کو پیر کے روز باڈ ہومبرگ اور ڈسلڈورف سے گرفتار کیا گیا۔ تھوماس آر چین میں ایک انٹیلیجنس افسر کا ایجنٹ مبینہ ہے اور اس نے چین کی طرف سے تفویض کردہ ذمہ داری کے تحت ایسی جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں معلومات حاصل کیں، جنہیں عسکری طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جاسوسی کے عمل کے معاونین

جرمنی میں جدید ٹیکنالوجیز کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے عمل میں تھوماس آر نے جوڑے ‘ہیروگ اور اینا ایف‘ سے مدد حاصل کی۔ یہ جوڑا جرمنی کے اقتصادی اور کاروباری مرکز سمجھے جانے والے شہر ڈسلڈورف میں ایک کمپنی چلاتا رہا ہے۔ وفاقی دفتر استغاثہ کے مطابق یہ کمپنی جرمنی کے سائنس اور تحقیق کے شعبوں کے نمائندوں کے ساتھ رابطہ کاری اور تعاون کے لیے ایک اہم ذریعے کے طور پر کام کرتی ہے۔ اس جوڑے نے سائنسی معلومات کی منتقلی کے لیے ایک جرمن یونیورسٹی کے ساتھ تعاون کا معاہدہ اپنی کمپنی کے تعاون سے طے کیا تھا۔

جن سائنسی معلومات کی جاسوسی کا منصوبہ بنایا گیا تھا، ان کے پہلے مرحلے میں مشینی پرزوں کی صورتحال کا مطالعہ کیا جانا تھا۔ یہ مشینی پرزے طاقت ور جہازوں کے انجنوں کے لیے بھی اہم ہیں، مثال کے طور پر یہ جنگی جہازوں میں بھی استعمال میں آتے ہیں۔ اس معاہدے کے چینی پارٹنر یا شراکت دار  کے پیچھے چین کی خفیہ سروس کے اراکین کا ہاتھ ہے جبکہ اس منصوبے کی مالی معاونت بھی چینی ریاستی ایجنسیوں نے کی تھی۔

گرفتاریاں ایک اہم وقت پر عمل میں آئیں

ان تینوں زیر حراست مشتبہ جرمن شہریوں کی گرفتاری ایک ایسے وقت پر عمل میں آئی جب ملزمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پہلے ہی تحقیقی منصوبوں کے بارے میں مزید مذاکرات کر چکے تھے اور یہ منصوبے ”خاص طور پر  چین  کی بحری جنگی طاقت  میں اضافے کے لیے کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں۔‘‘

مزید یہ کہ انہوں نے چین کی طرف سے ایک خصوصی لیزر بھی خریدا اور اسے  بغیر اجازت چین کو برآمد بھی کیا تھا۔

الزامات کیا ہیں؟

ان تینوں جرمن باشندوں پر چین کی خفیہ سروس کے ایجنٹوں کے طور فارن ٹریڈ ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔

کارلسروہے میں قائم  وفاقی دفتر استغاثہ کی اطلاعات کے مطابق انہیں پیر اور منگل کو فیڈرل کورٹ آف جسٹس میں ایک تفتیشی جج کے سامنے پیش کیا جائے گا جہاں اس امر کا فیصلہ ہو گا کہ آیا ان پر مقدمے کا سلسلہ شروع ہونے سے پہلے انہیں حراست میں رکھا جائے یا نہیں۔

اطلاعات کے مطابق گرفتاری کے وقت ان ملزمان کے گھروں اور کام کی جگہوں کی تلاشی بھی لی گئی۔